بادشاہ عادل
اس وقت تقریبا دنیا کے بیشتر ممالک میں امریکہ کا سرمایہ داری نظام غالب ہے اور تیسری دنیا اسی نظام کی بدترین شکل ہے جہاں Global South کے ممالک کی معشیت کو عالمی ادارے آئ ایم ایف ، ورلڈ بنک ، ڈبلیو ٹی او اور سیاست کو پنٹاگان کنڑول کر رہا ہے ۔ جو ملک بھی امریکہ کے neo- colonial world order سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اس پر جنگ یا فرقہ واریت کو مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ ایران بھی ان ہی ممالک میں شامل ہے جس نےامریکہ کے neo- colonial world order کو ماننے سے انکار کیا ہے آج ایران وہی سزا بھگت رہا ہے ۔ cold war era میں امریکہ سے مقابلہ کرنے صلاحیت رکھنے والا واحد ملک روس تھا اور روس کے لیے یونیورسٹی آف نبراسکا کا تیار کردہ اسلامی سلیبس کا استعمال کیا جس سلیبس سے طالبان اور القاعدہ کو روس کےخلاف کھڑا کیا اور شکست دی اور امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور بن گیا اب دنیا میں اس کو کوئ دشمن چاہیے تھا جس کے خلاف کاروائ کر کے دنیا کے وسائل کو لوٹ سکے تو مشن مکمل ہونے کے بعد ان ہی ط البان اور القاعدہ کو دشت گرد بنا کر دشت گردی کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ پھر القاعدہ کا updated ورژن تیار ہوا جس کو داعش کا نام دیا گیا ۔ اسی داعش کے زریعے لیبیا ، شام ، عراق ، سوڈان اور دیگر ممالک کے وسائل پر قبضہ کیا گیا ۔ آج وہی داعش افغانستان سے پاکستان کے خلاف بھی استعمال ہو ریی ہے ۔ آج چین اک نئی طاقت بن کر ابھر رہا ہے جو امریکہ کا مقابلہ ہر محاذ پر کر سکتا ہے امریکہ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتا ہے اور ایک ایک کر کے اس کے اتحادی ممالک پر اپنے الہ کار حکمران مسلط کرتا جا رہا ہے ۔ ایشیا میں جنگیں مسلط کر کے چین کے بڑے پروجیکٹس مثلا ۔
BRICS +
Shanghai Cooperation Organisation (SCO)
China-Laos Railway,
Sihanoukville Special Economic Zone ,
Asian Infrastructure Investment Bank (AIIB), Regional Comprehensive Economic Partnership (RCEP)
Belt and Road Initiative (BRI)
BRICS bank
کو روکنا چاہتا ہے جو امریکہ کے neo- colonial world order کے لیے خطرہ ہیں . اگر asian countries بھی یورپین یونین کی طرح ایکAsian Union بن جاتا ہے تو یہ خطہ ترقی کرنا شروع کر دے گا اس لیے اس ریجن میں امریکہ کے لیے جنگ لازمی ہے ۔
آج ہھر امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے فرقہ وارانہ انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران سعودی عرب پر شیعہ اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے، جس کا مطلب یہ کہ عرب ممالک کو بھی جنگ میں دھکیل دیا جاۓ اب اہل بصیرت سمجھ چکے ہیں شیعہ سنی اختلاف کے پیچھے امریکہ ہے ۔وگرنہ صدیوں یہ اختلاف علمی رہا ہے ۔ دوسری طرف کرد مجاہدین کو ایران کے خلاف تیار کیا جا رہا جہاں اب ترکی کا کردار بڑا اہم کردار ہو گا۔ اگر ایران یہ جنگ جیت جاتا ہے تو باقی عرب اور ایشیا کے ممالک کو بھی حوصلہ ملے گا کہ وہ امریکہ کی غلامی کے خلاف جدوجہد کریں اور امریکہ کا رعب ان ممالک پر کم یو جاۓ گا اور ایشیا اک نئی طاقت بن کر ابھرے گا۔
واپس کریں