دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عمران خان کی خوش فہمیاں اور حقائق
No image کسی سے بھی یہ کھلی حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ2018 کے عام انتخابات کے پی ٹی آئی ٹکٹ بنی گالا میں بیٹھ کر کس نے تقسیم کیئے اور کن لوگوں نے فون کر کے خان کو کہا کہ فلاں حلقے کا ٹکٹ فلاں شخض کو الاٹ کریں کہ”اپنا بندہ“ ہے۔یہ حقیقت بھی اب کوئی راز نہیں رہی کہ بغضِ نواز میں آ کر پی ٹی آئی کے مردہ گھوڑے میں کن لوگوں نے جان ڈال کر اسے دوڑنے کے قابل بنایا تھا اور یہی نہیں بلکہ بعد ازاں پسِ پردہ رہ کر اور کسی حد تک سامنے آ کر بھی پی ٹی آئی حکومت کون چلاتا رہا۔ قصہ مختصر کہ کنٹینروں سے لے کر اور اقتدار دلانے تک عمران خان اور پی ٹی آئی کو کون کون اور کن کن طریقوں سے چلایا جاتا رہا نہ پہلے کسی سے پوشیدہ تھا اور نہ اب ہے۔
یہ ناچیز پہلے بھی سوال اٹھاتا رہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت اتنی ہی ملک دشمن ہے اور حالیہ پاک بھارت جنگ میں ریاست مخالفت بیانیہ چلاتی رہی ہے تو اس پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟اس سوال کا جواب بھی خاکسار ساتھ ہی پیش کرتا رہا ہے کہ جنہوں نے پی ٹی آئی پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے وہ اپنی اس جماعت کو ہاتھ سے نہیں نکلنے یا ضائع نہیں ہونے دیں گے اور مقصد وہی کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سر پر پی ٹی آئی کی تلوار لٹکائے رکھنا ہے کہPTI،آئی کہ آئی،سب مارے جاو گے،شیر آیا کہ آیا، یا خان نہیں چھوڑے گا،وغیرہ وغیرہ۔
قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو بڑی سیاسی جماعت پیش کر کے سرمایہ کاروں نے8 فروری کے عام انتخابات میں خان کو یہ بھی بتا دیا کہ اس کے تصویر اور بلے کے نشان کے بغیر بھی وہ پی ٹی آئی چلا سکتے ہیں۔(اپنے بندے موجود ہیں)
سرمایہ کاروں نے خان کو یہ بھی باور کروا دیا ہے کہ امریکی صدر سمیت دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے جیل سے باہر نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ خود نہ چاہیں اوراگلوں نے خان کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ اگر اپنا پالتو گھوڑا باغی ہو جائے یا پھر کسی کام کا نہ رہے تو اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
پلانB کے مطابق اس وقت اس بات پر ورکنگ جاری ہے کہ پی ٹی آئی کا نیا سربراہ کسے بنایا جائے؟شاہ محمود قریشی،بیرسٹر گوہر اور گنڈا پور سمیت مختلف نام زیرِ غور ہیں اور جیسے ہی یہ طے ہو جائے گا، آپ دیکھئے گا کہ خان کے مقدمات اور سزاؤں کا فیصلہ بھی سنا دیا جائے گا۔26ویں آئینی ترامیم اور سیولین مقدمات کو ملٹری کورٹس میں چلانے کا اہتمام ویسے ہی نہیں کیا گیااور اب تو اصل فیصلہ ساز فیلڈ مارشل بھی بن گئے ہیں جن سے متھا لگانا ہر کسی کو مہنگا پڑے گا۔
خان صاحب کی خوش فہمی اب دور ہو چکی ہے کہ عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے۔ شاعر پراس شعر کی آمد بھی شاید انہی کے لیئے ہوئی تھی۔
خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں
ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار مجھ سے
قصہ مختصر کہ خان صاحب جو اپنے آپ کو پی ٹی آئی کا مالکِ قل سمجھ رہے تھے، اب سیاسی منظر نامے میں قصہِ پارینہ بن چکے ہیں اور پی ٹی آئی اپنے اصل مالکان کے پاس واپس جا چکی ہے۔رہے گا نام اللہ کا۔
واپس کریں