دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مخلصانہ مکالمہ کر کے دیکھیے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں
No image خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ۔ سیکرٹری جنرل جموں کشمیر لبریشن لیگ
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
یہ شعر فیض احمد فیض کی اس نظم کا ہے جو کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد 1974 میں ڈھاکہ دورہ پر وہاں کے احباب سے ملاقات اور ان کی ناراضگی دیکھ کر لکھی گئی تھی۔ جسے پڑھنے اور سننے کے بعد ایک عجیب درد محسوس ہوتا ہے۔
پچھلے 5 ماہ 3 دن گزرنے کے باوجود پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کا نظام مفلوج ہو چکا ہے، مواصلات، شاہرات اور نقل و حرکت المختصر ہر قسم کا نظام زندگی شدید متاثر ہو چکا ہے۔ احتجاجی دھرنا کو 5 ماہ گزرنے کو ہیں نہ تو مقامی حکومت کو اتنا اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی عوام کے ساتھ مکالمہ، گفت و شنید، مذاکرات وغیرہ کر کے احتجاجی دھرنا کو ختم کر سکے اور نہ ہی اس عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ اس سے قبل وعدے، وعید اور معاہدات کرنے والی پاکستان کی وفاقی حکومت، اپوزیشن وغیرہ کو اجازت ہے کہ وہ اس مسئلے کے حک کیلئے اقدام کر سکیں۔
سیکیورٹی ادروں کو بس ایک ہی ٹریننگ دی گئی کہ بات کرنے، بات سننے اور انسان کو انسان سمجھنے کی بجائے بس گولی چلا کر مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے اور مسئلوں کی جڑ عوام کو ہی ختم کر دینا ہے تاکہ مسائل کا وجود ہی باقی نہ رہے۔
اس بدترین صورتحال کیلئے آواز اٹھانے والوں کو گم کر دیا گیا، دہشتگردی کے مقدمات درج کیے گئے، شیڈول 4 میں شامل کیا گیا اور ان کو ذہنی طور پر اتنا دباؤ ڈالا گیا کہ اب آواز ہی کوئی نہ اٹھے۔
یہ تمام اقدامات نہ تو پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہوں گے، نہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی مقامی حکومت کے حق میں اور نہ ہے دونوں علاقوں کی عوام کے حق میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
پالیسی ساز اپنے اپنے دور کیلئے پالیسیاں بناتے ہیں اور مقامی حکومتوں کو ان پالیسیوں پر عملدرآمد کروانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ پھر آخر میں سب کا حال سردار عتیق احمد خان، فاروق حیدر، شاہ غلام قادر، لطیف اکبر وغیرہ وغیرہ جیسا ہوتا ہے۔ اور آسان الفاظ میں باجوہ کے مستعمل عمران خان جیسا حال ہوتا ہے. بعد کے رونے سے بہتر ہے بروقت رو لیں تاکہ عوام کا خون، جان و مال محفوظ ہو سکے۔
پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کی حساسیت کا اندازہ ذہن نشین رہنا چاہیے، آپ نہ تو ان لوگوں کو گولی سے ڈرا سکتے ہیں، نہ موت سے اور نہ دھونس سے. ان سے مخلصانہ مکالمہ کر کے دیکھیے یقیناً تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
ضد، ہٹ دھرمی، جبر، تشدد وغیرہ جیسے اقدام نہ آپ کے حق میں سود مند ہیں نہ ہمارے حق میں۔ بہتر یہی ہے ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک کیا جائے۔ آپ کے یہ کارنامے شدید نفرت جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں جو آنے والے نسلوں کے ذہنوں میں پیوست ہو جائے گی۔ اور ہزار کوششیں بھی اس نفرت کو ختم کرنے میں ناکام ہوں گیں۔
باقی اس بہتی گنگا سے ذاتی مفاد حاصل کرنے کیلئے آپ کو سیاستدانوں کی طرح کچھ قلم فروش بھی میسر آ چکے ہیں لیکن ان کی حیثیت عوام کے نذدیک سیاستدانوں سے بھی نچلی سطح کی ہے۔ لہٰذا یہ بے سود مشق دیرپا نہیں ہے۔ کل یہی صحافی نما قلم فروش لوگ آپ کی پالیسیوں کے خلاف بول کر عوام سے معافی مانگ رہے ہوں گے۔
واپس کریں