دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
انسانی زندگیوں کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں
No image ایڈوکیٹ نبیلہ ارشاد چیئرپرسن جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی
آزاد کشمیر کی حکومت اگر ایوانِ اقتدار میں بیٹھ کر اپنے ہی عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی، اگر راولاکوٹ کی سڑکیں معصوم بچوں، نوجوانوں کے خون سے رنگین ہو رہی ہیں، تو پھر یہ سوال اٹھنا بالکل فطری ہے کہ آخر یہ حکومت کس لیے قائم ہے اور اس کی ذمہ داری کیا ہے؟
معصوم انسانی جانوں کا اس قدر ارزاں ہو جانا کسی بھی مہذب معاشرے اور ذمہ دار ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اقتدار کا جواز طاقت، عہدے یا کرسی نہیں بلکہ عوام کا اعتماد، ان کے حقوق کا تحفظ اور ان کے مسائل کا پُرامن حل ہے۔
اگر حکومت راولاکوٹ کے مسئلے کو مذاکرات، سیاسی بصیرت اور سنجیدہ حکمتِ عملی کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو اسے اپنی حکمرانی کے دعوے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ حکومت کا کام حالات کو مزید بگاڑنا نہیں بلکہ کشیدگی کم کرنا، انسانی جانیں بچانا اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ہم کسی مزید جانی نقصان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ نہ کسی معصوم شہری کا خون قابلِ قبول ہے اور نہ کسی اہلکار کی جان کو سیاسی ناکامیوں کی بھینٹ چڑھایا جا سکتا ہے۔
حکومت کو فوری طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام فریقین سے بامعنی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے، طاقت کے بجائے سیاسی تدبر کو راستہ بنانا چاہیے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح قرار دینا چاہیے۔
حکومت عوام کے لیے ہوتی ہے، عوام حکومت کے لیے نہیں۔ اگر کوئی حکومت عوام کے جان و مال، عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو جائے تو اسے اقتدار سے چمٹے رہنے کے بجائے اخلاقی جوازِ حکمرانی پر غور کرنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر مستعفی ہو جانا ہی بہتر راستہ ہے۔
خدارا! اس سے پہلے کہ عوام کا غم و غصہ ہر حکمران کی دہلیز تک پہنچے، ہوش کے ناخن لیں۔ اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا، مگر حکمرانوں کے فیصلوں اور ان کی بے حسی کے اثرات تاریخ میں ضرور محفوظ رہتے ہیں۔ عوام کے صبر کو ان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ مزید انسانی جانوں کا ضیاع روکیں، سیاسی انا اور ضد سے باہر نکلیں اور فوری طور پر مسئلے کا پُرامن، سنجیدہ اور قابلِ عمل حل تلاش کریں۔ خدارا، اب بہت ہو چکا؛ انسانی زندگیوں کو اقتدار کی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

واپس کریں