دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
واشنگٹن میں اقتدار کا توازن بدل گیا
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
امریکا کے وسط مدتی انتخابات نے واشنگٹن کی سیاسی فضا میں ایک ایسا تغیر پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات محض کانگریس کی نشستوں کی تقسیم تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ آنے والے مہینوں میں امریکی داخلی سیاست، خارجہ پالیسی اور عالمی سفارتی ترجیحات پر بھی ان کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ 3 نومبر 2026ء کو ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں کامیابی اور ری پبلکن جماعت کی پسپائی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کو ایک غیر معمولی امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ امریکی جمہوری نظام میں وسط مدتی انتخابات کو عموماً صدر کی کارکردگی پر عوامی اعتماد کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے حالیہ نتائج ٹرمپ انتظامیہ کے لیے محض انتخابی شکست نہیں، بلکہ عوامی ترجیحات اور حکومتی فیصلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا اظہار بھی ہیں۔

امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی برتری نے قانون سازی کے روایتی توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 54 کے مقابلے میں ری پبلکنز کی 44 نشستوں کی برتری حاصل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جب کہ ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹک امیدواروں نے واضح سبقت حاصل کی۔ تاہم انتخابی نتائج کی حتمی نشست وار صورتِ حال کو سرکاری تصدیق اور تکمیل کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ امریکی سیاسی نظام میں کانگریس محض قانون سازی کا ادارہ نہیں، بلکہ انتظامیہ کے اختیارات کی نگرانی، بجٹ کی منظوری، حکومتی تقرریوں کی جانچ اور قومی پالیسیوں کے احتساب کا بنیادی آئینی مرکز بھی ہے۔ چنانچہ ایوانوں میں مخالف جماعت کی اکثریت صدر کے لیے انتظامی فیصلوں کو سیاسی حمایت میں تبدیل کرنا دشوار بنا سکتی ہے۔

اس انتخابی فیصلے کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ مہنگائی، توانائی کی قیمتیں، روزمرہ اخراجات، تجارتی محصولات اور معاشی غیر یقینی نے امریکی ووٹر کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ امریکی سیاست میں خارجہ پالیسی اکثر داخلی انتخابی مباحث سے الگ دکھائی دیتی ہے، لیکن جب بیرونِ ملک جنگ کے اثرات ایندھن، اشیائے ضروریہ اور قومی بجٹ پر منتقل ہونے لگیں تو عوامی ردِعمل بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اسی نوعیت کا سوال پیدا کیا ہے۔ امریکی شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بیرونی محاذوں پر اختیار کی جانے والی پالیسیوں کی معاشی قیمت کون ادا کر رہا ہے اور ان اقدامات سے امریکا کو حاصل ہونے والا تزویراتی فائدہ کس قدر واضح ہے۔

غزہ کی صورتِ حال اور ایران کے ساتھ کشیدگی نے بھی امریکی رائے عامہ میں اختلافات کو گہرا کیا ہے۔ ایک طرف قومی سلامتی اور اتحادیوں کے تحفظ کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں، دوسری جانب جنگی اخراجات، انسانی المیے اور سفارتی تنہائی کے خدشات سامنے آتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں خارجہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار صرف عسکری قوت پر نہیں ہوتا، بلکہ عوامی تائید، معاشی استعداد اور بین الاقوامی اعتماد بھی اس کے بنیادی اجزا ہیں۔ اگر کسی جنگ کے نتائج داخلی معیشت پر بوجھ بننے لگیں تو انتخابی سیاست میں اس کا حساب لیا جانا فطری امر ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے انتخابی نقصان کو ایران جنگ سے جوڑنا بھی اس امر کی علامت ہے کہ خود ری پبلکن قیادت اس معاملے کو سیاسی طور پر حساس سمجھ رہی ہے۔

حالیہ انتخابات کی ایک اہم جہت امریکی معاشرے میں نمائندگی کے بدلتے ہوئے رجحانات ہیں۔ مشی گن سے عبدالسلام السید کی سینیٹ میں کامیابی کو امریکی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ پہلے مسلمان ہیں جو امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ یہ کامیابی محض ایک فرد کی سیاسی منزل نہیں، بلکہ امریکی جمہوریت میں مذہبی اور نسلی تنوع کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا مظہر بھی ہے۔ اسی طرح جارجیا میں کیشا لانس باٹمز کی کامیابی نے انہیں ریاست کی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کا اعزاز دیا۔ کینساس میں ایڈم ہیملٹن کی کامیابی نے بھی انتخابی منظرنامے میں ایک غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔ ان کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ووٹر کی سیاسی ترجیحات میں شناخت، نمائندگی اور سماجی شمولیت کے سوالات بھی اہم مقام حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستانی نژاد امریکیوں کی کامیابی بھی قابلِ توجہ ہے۔ سلمان بھوجانی، سلیمان لالانی اور فاروق مغل جیسے منتخب نمائندوں کی سیاسی پیش رفت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ امریکا میں آباد پاکستانی برادری محض معاشی اور سماجی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ مقامی اور ریاستی سیاست میں بھی اپنا کردار بڑھا رہی ہے۔ ڈاکٹر آدم حماوی کی نیوجرسی سے کامیابی اس سلسلے کی ایک اور مثال ہے۔ تاہم ان کامیابیوں کو کسی ایک برادری کی اجتماعی سیاسی فتح قرار دینے کے بجائے امریکی جمہوری عمل میں متنوع پس منظر رکھنے والے شہریوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

انتخابی نتائج کے بعد صدر ٹرمپ کی آئینی مدت فوری طور پر ختم نہیں ہوتی۔ وسط مدتی انتخابات صدر کے منصب کا انتخاب نہیں ہوتے، بلکہ کانگریس کی تشکیلِ نو کا ذریعہ ہیں۔ نئی کانگریس 3 جنوری 2027ء سے اپنی آئینی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ اس کے بعد ڈیموکریٹس کو قانون سازی، بجٹ، حکومتی نگرانی اور انتظامی فیصلوں کے احتساب میں زیادہ مؤثر کردار حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی یکایک تبدیل ہو جائے گی، کیونکہ اس کے کئی بنیادی فیصلے انتظامی اختیارات، قومی سلامتی کے اداروں اور اتحادی معاہدوں سے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ البتہ کانگریس کی نئی سیاسی ترکیب جنگی اخراجات، عسکری امداد اور خارجہ پالیسی کے جواز پر زیادہ سخت سوالات ضرور اٹھا سکتی ہے۔

عالمی منڈیوں نے بھی امریکی انتخابی نتائج کو اہمیت دی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی اطلاعات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سرمایہ کار سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور توانائی کی رسد کے امکانات کو بھی جانچ رہے ہیں۔ پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک کے لیے تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی ایک ممکنہ سہولت بن سکتی ہے، تاہم اس کا حقیقی فائدہ زرِمبادلہ کی شرح، درآمدی بل، ٹیکسوں اور مقامی قیمتوں کے نظام سے مشروط ہوگا۔

امریکی انتخابات کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ طاقت ور ترین ریاست کا سیاسی نظام بھی عوامی احتساب سے مستثنیٰ نہیں۔ جنگ، معیشت اور حکمرانی کے فیصلے بالآخر ووٹر کی عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اب اصل چیلنج انتخابی شکست کی توجیہ پیش کرنا نہیں، بلکہ عوامی بے چینی کے اسباب کا قابلِ اعتماد حل تلاش کرنا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس کے لیے بھی یہ کامیابی محض سیاسی برتری نہیں، بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ انتخابی کامیابی کو مؤثر قانون سازی، معاشی بہتری اور متوازن خارجہ پالیسی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ آنے والا وقت واضح کرے گا کہ یہ انتخاب امریکی سیاست میں ایک عارضی ردِعمل تھا یا عوامی ترجیحات کی ایسی تبدیلی جس نے واشنگٹن کے سیاسی مستقبل کا رخ متعین کر دیا ہے۔
واپس کریں