دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
توانائی و وسائل کیلئے جنگ ۔ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن
مہمان کالم
مہمان کالم
آج امریکا کو درپیش سب سے بڑا چیلنج فوجی نہیں بلکہ معاشی ہے۔ گزشتہ 50برس سے زائد عرصے کے دوران امریکی عالمی بالادستی بڑی حد تک پیٹرو ڈالر نظام پر قائم رہی ہے، جسکے تحت بین الاقوامی سطح پر تیل کی تجارت بنیادی طور پر امریکی ڈالر میں ہوتی رہی۔ اس نظام نے دنیا بھر میں ڈالر کی مسلسل طلب پیدا کی اور واشنگٹن کو ایسے قومی قرضے کی مالی معاونت کے قابل بنایا جو اب تقریباً 39کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔اس بوجھ کے باعث امریکی صنعت دبتی جا رہی ہے اور اب امریکی حکومتی بانڈکی شرح 5.3ہو گئی ہےاور کاروباری نظام کو سخت نقصان ہو رہا ہے ۔ تاہم اب چین، روس اور کئی برکس ممالک اپنی توانائی کی تجارت کا ایک بڑھتا ہوا حصہ متبادل کرنسیوں میں انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ ڈالر اب بھی غالب حیثیت رکھتا ہے، لیکن پیٹرو ڈالر نظام کا بتدریج کمزور ہونا طویل مدت میں امریکی معاشی بالادستی کیلئے ایک حکمتِ عملی کا چیلنج بن گیاہے۔ اس بحران سے نکلنے کا ایک راستہ یہ ہو سکتا ہے وہ یہ کہ امریکا صرف دنیا کی ذخیرہ کرنسی جاری کرنے والا ملک نہ رہے بلکہ دنیا کا ناگزیر توانائی فراہم کرنے والا ملک بھی بن جائے۔ اگر طویل علاقائی عدم استحکام اور تیل صاف کرنے کے بنیادی ڈھانچے (oil refinery infrastructure) کی تباہی کے باعث مسابقتی پیداوار کرنیوالے ممالک ناقابلِ اعتماد ہو جائیں تو امریکی تیل اور مائع قدرتی گیس ( LNG liquefied natural gas ) پر انحصار لازماً بڑھ جائیگا۔اسکے بعد روایتی پیٹرو ڈالر بتدریج ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو سکتا ہے جسے ’’ای ڈالر‘‘ کہاجا سکے۔ اس نظام میں ڈالر کو اضافی طاقت امریکا کی اس حیثیت سے حاصل ہوگی کہ وہ دنیا کو سب سے محفوظ اور قابلِ اعتمادپیٹرول اور ڈیزل کی صورت میں توانائی فراہم کرنیوالا ملک ہوگا۔گلف ممالک کے خطے میں مسلسل جنگ، تیل صاف کرنیوالی تنصیبات کی باہمی تباہی اور متعلقہ معیشتوں کی کمزوری، امریکا کیساتھ ساتھ اسرائیل کیلئےبھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ مخالف ریاستوں کے کمزور ہونے سے اسرائیل کو اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔گزشتہ ہفتوں کے دوران رونما ہونیوالے واقعات حیرت انگیز طور پر اسی سمت میں آگے بڑھے ہیں۔ بار بار کی سفارتی کوششوں نے امن کی امیدیں پیدا کیں، لیکن ہر بار ان کے بعد دوبارہ فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ بارہا جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے مختصر عرصے کیلئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور پابندیوں میں نرمی کے ذریعے کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا کی، لیکن نئے حملوں، پابندیوں اور ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے درمیان یہ معاہدہ تیزی سے ناکام ہوگیا۔ جولائی کے آغاز تک ایران پر امریکی حملے دوبارہ شروع ہوچکے تھے، ایران کی جانب سے جوابی کارروائی ہوئی اور جنگ بندی عملاً ختم ہوگئی۔ اس کا مجموعی نتیجہ خلیج فارس کے گرد مسلسل عدم استحکام کی صورت میں نکلا، حالانکہ دنیا کی توانائی کی رسد کا ایک بڑا حصہ اسی خطے پر منحصر ہے۔امریکا کو اس حوالے سے بنیادی طور پر مختلف حیثیت حاصل ہے۔ اس کے تیل کے ذخائر، پائپ لائنیں، ایل این جی ٹرمینلز اور برآمدی بندرگاہیں جنگ کے میدان سے ہزاروں کلومیٹر دور واقع ہیں۔ خلیجی برآمدات کے گرد ہر اضافی غیر یقینی صورتحال امریکی توانائی کی پیداوار کی حکمتِ عملی کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اگرچہ امریکا فوری طور پر مشرقِ وسطیٰ کی تمام توانائی کی رسد کا متبادل فراہم نہیں کرسکتا، لیکن طویل عرصے تک جاری رہنے والا عدم استحکام وہ تجارتی ترغیبات ضرور پیدا کرتا ہے جو امریکی تیل اور ایل این جی کی برآمدات میں بڑے پیمانے پر توسیع کیلئے درکار ہیں۔ ایسی تبدیلی کا سب سے بڑا حکمتِ عملی کا نقصان اٹھانے والاملک یورپ یا خلیجی ممالک نہیں بلکہ چین ہوگا۔چین دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور روزانہ تقریباً 10 سے 11 ملین بیرل تیل خریدتا ہے، جسکا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔ چینی صنعت، پیٹرو کیمیکل ، نقل و حمل اور بھاری صنعت کی غیر معمولی ترقی بڑی مقدار میں نسبتاً کم قیمت درآمدی توانائی پر استوار ہوئی ہے۔ لہٰذا خلیجی توانائی کی رسد میں طویل رکاوٹ براہِ راست چین کی معاشی ترقی کو محدود کریگی۔ تیل کی بلند قیمتیں پیداواری لاگت میں اضافہ کرینگی، برآمدی مسابقت کو کم کریں گی اور چین کی معاشی ترقی اور اس کے ساتھ اس کی فوجی طاقت کو بھی متاثر کریں گی۔امریکا کی پوزیشن بالکل مختلف ہے۔ وہ دنیا میں تیل اور قدرتی گیس کا سب سے بڑا پیدا کنندہ بن چکا ہے اور اسکے پاس پائپ لائنوں، ریفائنریوں، ایل این جی ٹرمینلز اور برآمدی سہولتوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کے جنگی میدان سے بہت دور واقع ہے۔ خلیجی رسد کے بارے میں غیر یقینی عالمی سطح پر امریکی توانائی کی طلب میں اضافہ کرتا ہے۔ جب بھی سفارت کاری نے کشیدگی کم کرنے کی جانب کوئی راستہ دکھایا، اسکے بعد امریکہ کی طرف سےدوبارہ فوجی کارروائی شروع ہوگئی۔ایران نے امریکی مفادات اور بحری جہازوں کے خلاف حملوں کے ذریعے جواب دیا، جس سے خلیج میں عدم استحکام مزید بڑھ گیا۔ امریکہ کی اس حکمتِ عملی کے نتائج تیزی سے واضح ہوتے جارہے ہیں۔ ایران اور خلیجی ممالک میں تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جس سے انکی معیشتیں تباہ کن نقصان سے دوچار ہوسکتی ہیں۔ پانی صاف کرنیوالے پلانٹس کی تباہی اس سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک رہائش کے قابل نہیں رہیں گے ۔اگر طویل عرصے تک جاری رہنے والا عدم استحکام بالآخر دنیا کو امریکی توانائی پر بڑھتے ہوئے انحصار اور مشرقِ وسطیٰ کے توانائی فراہم کنندگان پر کم ہوتے اعتماد کی جانب لے جاتا ہے تو بین الاقوامی معاشی نظام میں ایک گہری تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔ روایتی پیٹرو ڈالر کی طاقت صرف اس بات سے وابستہ نہیں رہے گی کہ تیل کی قیمت ڈالر میں مقرر ہوتی ہے، بلکہ اسے اس حقیقت سے بھی تقویت ملے گی کہ امریکا دنیا کا سب سے محفوظ، سب سے بڑا اور سب سے قابلِ اعتماد پیٹرول اور ڈیزل کی شکل میںتوانائی کا فراہم کنندہ بن چکا ہوگا۔ یہی ’’ای ڈالر‘‘ کے تصور کا بنیادی نکتہ ہے۔شاید وینزویلا پر امریکی حملہ بھی اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا ۔موجودہ جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ توانائی، معیشت اور عالمی سیاست اب ایک دوسرے سے جدا نہیں رہے۔
آبنائے ہرمز پر کنٹرول، تیل کی عالمی منڈی، پیٹرو ڈالر کا مستقبل اور بڑی طاقتوں کے مفادات آنیوالے برسوں میں عالمی نظام کی نئی سمت متعین کرینگے۔ پاکستان کو اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں جذباتی ردِعمل کے بجائے دانش مندانہ سفارت کاری، معاشی خودمختاری، توانائی کے متبادل ذرائع اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینا ہوگی۔ کیونکہ اس نئی عالمی بساط پر کامیابی صرف عسکری قوت سے نہیں، بلکہ دوراندیش حکمتِ عملی، معاشی استحکام اور قومی مفادات کے مؤثر تحفظ سے حاصل ہوگی۔
واپس کریں