ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
اسلامی فکر میں غلبۂ اسلام کا تصور محض سیاسی اقتدار کے حصول، جغرافیائی توسیع یا کسی مخصوص گروہ کی حکمرانی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر تہذیبی، اخلاقی، فکری اور اجتماعی نظامِ حیات کی بالادستی کا نام ہے۔ اس تصور کی اساس قرآن و سنت میں پیوست ہے، جہاں اقتدار کو ذاتی منفعت، طبقاتی برتری یا خاندانی وراثت کے بجائے امانت، عدل، جواب دہی اور انسانی فلاح کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ عصرِ حاضر میں جب دنیا سیاسی عدم استحکام، معاشی ناہمواری، اخلاقی انحطاط، تہذیبی تصادم اور عالمی طاقتوں کی مفاداتی کشمکش سے دوچار ہے، اسلامی ریاست اور جدید مسلم حکمرانی کا سوال محض ایک مذہبی بحث نہیں رہا، بلکہ ایک سنجیدہ فکری اور تمدنی ضرورت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (النور: 55)۔ اس آیت میں ایمان اور عملِ صالح کو اجتماعی اقتدار اور استخلافِ ارضی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی تصورِ غلبہ محض عددی اکثریت یا عسکری قوت کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ اس کے لیے ایمانی استقامت، صالح کردار، اجتماعی نظم اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل بنیادی شرائط ہیں۔ اسی طرح سورۂ حج میں اہلِ ایمان کو اقتدار عطا ہونے کے بعد نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے، معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے کی ذمہ داری یاد دلائی گئی ہے (الحج: 41)۔ گویا اسلامی حکمرانی کا حقیقی امتحان اقتدار حاصل کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے، جب حکمرانوں کو اپنے نظام کے ذریعے عدل، عبادت، معاشرتی توازن اور اخلاقی اصلاح کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
جدید اسلامی ریاست کا تصور سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس بنیادی فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے جو مذہبی شعار اور اسلامی نظامِ حکمرانی کے درمیان موجود ہے۔ کسی ریاست کا اسلامی تشخص صرف آئینی دفعات، سرکاری تقریبات، مذہبی نعروں یا ظاہری علامات سے مکمل نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اصل شناخت اس کے عدالتی نظام، معاشی پالیسیوں، انتظامی شفافیت، شہری حقوق، انسانی وقار اور حکمرانوں کی جواب دہی سے متعین ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید کا واضح حکم ہے: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء: 58)۔ یہ آیت اسلامی نظمِ حکومت کے دو بنیادی ستون متعین کرتی ہے کہ امانت کی اہل لوگوں تک منتقلی اور تمام انسانوں کے درمیان منصفانہ فیصلہ۔ اس اصول کی رو سے سرکاری عہدہ اعزاز نہیں، ذمہ داری ہے اقتدار استحقاق نہیں، امانت ہے اور قانون حکمران و محکوم دونوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ کی مدنی ریاست اس حوالے سے ایک بنیادی تاریخی اور عملی نمونہ فراہم کرتی ہے۔ میثاقِ مدینہ نے مختلف مذہبی اور قبائلی گروہوں کو مشترکہ شہری نظم، اجتماعی دفاع، باہمی ذمہ داریوں اور معاہداتی حقوق کے تحت مربوط کیا۔ اس انتظام میں مذہبی شناخت کے اختلاف کے باوجود شہری امن، معاہدوں کی پاسداری اور اجتماعی نظم کو اہمیت حاصل تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے حکمرانی کو شخصی برتری کے بجائے خدمت اور جواب دہی سے وابستہ فرمایا۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی متفق علیہ روایت کے مطابق: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، یعنی تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ یہ حدیث جدید ریاستی انتظام کے لیے بھی غیر معمولی معنویت رکھتی ہے، کیونکہ اس میں حکمران سے لے کر انتظامی ذمہ دار تک ہر منصب کو جواب دہی کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
اسلامی ریاست کی تشکیل میں شوریٰ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کی اجتماعی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (الشوریٰ: 38)۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ اجتماعی معاملات میں مشاورت، اہلِ علم و تجربہ کی رائے، عوامی مفاد اور ادارہ جاتی توازن کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ جدید دور میں پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ، مقامی حکومتیں اور دیگر آئینی ادارے اسی مقصد کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی خودمختاری، شفافیت اور آئینی حدود کا احترام کیا جائے۔ اسلامی حکمرانی شخصی آمریت، موروثی اجارہ داری اور غیر محدود اقتدار کی تائید نہیں کرتی، بلکہ اقتدار کو اخلاقی و قانونی پابندیوں کے تابع رکھتی ہے۔
معاشی میدان میں اسلامی ریاست کا نصب العین محض قومی آمدنی میں اضافہ نہیں، بلکہ دولت کی منصفانہ گردش، استحصال کا خاتمہ، کمزور طبقات کا تحفظ اور معاشی مواقع کی منصفانہ فراہمی ہے۔ قرآنِ کریم کا اصول ہے: كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ (الحشر: 7)، یعنی دولت تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہ جائے۔ زکوٰۃ، صدقات، وراثت کے احکام، تجارت میں دیانت اور سود کی ممانعت ایک ایسے معاشی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جس میں سرمایہ محض طاقت ور طبقات کے مفادات کا محافظ نہ بنے۔ جدید اسلامی ریاست کو غربت، بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی اور معاشی اجارہ داری جیسے مسائل کے حل کے لیے علمِ معاشیات، جدید مالیاتی نظم اور اسلامی اخلاقی اصولوں میں بامعنی تطبیق پیدا کرنا ہوگی۔
عصرِ حاضر میں غلبۂ اسلام کا ایک اہم تقاضا علمی، سائنسی اور تکنیکی میدان میں مسلمانوں کی مؤثر واپسی بھی ہے۔ وہ تہذیب جو کبھی ریاضی، طب، فلکیات، فلسفہ، جغرافیہ اور تحقیق کے میدانوں میں عالمی رہنمائی کرتی تھی، آج مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، کوانٹم سائنس، خلائی تحقیق اور ڈیجیٹل معیشت کے نئے سوالات سے دوچار ہے۔ اسلامی فکر علم کو محض مادی ترقی کا وسیلہ نہیں بلکہ معرفت، تخلیق اور انسانی خدمت کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔ لہٰذا مسلم ریاستوں کو تحقیق و اختراع، معیاری تعلیم، جامعات کی خودمختاری، سائنسی سرمایہ کاری اور فکری آزادی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ جدید دنیا میں علمی پسماندگی کے ساتھ سیاسی و معاشی خودمختاری کا تحفظ بھی دشوار ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ غلبۂ اسلام کو جبر، تشدد، مذہبی منافرت یا کسی دوسرے معاشرے پر زبردستی مسلط ہونے کے مفہوم میں نہیں لیا جا سکتا۔ قرآنِ مجید کا اصول ہے: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرۃ: 256)۔ اسلام کی دعوت حکمت، موعظۂ حسنہ اور بہترین اسلوبِ مکالمہ سے عبارت ہے (النحل: 125)۔ چنانچہ اسلامی غلبے کی حقیقی معنویت عدل، کردار، علم، دیانت، معاشرتی فلاح اور اخلاقی برتری کے ذریعے سامنے آنی چاہیے، نہ کہ طاقت کے غیر قانونی استعمال سے۔ اسی طرح اقلیتوں کے حقوق، شہری تحفظ، مذہبی آزادی اور انسانی جان و مال کا احترام اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
آج مسلم دنیا کو جس بحران کا سامنا ہے، اس کا بنیادی سبب صرف بیرونی سیاسی دباؤ نہیں، بلکہ داخلی انتشار، ادارہ جاتی کمزوری، قیادت کا فقدان، علمی جمود، بدعنوانی اور اجتماعی ترجیحات کا عدم توازن بھی ہے۔ امتِ مسلمہ کو محض ماضی کے شاندار ادوار کی یاد سے آگے بڑھ کر ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کرنا ہوگی جس میں قرآن و سنت کے ابدی اصول جدید ریاستی اداروں، سائنسی ترقی، معاشی خودکفالت اور عالمی تعاون کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اسلامی ریاست کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے حکمران کتنے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے شہری کس قدر محفوظ، تعلیم یافتہ، باوقار اور انصاف سے مستفید ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ غلبۂ اسلام کا راستہ پہلے انسان کی فکری و اخلاقی تعمیر، پھر معاشرے کی اصلاح اور بالآخر عدل و امانت پر مبنی اجتماعی نظام کی تشکیل سے ہو کر گزرتا ہے۔ مسلم حکمرانوں کے لیے اصل چیلنج محض اقتدار کا تحفظ نہیں، بلکہ اقتدار کو قرآن و سنت کے مقاصدِ عدل، رحمت، امانت اور انسانی فلاح کا تابع بنانا ہے۔ اگر جدید مسلم ریاست علم کو قوت، قانون کو بالادستی، شوریٰ کو اجتماعی بصیرت، معیشت کو معاشرتی انصاف اور حکمرانی کو خدمت کا عنوان بنا لے تو اسلامی فکر کا تہذیبی پیغام عصرِ حاضر میں ایک مؤثر عالمی متبادل کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یہی غلبۂ اسلام کی وہ تعبیر ہے جو محض سیاسی نعرے سے بلند ہو کر ایک زندہ، متحرک اور انسان دوست تمدنی حقیقت میں ڈھل سکتی ہے۔
واپس کریں