دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستانی معاشرے میں بدلتے ہوئے ازدواجی رشتے۔ خالد خان
No image معاشی خودمختاری، سیاسی شہرت، نظریاتی شناخت، مذہبی اقدار اور خاندانی نظام؛ کیا ہماری شادیوں کی بنیادیں تبدیل ہو رہی ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید کی جانب سے شوہر سے خلع کے لیے لاہور کی فیملی کورٹ سے رجوع کرنے کی خبر محض ایک سیاسی شخصیت کی نجی زندگی کا واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں بدلتے ہوئے ازدواجی تعلقات، خواتین کی خودمختاری اور خاندانی نظام پر ایک نئی بحث کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
صنم جاوید نے اپنے شوہر عتیق ریاض سے خلع کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست کے مطابق دونوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے، جس سے ازدواجی زندگی میں مسائل پیدا ہوئے اور اب وہ اس رشتے کو مزید جاری نہیں رکھنا چاہتیں۔ عدالت نے شوہر کو 25 نومبر کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔ دونوں کی شادی 2009 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بچے ہیں۔ صنم جاوید اس وقت 9 مئی کے مقدمات کے سلسلے میں کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔
اس واقعے کے چند روز پہلے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی اہلیہ حمیرا طیبہ کو بھی اسلام آباد کی فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری جاری کی۔ عدالت کے مطابق مصالحت کی کوششیں ناکام ہوئیں اور حمیرا طیبہ ازدواجی زندگی جاری رکھنے پر آمادہ نہیں تھیں۔ یوں چند روز کے وقفے سے دو معروف سیاسی و سماجی شخصیات کے ازدواجی معاملات منظرعام پر آگئے۔
یہاں دونوں خواتین کے پس منظر میں ایک دلچسپ فرق بھی موجود ہے۔ صنم جاوید کی شناخت تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے قومی سطح پر بنی، جبکہ حمیرا طیبہ ایک مذہبی اور نظریاتی سیاسی ماحول سے وابستہ رہی ہیں۔ وہ سیو غزہ مہم کی بانی کے طور پر سامنے آئیں اور فلسطین کے مسئلے پر عوامی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ستمبر 2024 میں وہ مشتاق احمد خان کے ساتھ پریس کانفرنس میں بھی شریک تھیں۔ ان کی اپنی سیاسی و سماجی شناخت بھی ہے، وہ محض کسی سیاست دان کی اہلیہ کے طور پر متعارف ہونے والی خاتون نہیں۔
حمیرا طیبہ کے معاملے میں ایک اور پہلو قابلِ غور ہے۔ ایک ایسی خاتون جو مذہبی اور نظریاتی ماحول میں سرگرم رہی، فلسطین کے حق میں مہم چلاتی رہی اور عوامی سطح پر اپنے سیاسی تشخص کے ساتھ سامنے آئی، اس نے بھی ازدواجی تعلق ختم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ازدواجی رشتوں کا بحران کسی ایک سیاسی نظریے، مذہبی پس منظر یا مخصوص طرزِ زندگی تک محدود ہے؟
حمیرا طیبہ سے منسوب ایک تصور خاصا معنی خیز ہے کہ عورت مرد کا ضمیمہ نہیں ہوتی۔ یہ جملہ عورت کی انفرادی شناخت، فکری آزادی اور خودمختاری کی نمائندگی کرتا ہے۔ بلاشبہ عورت کی اپنی شخصیت، رائے، سیاسی وابستگی اور سماجی شناخت ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انفرادی شناخت اور ازدواجی زندگی کی مشترکہ ذمہ داریوں میں توازن کیسے قائم رکھا جائے؟
پاکستانی معاشرے میں خواتین کی معاشی خودمختاری نے گزشتہ چند دہائیوں میں خاندانی تعلقات کی نوعیت تبدیل کی ہے۔ تعلیم، ملازمت، کاروبار، سیاست اور ذرائع ابلاغ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت نے انہیں معاشی اور سماجی اعتبار سے زیادہ بااختیار بنایا ہے۔ ماضی میں بہت سی خواتین معاشی مجبوریوں، بچوں کے مستقبل اور معاشرتی دباؤ کے باعث ایسے ازدواجی تعلقات بھی جاری رکھنے پر مجبور ہوتی تھیں جن میں باہمی ہم آہنگی باقی نہیں رہی تھی۔ آج بعض خواتین کے لیے علیحدگی کا فیصلہ پہلے کی نسبت عملی طور پر آسان ہو چکا ہے۔
لیکن اس تبدیلی کا ایک دوسرا پہلو بھی زیرِ بحث آنا چاہیے۔ کیا معاشی آزادی، شہرت اور سماجی مقام میں اضافے کے ساتھ بعض افراد کی ازدواجی توقعات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں؟ کیا کامیابی کے بعد انسان اپنے شریکِ حیات، خاندانی ماحول اور زندگی کے معیار سے متعلق نئی توقعات وابستہ کرنے لگتا ہے؟ کیا بعض اوقات خودمختاری کے ساتھ سمجھوتے، برداشت اور مشترکہ ذمہ داریوں کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے؟
یہ سوالات صرف خواتین کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی یکساں اہم ہیں۔ مرد کی معاشی حیثیت، سیاسی طاقت، شہرت اور سماجی مقام بھی ازدواجی تعلقات میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے خاندانی نظام کے بحران کو صرف عورت کی آزادی یا خودمختاری سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا تضاد یہ بھی ہے کہ اسلام نکاح کو سکون، محبت، رحمت اور باہمی ذمہ داریوں کا رشتہ قرار دیتا ہے، جبکہ ہمارے معاشرتی رویوں میں طلاق کو بعض اوقات گالی اور طلاق یافتہ عورت کو عمر بھر کے طعنے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید ازدواجی اختلافات کی صورت میں اصلاح، صلح اور ثالثی کی ترغیب دیتا ہے۔ طلاق اور خلع کو جائز قانونی و شرعی راستے تسلیم کیا گیا ہے، لیکن ان کے استعمال کے ساتھ خاندانی ذمہ داریوں اور بچوں کے حقوق کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم نے شادی کو محض دو افراد کی باہمی پسند کا معاملہ بنا دیا ہے یا اسے ایک ایسی مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں جس میں محبت کے ساتھ برداشت، ایثار، وفاداری اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا بھی شامل ہے؟ کیا جدید معاشرتی زندگی میں حقوق کا شعور تو بڑھ رہا ہے لیکن ذمہ داریوں کا احساس اسی تناسب سے فروغ پا رہا ہے؟
صنم جاوید اور حمیرا طیبہ کے معاملات کو ان کے اپنے حالات اور عدالتی کارروائی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ کسی کے سیاسی نظریے، مذہبی شناخت یا عوامی شہرت کو اس کے ازدواجی فیصلے کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح کسی خاتون کے ذاتی فیصلے کو اس کے کردار کا پیمانہ بنانا بھی مناسب نہیں۔ دونوں واقعات کی اصل وجوہات وہی ہیں جو متعلقہ فریقین کے مستند بیانات اور عدالتی ریکارڈ سے سامنے آئیں۔
تاہم ان واقعات نے ہمارے سامنے ایک بڑا سماجی سوال ضرور رکھ دیا ہے۔ کیا پاکستانی معاشرہ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں معاشی خودمختاری، سیاسی شناخت، شہرت اور انفرادی آزادی کے ساتھ ازدواجی رشتوں کی تعریف بھی تبدیل ہو رہی ہے؟ کیا ہم خاندانی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں؟ اور کیا نئی نسل کو آزادی کے ساتھ ذمہ داری، خودمختاری کے ساتھ وفاداری اور حقوق کے ساتھ فرائض کا شعور بھی دیا جا رہا ہے؟
شاید ہمیں عورت کی آزادی اور خاندانی استحکام کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد معاشی انحصار نہیں بلکہ باہمی احترام، اعتماد، محبت، برداشت اور ذمہ داری ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا معاشی اور سماجی خودمختاری نے عورت کو صرف اپنے فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے، یا ہمارے خاندانی نظام میں برداشت، سمجھوتے اور مشترکہ زندگی کے تصور میں بھی بنیادی تبدیلی آ رہی ہے؟ کیا شادی اب بھی زندگی بھر کا عہد سمجھی جاتی ہے یا بدلتی ہوئی ترجیحات کے ساتھ ایک ایسا تعلق بنتی جا رہی ہے جسے برقرار رکھنے کی شرائط بھی تبدیل ہو رہی ہیں؟
ان سوالات کے جواب کسی ایک سیاسی خاتون، سابق سینیٹر یا ان کے شریکِ حیات کے نجی معاملات میں تلاش نہیں کیے جا سکتے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے پورے معاشرتی رویے، خاندانی تربیت اور بدلتی ہوئی اقدار کا جائزہ لینا ہوگا۔
یہ بحث کسی عورت یا مرد کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کو سمجھنے کے لیے ہے۔ فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
واپس کریں