محمد ریاض ایڈووکیٹ
باغوں کا شہر لاہور آج زہریلی فضا، دھویں اور سموگ کے نرغے میں ہے۔ ہم نے درخت کاٹے، باغات اجاڑے، کھیتوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بدلا اور پھر حیران ہیں کہ ہمارے شہر سانس کیوں نہیں لے پا رہے۔ المیہ یہ ہے کہ تباہی کا سامان بھی ہم نے خود کیا اور اب اس کا ماتم بھی خود ہی کر رہے ہیں۔ایک پنجابی کہاوت ہے: ”مج ویچ کے گھوڑی لئی، دودھ پین توں گئے، لدھ چُکنی پئی!“ یعنی گائے بھینس پالنے سے اس لیے کتراتے رہے کہ ان کے گوبر سے بدبو آتی تھی، لیکن شوق کی خاطر ایسے جانور پال لیے جن سے نہ دودھ حاصل ہوتا ہے نہ کوئی فائدہ، الٹا ان کی گندگی اٹھانے کی نوبت آگئی۔ آج ہمارے شہروں کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہم نے فطرت کی نعمتوں کو ٹھکرا کر مصنوعی ترقی کا راستہ اختیار کیا اور اب اسی ترقی کی گندگی اٹھاتے پھر رہے ہیں۔5 نومبر 2026ء کو سامنے آنے والے اعدادوشمار نے ایک مرتبہ پھر ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی مواد فراہم کیا۔ عالمی فضائی معیار کی ویب سائٹ ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا، جہاں فضائی آلودگی کا اشاریہ 352 ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی بھی چھٹے نمبر پر رہا۔ یہ محض اعدادوشمار نہیں، ہمارے اجتماعی شعور، حکومتی کارکردگی اور شہری منصوبہ بندی کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
بات صرف لاہور اور کراچی تک محدود نہیں۔ رحیم یار خان کا اے کیو آئی 298، ملتان کا 286، بہاولپور کا 258، رائیونڈ کا 185 اور فیصل آباد کا 184 ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی فضائی معیار کی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پی ایم 2.5 کی سالانہ اوسط مقدار 67.3 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ سالانہ حد سے تقریباً چودہ گنا زیادہ ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کا سب سے آلودہ ملک قرار دیا گیا۔ ذرا سوچیے، جس ملک میں صاف ہوا جیسی بنیادی نعمت بھی میسر نہ ہو، وہاں ترقی کے دعوے کس منہ سے کیے جاتے ہیں؟
آخر لاہور اس حال کو کیوں پہنچا؟ کیا آسمان سے اچانک آلودگی برسنے لگی؟ کیا کسی قدرتی آفت نے ہمارے باغات کا صفایا کردیا؟ نہیں صاحب! یہ سب ہماری اپنی کارستانی ہے۔ ہم نے لاہور کے باغات کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نقشوں میں دفن کردیا۔ سڑکوں کے کناروں پر کھڑے درختوں کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر کاٹ ڈالا۔ زرعی زمینوں پر کنکریٹ کے پہاڑ کھڑے کردیے۔ شہر کو پھیلانے کی ایسی اندھی دوڑ شروع کی کہ کسی کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ انسانوں کے رہنے کے لیے مکانات تو بنا رہے ہیں، مگر ان انسانوں کو سانس لینے کے لیے ہوا کہاں سے ملے گی؟ داروغہ والا، شالیمار، ڈیرہ گجراں، سلامت پورہ،کریم نگر، مصری شاہ، بادامی باغ، شمالی لاہور کے ایسے علاقوں میں جائیں تو صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض علاقوں میں صنعتی دھواں اور ٹائر جلا کر تیل نکالنے والے کارخانوں کی سرگرمیاں ماحول کو زہریلا بنا رہی ہیں۔ عمارتوں اور اشیا پر سیاہی نما تہہ جم جاتی ہے۔ وہاں رہنے والے لوگ روزانہ جس فضا میں سانس لیتے ہیں، اس کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔یہاں مقیم افراد کے ہاتھ، منہ اور پیر کالے رہتے ہیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے محکمے موجود ہیں، قوانین موجود ہیں، افسران اور عملہ موجود ہے، مگر آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف مستقل کارروائی کہاں ہے؟ جب سموگ شدت اختیار کرتی ہے تو اجلاسوں، بیانات، پابندیوں اور عارضی اقدامات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ چند دن بعد سب کچھ پھر پہلے جیسا! کیا یہی حکمرانی ہے؟ کیا ماحولیاتی آلودگی کو صرف سموگ کے موسم میں یاد کرنا ہی حکومت کی ذمہ داری رہ گئی ہے؟
اکتوبر، نومبر اور دسمبر اب خوشگوار موسم کی بجائے بیماریوں اور پریشانیوں کی علامت بنتے جارہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو اچھے اسکول، مہنگے لباس اور جدید سہولتیں فراہم کرنے کے لیے تو بے چین ہیں، مگر انہیں صاف ہوا فراہم کرنے کے معاملے میں ہماری ترجیحات کہیں نظر نہیں آتیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ چائنہ طرز پر خاص مدت کے لئے آبادی کنٹرول کریں، باغات، پارکوں اور زرعی زمینوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ صنعتی یونٹس کی سخت نگرانی ہو، دھویں کو صاف کرنے والے آلات کی تنصیب لازمی قرار دی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سیاسی اثرورسوخ سے بالاتر ہوکر سزا دی جائے۔ معیاری پبلک ٹرانسپورٹ، صاف ایندھن اور مؤثر شہری منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے۔ محض شجرکاری کی تصویری مہمات نہیں، درختوں کی عملی نگہداشت بھی ضروری ہے۔کیا آنے والی نسلیں ہمیں اس بات پر معاف کردیں گی کہ ہم نے ان کے حصے کے باغات، درخت اور صاف ہوا تک چھین لی؟ لاہور کا دم گھٹ رہا ہے، کراچی کی فضا بھی زہر آلود ہے اور ملک کے دوسرے شہر بھی اسی راستے پر چل پڑے ہیں۔
یاد رکھیے! شہر بلند عمارتوں سے نہیں، زندہ ماحول سے آباد ہوتے ہیں۔ ہمیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مزید اشتہارات نہیں، سانس لینے کے قابل شہر چاہییں۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو باغات کا پاکستان دیں گے یا دھویں اور بیماریوں کا تحفہ! ورنہ کل تاریخ یہی لکھے گی کہ ایک قوم تھی جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے باغ اجاڑے، درخت کاٹے، فضا زہر آلود کی اور پھر حیران ہوتی رہی کہ اس کے بچے بیمار کیوں ہیں۔
واپس کریں