
مقدمات کی طوالت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ وکلا کی جانب سے جان بوجھ کر استعمال کیے جانے والے تاخیری حربے ہیں۔ اس صورتحال میں معزز جج صاحبان کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے اس لیئے
جج صاحبان کومقدمات میں تاخیری حربے استعمال کرنے والے وکلا کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سائلین کو جلد انصاف مل سکے،خاص طور پر وراثتی جائیداد کی تقسیم سے متعلق ان مقدمات میں جن میں بیٹیوں کے حصے شامل ہوں۔
تاخیری حربوں میں سماعت کو بار بار ملتوی کرانا، غیر ضروری درخواستیں دائر کرنا، گواہوں کی غیر حاضری کا بہانہ بنانا، دستاویزات پیش کرنے میں تاخیر اور مقدمات کے بنیادی نکات سے ہٹ کر طویل بحثیں شامل ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقدمات برسوں چلتے رہتے ہیں، سائلین تھک ہار جاتے ہیں اور بعض اوقات انصاف کے حصول کی امید ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ مشہور کہاوت ہے کہ تاخیر شدہ انصاف، انصاف کی نفی کے مترادف ہے۔
یہ تاخیر نہ صرف حقیقی انصاف کے طلب گاروں کے مالی اور ذہنی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ پورے عدالتی نظام پر اعتماد کو بھی متزلزل کرتی ہے جو یقینا کوئی خوش آئند امر نہیں۔
منصف تو عدالت کے نگہبان ہوتے ہیں،قانون اندھا ضرور ہوتا ہے لیکن جج نہیں،انہیں مقدمہ کا پہلا صفحہ پڑھ کر اور دونوں جانب کے وکلاء کو دیکھ کر ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ کون حق پر ہے اور ناحق۔اگر منصف غیر ضروری التواؤں کو روکیں، بغیر معقول وجہ کے سماعت ملتوی کرنے کی درخواستوں کو مسترد کریں اور تاخیری حربوں پر جرمانہ یا اخراجات عائد کریں تو مقدمات کو لٹکانے والے وکلا خود بخود احتیاط برتیں گے جبکہ کیس مینجمنٹ سسٹم کو سخت بنانا، مقررہ وقت کے اندر کارروائی مکمل کرنے کا حکم دینا، اور تاخیری حربے اختیار کرنے والے وکلا کے خلاف تادیبی کارروائی کا اشارہ دینا بھی مؤثر اقدامات ہو سکتے ہیں۔ گو کہ بعض عدالتوں میں پہلے ہی ایسے اصول موجود ہیں جن کے تحت غیر ضروری التواؤں پر پابندی ہے، لیکن ان پر عمل درآمد کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ انصاف کے طلب گارسائلین کا حق ہے کہ انہیں جلد انصاف ملے، طویل مقدمات ان کے روزگار، خاندان اور صحت پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔
اگر جج صاحبان بروقت مداخلت کریں تو نہ صرف انفرادی مقدمات جلد نمٹیں گے بلکہ مجموعی طور پر عدالتی نظام کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ جج صاحبان کو وکلا کو بھی اپنے پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق کی یاد دہانی کرانی چاہیے کہ ان کا فرض موکل کی مدد کرنا ہے نہ کہ نظام کو الجھانا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تقریباً 17,745 مقدمات زیر التوا ہیں۔ یہ اعداد و شمار لا کامشن آف پاکستان (LJCP) کی بائی اینول جوڈیشل اسٹیٹسٹکس رپورٹ (جنوری تا جون 2026) کے مطابق ہیں اور مقدمات کے زیر التوا ہونے کی واحد اور بڑی وجہ وکلا صاحبان کے وہ تاخیری حربے ہیں جن کا زکر اوپر عرض کیا ہے۔
انصاف کی فراہمی میں تاخیر معاشرے کے لیے زہر ہے۔ جج صاحبان سے ہاتھ جوڑ کر عرض ہے کہ وہ غیر جانبداری اور سختی کے ساتھ تاخیری حربوں کی حوصلہ شکنی کریں کیونکہ صرف اسی صورت میں سائلین کو حقیقی معنوں میں جلد انصاف مل سکے گا، عدالتی نظام عوام کے اعتماد کا مستحق بن سکے گا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہزاروں کی تعداد میں زیر التوا مقدمات میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گی۔ گزارشوں پہ غور کیجئے
واپس کریں