مدارس کی رجسٹریشن۔ریاست اور مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی کشمکش؟
خالد خان۔ کالم نگار
کوئٹہ ویسٹ کے ڈپٹی کمشنر کا سات روز میں مدارس کی رجسٹریشن مکمل کرنے کا نوٹس، بصورت دیگر مدارس سیل کرنے کی تنبیہ؛ جمعیت علمائے اسلام کا شدید ردعمل، انتظامی اقدام نے ایک بار پھر مدارس کی خودمختاری، ریاستی اختیار اور مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ جاری سیاسی اختلافات کو موضوع بحث بنا دیا۔
کوئٹہ ویسٹ کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ضلع کوئٹہ کے دینی مدارس کو جاری کیے گئے ایک سرکاری نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام مدارس سات روز کے اندر بلوچستان چیریٹیز رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) کے تحت اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور متعلقہ دفتر میں حاضر ہو کر رجسٹریشن کا عمل پورا کریں۔ 4 نومبر 2026ء کو جاری ہونے والے اس نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر رجسٹریشن نہ کرانے والے مدارس کو سیل کیا جائےگا۔
اس اقدام پر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی اور نئے ناتجربہ کار افسران کو استعمال کرنے والوں کو جمعیت بخوبی جانتی ہے۔ مدارس کے خلاف ایسے مضحکہ خیز اقدامات سے دینی مدارس اور ان سے وابستہ افراد کو مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس ملک میں دینی اور تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں، اس لیے انہیں غیر ضروری سرکاری نوٹسز کے ذریعے ہراساں کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
مولانا عبدالواسع کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں مدارس رجسٹریشن بل پیش کرنے سے راہ فرار اختیار کرنے کے بعد اب بلیک میلنگ اور دباؤ کا سہارا لیا جا رہا ہے، حالانکہ مدارس کی رجسٹریشن میں رکاوٹ خود صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہیں، مدارس نہیں۔
اس معاملے کو محض ایک ضلعی افسر کے نوٹس اور جمعیت کے ردعمل تک محدود رکھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے پس منظر میں مولانا فضل الرحمٰن اور ریاستی اداروں کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے جاری سیاسی کشمکش بھی موجود ہے، جس میں مدارس کی رجسٹریشن ایک اہم اور حساس موضوع بن چکی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بلوچستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے 2019ء کا چیریٹیز رجسٹریشن قانون موجود ہے اور بلوچستان چیریٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن اتھارٹی نے مدارس کے لیے الگ آن لائن رجسٹریشن نظام بھی قائم کر رکھا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صوبے میں رجسٹریشن کے لیے کوئی قانونی راستہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ تاہم وفاقی سطح پر مدارس کی رجسٹریشن کے نظام، 2024ء کی قانون سازی اور صوبائی قوانین کے درمیان تعلق اور عملی طریقۂ کار پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
یہ تنازع اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ حکومت اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان سیاسی مفاہمت کا حصہ بنا۔ مولانا کا مؤقف تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹیز ایکٹ کے تحت ہونی چاہیے، جبکہ حکومت کی جانب سے پہلے سے قائم ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجس ایجوکیشن کے نظام کو برقرار رکھنے پر اصرار کیا گیا۔ دسمبر 2024ء میں اس معاملے پر حکومتی اور جمعیت قیادت کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔
بلوچستان میں یہ اختلاف محض نظریاتی بحث نہیں رہا۔ رواں سال اپریل میں مدارس کے خلاف کارروائیوں اور مبینہ سیلنگ کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان نے صوبائی حکومت کی تقریبات اور سرکاری اجلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ بعدازاں 5 مئی 2026ء کو وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں مدارس کے مسائل اور رجسٹریشن کا معاملہ باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس لیے نومبر میں دوبارہ سامنے آنے والا یہ نوٹس ایک ایسے تنازعے کو تازہ کر رہا ہے جسے چند ماہ پہلے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یہاں دونوں فریقوں کے مؤقف کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔
ریاست کو یہ اختیار اور ذمہ داری حاصل ہے کہ وہ تعلیمی، فلاحی اور مذہبی اداروں کی قانونی حیثیت، مالی معاملات اور انتظامی سرگرمیوں کی نگرانی کرے۔ مدارس کو بھی قانون سے بالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رجسٹریشن، مالی شفافیت اور جواب دہی کسی بھی ادارے کے لیے ایک جائز انتظامی تقاضا ہیں۔ اگر کسی ادارے کی رجسٹریشن قانون کے تحت لازم ہے تو اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
لیکن ریاستی اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ انتظامیہ ہر معاملے میں سختی کو ہی اپنی کامیابی سمجھے۔ سات روز کی مہلت، مدارس سیل کرنے کی تنبیہ اور پہلے سے موجود رجسٹریشن کے مختلف نظاموں کے درمیان ابہام ایسے سوالات پیدا کرتے ہیں جن کا جواب حکومت کو دینا چاہیے۔ کیا تمام متعلقہ مدارس کو رجسٹریشن کا واضح طریقہ بتایا گیا ہے؟ کیا پہلے سے رجسٹرڈ مدارس کی قانونی حیثیت واضح ہے؟ کیا ان کے اعتراضات اور دستاویزات کی جانچ کے لیے مناسب وقت اور طریقۂ کار موجود ہے؟ اور کیا کسی ادارے کو سیل کرنے سے پہلے اسے قانونی سماعت اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا؟
اسی طرح جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف کو بھی محض مدارس کے تحفظ کی مذہبی جدوجہد سمجھ کر ہر سوال سے بالاتر نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں بھی واضح کرنا ہوگا کہ رجسٹریشن، مالی شفافیت اور قانونی جواب دہی کے لیے کون سا نظام قابل قبول ہے اور مدارس کی جانب سے قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کا طریقہ کیا ہوگا۔ حکومت پر وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام اپنی جگہ، لیکن اس کے ساتھ ایک قابل عمل متبادل بھی پیش ہونا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ماضی میں ریاستی اور حکومتی قوتوں کے ساتھ سیاسی مفاہمت بھی کرتے رہے ہیں اور اختلاف کی صورت میں کھل کر مزاحمت بھی کرتے رہے ہیں۔ 2024ء کے انتخابات کے بعد ان کا اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار، انتخابی عمل اور حکومتی فیصلوں پر تنقیدی مؤقف زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ نومبر کے آغاز میں جمعیت بلوچستان کی جانب سے کارکنوں کو ممکنہ سیاسی حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جماعت اپنے مرکزی قائد کے سیاسی مؤقف کے ساتھ تنظیمی سطح پر متحرک رہنا چاہتی ہے۔
تاہم یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر کا نوٹس براہ راست مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف کسی مرکزی ریاستی منصوبے کا حصہ ہے۔اسی طرح اسے محض ایک معمول کی انتظامی کارروائی قرار دے کر اس کے سیاسی اثرات کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا، خصوصاً جب اسی معاملے پر پہلے بھی صوبائی حکومت اور جمعیت کے درمیان شدید اختلاف اور مذاکرات ہو چکے ہیں۔
اصل مسئلہ ریاستی اختیار اور مدارس کی خودمختاری کے درمیان ایک قابل قبول قانونی توازن پیدا کرنے کا ہے۔ اگر رجسٹریشن واقعی قانونی ضرورت ہے تو حکومت کو تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر واضح، یکساں اور قابل عمل طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ دوسری طرف مدارس کی قیادت کو بھی رجسٹریشن اور جواب دہی کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے تحفظات قانون سازی اور پارلیمانی عمل کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔
پاکستان کو اس وقت پہلے ہی کئی سیاسی، معاشی اور امن و امان کے مسائل درپیش ہیں۔ ایسے حالات میں ریاست اور ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے درمیان غیر ضروری محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں۔ ریاست کی مضبوطی قانون کے یکساں نفاذ میں ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری اختلاف کو آئینی اور جمہوری حدود میں رکھنے میں ہے۔
ریاست کو یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کا مقصد قانون کی عمل داری ہے، سیاسی دباؤ نہیں؛ اور مولانا فضل الرحمٰن کو یہ ثابت کرنا ہے کہ مدارس کی خودمختاری کا مطالبہ قانونی جواب دہی سے استثنا کا مطالبہ نہیں۔ یہی اس تنازعے کا اصل امتحان ہے۔
واپس کریں