دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بجلی کے بلوں کا اضافی بوجھ ۔ خلیل احمد نینی تا ل والا
No image قارئین ! ایک بار پھر بجلی صارفین پر مہنگی بجلی کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق دسمبر سے فروری تک فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں 2سے 3گنا اضافے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ایل این جی، کوئلے اور دیگر ایندھن کی قیمتیں بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا موجب بن رہی ہیں جسکے باعث سردیوں میں پن بجلی کی پیداوار کم ہونے سے مہنگے ایندھن پر انحصار بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہ امر واقع ہے کہ سردیوں میں بجلی کی کھپت نسبتاََ کم ہو جاتی ہے اور گھریلو صارفین کی جانب سے بجلی کا استعمال بھی گرمیوں کے مقابلے میں محدود رہتا ہے۔ اگر حکومت سرد موسم میں بھی بجلی کے نرخوں میں اضافے یا کسی نئے مالیاتی بوجھ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تو یہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے اور مرے کو ماریں شاہ مدار والی پالیسی کے مترادف ہوگا۔ پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور بجلی، گیس اور پانی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں سردیوں کے موسم میں عوام کیلئے ریلیف کے بجائے اضافی مالی مشکلات پیدا کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ یہ حقیقت حکمرانوں کے پیش نظر رکھنی چاہئے کہ بجلی اب محض آسائش کی چیز نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ گھروں میں روشنی، پانی کی فراہمی، بچوں کی تعلیم، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کا بیشتر انحصار بجلی پر ہے۔ بجلی کے بھاری بلوں نے پہلے ہی متوسط اور تنخواہ دار طبقات کی کمر توڑ رکھی ہے۔ کم آمدنی والے گھرانوں کیلئے تو بجلی کے بلوں کی ادائیگی بھی ایک مشکل مسئلہ بن چکی ہے، نیز گیس کے نرخوں اور دیگر یوٹیلٹی اخراجات میں اضافے نے عوام کی مشکلات دوچند کر دی ہیں۔حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ عوام سے مزید وصولیاں کرکے قومی معیشت کو سہارا دینے کی پالیسی کب تک کامیاب ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قومی ریونیو میں اضافے کیلئے ہمیشہ کی طرح عام شہریوں کو آسان ہدف بنانے کے بجائے مراعات یافتہ اشرافیہ، بڑے جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور ٹیکس نیٹ سے باہر موجود صاحبِ ثروت طبقات کو قومی مالیاتی دھارے میں لائے۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی، سرکاری اداروں کی مالیاتی بدانتظامی کا خاتمہ، بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات پر قابو اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔حکومت کو عوام کی اقتصادی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے سردیوں میں بجلی کے بلوں میں حقیقی ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کرنی چاہئے۔ نہ کہ اس موسم میں بھی ان پر اضافی بوجھ ڈالنے کے راستے تلاش کئے جائیں۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ معاشی استحکام عوام کی مشکلات بڑھانے سے نہیں بلکہ ان کی زندگی آسان بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مراعات یافتہ طبقات کو قومی ذمہ داریوں کا پابند بنانے سے حاصل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی معاشی صورتحال کا جو نقشہ عالمی بینک کی رپورٹ میں پیش کیا ہے وہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25ءمیں پاکستان میں غربت کی شرح بڑھکر29فیصد ہوگئی، جبکہ تقریبا7 کروڑ 26لاکھ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ 2018-19ءسے 2024-25ءکے دوران یومیہ 3ڈالر سے کم آمدن والے افراد کی شرح میں6.4فیصد پوائنٹ اضافہ ہوا۔ مہنگائی، معاشی سست روی، روپے کی قدر میں کمی، کورونا وبا، 2022ءکے تباہ کن سیلاب اور طویل معاشی ایڈ جسٹمنٹ کو اس صورتحال کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ ان عوامل نے عام گھرانوں کی حقیقی آمدن اور روزگار کے مواقع کو کمزور کر دیا ہے۔ ان اعداد وشمار کے پیچھے کروڑوں پاکستانیوں کی اذیت ناک زندگیاں ہیں۔ کسی گھر میں آٹا خریدنے کے پیسے نہیں ، کسی کے پاس بچوں کی فیس ادا کرنے کی گنجائش نہیں، کوئی بجلی کابل جمع کرانے کیلئے قرض مانگ رہا ہے تو کوئی علاج کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ملک میں لوگ بچوں کے دودھ اور گھر کے راشن کیلئے پریشان ہوں، وہاں حکومتی ترجیحات میں عام آدمی کی مشکلات آخر کتنی اہمیت رکھتی ہیں ؟ اس سال کا ایک تلخ جواب نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو کے منظور شدہ معاوضے اور مراعات کے پیکیج میں دکھائی دیتا ہے۔ ان کی ماہانہ مجموعی تنخواہ95لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ مکان کے کرائے کیلئے10لاکھ روپے الگ ملیں گے۔ یوں صرف تنخواہ اور رہائشی الاؤنس ملا کر ماہانہ رقم ایک کروڑ5لاکھ روپے اور سالانہ12کروڑ60لاکھ روپے بنتی ہے۔ اسکے علاوہ کارکردگی بونس اور دوسری مراعات بھی شامل ہیں۔ مراعات کی فہرست بھی کم حیران کن نہیں۔ 2گاڑیاں، 2ڈرائیور، 5گھر یلو ملازمین کی تنخواہیں، 4مسلح سیکورٹی گارڈ بجلی، گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگی، موبائل اور ٹیلی فون کی سہولت، گھر پر جزیٹر، طبی اخراجات، 3کروڑ روپے کی لائف انشورنس اور کلبوں کی رکنیت جیسے انتظامات اس پیکیج کا حصہ ہیں ۔ گھر کی آرائش کیلئے 95لاکھ روپے کی یک مشت گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے۔ نیشنل بینک ملک کا ایک بڑا سر کاری بینک ہے۔ اس کے اعلیٰ عہدیداروں کے معاوضے اور مراعات کو قومی وسائل اور عوامی احتساب کے سوال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ نہیں کہ کسی عہدیدار کواس کی ذمہ داریوں کے مطابق معاوضہ کیوں دیا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس معاوضے اور مراعات کی حد مالی حد کون مقرر کرتا ہے؟ جس ملک میں کروڑوں افراد نان جویں کو ترس رہے ہوں، وہاں اشرافیہ کی عیاشی اور شاہانہ مراعات کسی صورت قابل برداشت نہیں۔ اگر حکومتی پالیسیوں کا رخ عام آدمی کی طرف نہ موڑا گیا تو غربت محرومی اور مایوسی کا بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔ جس کا انجام نہایت بھیا نک ہو سکتا ہے۔ بشکریہ جنگ
واپس کریں