اختلافِ رائے جرم نہیں، ریاستی اختیار انتقام کا ہتھیار نہیں!
خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان میں سیاسی اختلاف، آئینی حقوق اور ریاستی اختیارات کے استعمال کا سوال ایک مرتبہ پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے سینیٹ کی استحقاق کمیٹی میں جمع کرائی گئی تحریک استحقاق نے ایک ایسا معاملہ اٹھایا ہے جسے کسی جماعت، شخصیت یا سیاسی وابستگی کے محدود تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ معاملہ شہری آزادیوں، گھر کی حرمت اور ریاستی اداروں کے قانونی طرز عمل سے تعلق رکھتا ہے۔
کامران مرتضیٰ کے مطابق 4 نومبر کو تقریباً چالیس افراد نے ان کے ذاتی اور آبائی گھروں کا گھیراؤ کیا، دروازوں پر لاتیں ماریں، دیواروں پر چڑھ کر اندر کی تصاویر بنائیں اور گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بھائی کی جانب سے ان افراد کی شناخت دریافت کرنے پر انہوں نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنے پر آنے والا بتایا، لیکن اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔ یہ تمام الزامات اب باضابطہ تحقیقات کے متقاضی ہیں۔
اس واقعے کو اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ کامران مرتضیٰ نہ صرف سینیٹ کے رکن ہیں بلکہ ایک سینئر قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔ تاہم ان کی سیاسی اور قانونی حیثیت سے قطع نظر، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا کوئی شہری اپنے گھر میں بھی خود کو محفوظ محسوس کر سکتا ہے؟
کامران مرتضیٰ جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی مؤقف کا دفاع کرتے ہیں۔ پارلیمان ہو یا ٹیلی ویژن کے مباحث، وہ اپنے دلائل کے ذریعے اپنے قائد اور جماعت کا موقف پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی سیاسی رہنما کے حق میں دلیل دینا، حکومت یا ریاستی پالیسی سے اختلاف کرنا اور اپنے سیاسی نظریے کا دفاع کرنا ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ اس حق کو کسی بھی صورت جرم یا ریاست دشمنی کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے بھائی کی دکان سیل کیے جانے اور خاندان کو مبینہ طور پر مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اگر ان کارروائیوں کا تعلق واقعی کامران مرتضیٰ کے سیاسی مؤقف سے ہے تو یہ انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے۔ کسی شخص کے سیاسی خیالات کی سزا اس کے بھائی، خاندان یا کاروبار کو دینا نہ قانون کی حکمرانی ہے اور نہ ہی ریاستی نظم و ضبط۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی ادارے قانون کے تابع ہیں، قانون سے بالاتر نہیں۔ ان کے پاس تفتیش، نگرانی اور قانونی کارروائی کے اختیارات ضرور ہیں، لیکن ان اختیارات کے استعمال کی بھی آئینی حدود ہیں۔ کسی گھر میں داخل ہونے، کسی کاروبار کو سیل کرنے یا کسی شہری کو ہراساں کرنے کے لیے قانونی جواز اور طے شدہ طریقہ کار ضروری ہے۔ محض کسی ادارے کا نام لے لینا کسی کارروائی کو قانونی نہیں بنا دیتا۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شہری حقوق کا تحفظ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ آج کامران مرتضیٰ کے ساتھ مبینہ طور پر ایسا ہو رہا ہے تو کل کسی دوسری جماعت کے رہنما یا ایک عام شہری کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر ہم صرف اپنے پسندیدہ سیاسی رہنماؤں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور مخالفین کے معاملے میں خاموش رہیں تو دراصل ہم اصولوں کے نہیں، شخصیات اور جماعتوں کے وفادار ہیں۔
سینیٹ کی استحقاق کمیٹی کے سامنے اب ایک واضح ذمہ داری ہے۔ اسے اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانی چاہییں، مبینہ طور پر گھروں کا گھیراؤ کرنے والے افراد کی شناخت سامنے لانی چاہیے، ان کے احکامات اور قانونی اختیار کا تعین کرنا چاہیے اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرنے کے الزامات کی حقیقت معلوم کرنی چاہیے۔ اگر کسی ادارے کے اہلکار ملوث پائے جائیں تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی انتقام، ادارہ جاتی کشمکش اور باہمی عدم اعتماد کی مزید گنجائش نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، اداروں کی جواب دہی اور سیاسی اختلاف کے احترام کی ضرورت ہے۔ ریاست کی طاقت کا اصل معیار یہ نہیں کہ وہ اپنے مخالفین کو کتنا دباؤ میں لا سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اختلاف کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ کس حد تک یقینی بناتی ہے۔
ہم فریق نہیں، حقیقت جاننے والے ہیں۔ ہمارا مطالبہ کسی سیاسی جماعت کے لیے رعایت نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے یکساں قانون ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی بنیاد ہے، اسے انتقام کا جواز بنانے والی کوئی بھی روش ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
واپس کریں