دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
چارسدہ کے دریاؤں میں سونے کا کھیل! ضلع بھر میں کان کنی بند، مگر موٹروے پل کے سائے میں رات کا کاروبار جاری؟
No image (پشاور) خالد خان سے
پانچ کروڑ 68 لاکھ کی لیز، 54 کروڑ کی متنازع ریزرو قیمت، مبینہ طور پر روزانہ 150 گاڑیاں ریت لے جانے لگیں؛ لیز اعجاز مرتضیٰ کے نام، عملی سرگرمیاں منظور اور حاجی روئید سے منسوب، سابقہ 22 لاکھ جرمانے کی کہانی بھی سامنے آگئی۔
چارسدہ کے دریاؤں میں آخر کس کا سونا بہہ رہا ہے اور کس کی جیب میں جا رہا ہے؟ معدنی وسائل کی نیلامی، کروڑوں روپے کے ٹھیکے، پلاسر گولڈ کے مخصوص ذخائر، موٹروے پل کی سلامتی اور سرکاری اداروں کی نگرانی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات ابھی حل نہیں ہوئے تھے کہ ایک نیا معاملہ سامنے آگیا۔ راقم الحروف کی تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد ضلع بھر میں کان کنی کی سرگرمیاں رک جانے کی اطلاعات ہیں، لیکن موٹروے پل کے قریب کیمپ کورنہ میں رات کی تاریکی میں ریت نکالنے اور گاڑیوں کے ذریعے منتقل کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سوال صرف غیرقانونی کان کنی کا نہیں بلکہ ریاستی نگرانی، قومی وسائل اور سرکاری مشینری کی کارکردگی کا بھی ہے۔
اس کہانی کا پس منظر بھی غیرمعمولی ہے۔ محکمہ معدنیات خیبرپختونخوا نے دریائے کابل کے دس معدنیاتی بلاکس کو ایک یونٹ کی صورت میں نیلام کیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 4 نومبر 2025 کو ہونے والی نیلامی میں اعجاز مرتضیٰ پانچ کروڑ 68 لاکھ روپے کی کامیاب بولی کے ساتھ ٹھیکے دار قرار پائے۔ بعدازاں 26 فروری 2026 سے 25 فروری 2027 تک لیز دی گئی اور 28 جنوری 2026 کو ورک آرڈر جاری کیا گیا۔ لیکن اس ٹھیکے کی حدود اور پلاسر گولڈ کے لیے مخصوص علاقوں پر تنازع کھڑا ہوگیا، جو سول عدالت سے ہوتا ہوا اپیلٹ عدالت تک پہنچا۔
عدالتی کارروائی میں ایک اہم حقیقت یہ سامنے آئی کہ دریائے کابل کے بعض علاقے، جن میں پلاسر گولڈ کے مخصوص بلاکس اے، بی اور سی شامل ہیں، عام معدنیاتی لیز سے الگ قرار دیے جا رہے ہیں۔ سول عدالت نے 27 اپریل 2026 کو ٹھیکے دار کے مجاز علاقے کی حدود واضح کرنے اور مخصوص پلاسر گولڈ بلاکس میں کام سے گریز کی ہدایت دی تھی۔ تاہم 5 اکتوبر 2026 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اول چارسدہ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے بھیج دیا اور مقامی کمیشن کے ذریعے موقع پر حدود اور کوآرڈینیٹس کی نشاندہی کا حکم دیا۔ گویا ابھی تک اصل حدود کا تنازع حتمی طور پر حل نہیں ہوا۔
اسی دوران ایک دوسرا محاذ کیمپ کورنہ کے مقام پر کھلتا دکھائی دیتا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق رات کے وقت ریت نکالنے کا کام جاری ہے۔ اس مقام پر عملی سرگرمیاں منظور اور حاجی روئید سے منسوب کی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ لیز اعجاز مرتضیٰ کے نام بتائی جاتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اعجاز مرتضیٰ کی رسیدوں پر فی ڈمپر تین ہزار اور فی دس ویلر گاڑی چھ ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ رات کے دوران تقریباً 100 سے 150 گاڑیاں ریت لے کر نکلتی ہیں اور اس سرگرمی سے روزانہ دو سے تین لاکھ روپے تک آمدن حاصل ہوتی ہے۔
اس معاملے میں سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ضلع بھر میں کان کنی کی سرگرمیاں بند ہونے کی اطلاعات کے باوجود موٹروے پل کے قریب یہ مخصوص مقام مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ کیا یہاں کام کی باقاعدہ اجازت موجود ہے؟ اگر ہے تو کس نوعیت کی ہے؟ کیا منظور اور حاجی روئید کو لیز ہولڈر کی جانب سے عملی کان کنی کا اختیار حاصل ہے؟ اور اگر اجازت نامہ صرف کسی مخصوص مقصد کے لیے جاری کیا گیا تھا تو کیا اس کی شرائط پر عمل ہو رہا ہے؟
ذرائع کے مطابق اس مقام پر ریت نکالنے کی سرگرمیاں 2020 سے جاری ہیں۔ 2020 اور 2021 میں مبینہ طور پر ٹھیکیدار پشم گل کے نام مٹی کی بھرائی کے لیے اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا، لیکن اس کی آڑ میں ریت نکالنے کی شکایت پر محکمہ معدنیات نے مبینہ طور پر 22 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ماضی میں اسی مقام پر خلاف ورزی سامنے آئی تھی تو موجودہ سرگرمیوں کی نگرانی کس کے ذمے ہے؟
کیمپ کورنہ کی جغرافیائی اہمیت بھی کم نہیں۔ یہ مقام چارسدہ، پشاور اور نوشہرہ کے سرحدی علاقے کے قریب واقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریت سے لدی گاڑیاں چارسدہ کے بجائے براہ راست پشاور کی طرف روانہ ہوتی ہیں۔ دوسری طرف پولیس کی حدود اور انتظامی ذمہ داریوں کے تعین سے متعلق بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کیا تین اضلاع کی سرحدوں کے قریب واقع اس مقام پر نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے یا انتظامی حدود کی پیچیدگی کسی کے لیے سہولت بن رہی ہے؟
معاملہ صرف ریت اور بجری تک محدود نہیں۔ مقامی حلقوں نے موٹروے پل کی بنیادوں، دریائی بہاؤ اور آبپاشی کے حفاظتی بند یا دیوار کو ممکنہ نقصان پہنچنے کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔ الزام ہے کہ بعض مقامات پر حفاظتی دیوار میں راستہ بنایا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ محض معدنیاتی خلاف ورزی نہیں بلکہ عوامی سلامتی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرے کا معاملہ ہے۔ اس کی تصدیق موٹروے حکام، محکمہ آبپاشی اور تکنیکی ماہرین کے مشترکہ معائنے سے ہی ہوسکتی ہے۔
اس کہانی میں سرکاری نیلامی کے مالی اعدادوشمار بھی ایک الگ معمہ بنے ہوئے ہیں۔ دس بلاکس کی انفرادی ریزرو قیمتوں کا مجموعہ 12 کروڑ 33 لاکھ 33 ہزار 202 روپے بنتا ہے، جبکہ دس فیصد اضافے کے بعد یہ تقریباً 13 کروڑ 56 لاکھ 66 ہزار 522 روپے بنتا ہے۔ دوسری جانب اشتہار میں ابتدائی قیمت پانچ کروڑ 68 لاکھ روپے اور ایک دوسرے مقام پر مجموعی ریزرو قیمت 54 کروڑ 9 لاکھ 25 ہزار روپے درج ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق کامیاب بولی بھی پانچ کروڑ 68 لاکھ روپے تھی۔ ان اعداد کے درمیان غیرمعمولی فرق کی وضاحت تاحال سامنے نہیں آئی۔ کیا یہ طباعتی غلطی ہے، حساب کا کوئی الگ طریقہ ہے یا نیلامی کے مالی عمل میں کوئی ایسی پیچیدگی ہے جسے عوام سے چھپایا جا رہا ہے؟ محکمہ معدنیات کو اصل ریکارڈ کے ساتھ جواب دینا ہوگا۔
اب اس معاملے میں تین بنیادی تحقیقات ناگزیر ہیں: پہلی، اعجاز مرتضیٰ کے نام جاری لیز اور ورک آرڈر کی اصل حدود اور شرائط کیا ہیں؟ دوسری، کیمپ کورنہ میں منظور اور حاجی روئید سے منسوب سرگرمیاں کس قانونی اختیار کے تحت جاری ہیں اور روزانہ منتقل ہونے والی گاڑیوں اور وصولیوں کا حقیقی ریکارڈ کیا ہے؟ تیسری، کیا موٹروے پل، آبپاشی کے حفاظتی نظام یا پلاسر گولڈ کے مخصوص ذخائر کو ان سرگرمیوں سے کوئی نقصان پہنچ رہا ہے؟
خیبرپختونخوا حکومت، محکمہ معدنیات، محکمہ آبپاشی، موٹروے حکام اور ضلعی انتظامیہ کو مشترکہ تکنیکی معائنہ کرکے حقائق سامنے لانے چاہییں۔ کیمپ کورنہ میں رات کے وقت ہونے والی سرگرمیوں کی ویڈیوز، گاڑیوں کی نقل و حرکت، رسیدوں، سابقہ جرمانے اور موجودہ اجازت ناموں کا ریکارڈ بھی جانچ کے دائرے میں لایا جائے۔ اگر خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور اگر سرگرمیاں قانونی ہیں تو اجازت نامے اور ان کی حدود عوام کے سامنے رکھی جائیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ دریائے کابل سے ریت کون نکال رہا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ قومی وسائل کے اس کاروبار میں قانون کس کے لیے ہے، نگرانی کون کر رہا ہے اور کروڑوں روپے کے معدنیاتی ذخائر کا حساب کس کے پاس ہے؟
چارسدہ میں کان کنی کی سرگرمیاں رکنے کے باوجود کیمپ کورنہ کا معاملہ برقرار رہنا متعلقہ اداروں کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہم کسی ٹھیکے دار کے مخالف ہیں، نہ کسی محکمے کے حامی؛ ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو ریکارڈ سامنے لانے میں تاخیر کیوں؟ اور اگر خلاف ورزی ہو رہی ہے تو کارروائی کون کرے گا؟
دریائے کابل کا سونا قومی اثاثہ ہے، کسی کی نجی جاگیر نہیں۔
واپس کریں