خیبرپختونخوا کے عوام سے اختیار کیوں چھینا جا رہا ہے؟
خالد خان۔ کالم نگار
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے باقی ماندہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا جاری عمل روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی 5 نومبر 2026 کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق کمیشن نے وفاقی حکومت کی جانب سے 4 نومبر کو جاری کردہ آرڈر نمبر 3 کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں آئین کے آرٹیکل 140-A کو معطل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے اپنے اجلاس میں اس حکم کے تحت مخصوص اضلاع کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق تمام جاری انتخابی سرگرمیاں روکنے کا فیصلہ کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق انتخابات کے سلسلے میں اب تک کیے گئے تمام اقدامات بھی روک دیے گئے ہیں۔
پاکستان کے سیاسی اور انتظامی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ہم اکثر اختیارات کی مرکزیت، کمزور اداروں، ناقص حکمرانی اور عوام سے بڑھتے ہوئے فاصلے کا ذکر کرتے ہیں، لیکن جب ان مسائل کے عملی حل کی بات آتی ہے تو سب سے اہم ادارے یعنی بلدیاتی حکومتیں ہماری ترجیحات سے غائب ہو جاتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا اصل امتحان صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نہیں ہوتا۔ اس کا سب سے براہ راست تعلق عام شہری کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ کسی محلے کی ٹوٹی ہوئی سڑک، گلیوں کی صفائی، نکاسی آب، پینے کا پانی، مقامی ترقیاتی منصوبے اور شہری سہولتیں وہ مسائل ہیں جن سے شہری ہر روز دوچار ہوتا ہے۔ ان مسائل کا حل اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب فیصلے کرنے کا اختیار اسی علاقے کے منتخب نمائندوں کے پاس ہو۔
بلدیاتی حکومتیں محض چند مقامی نمائندوں یا ترقیاتی منصوبوں کا نام نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ایک بنیادی جمہوری تصور ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے عام آدمی کو اپنے مسائل کے حل میں براہ راست شرکت کا موقع ملتا ہے۔ عوام اپنے نمائندوں سے سوال کر سکتے ہیں، ان کی کارکردگی کا جائزہ لے سکتے ہیں اور اگلے انتخابات میں انہیں مسترد بھی کر سکتے ہیں۔ یہی سیاسی جواب دہی ہے اور یہی جمہوریت کی عملی صورت ہے۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ اختیارات کا چند ہاتھوں میں مرتکز ہونا ہے۔ صوبائی حکومتیں اکثر مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی مرکزیت پسندانہ انتظامی طریقہ اختیار کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک گلی کی مرمت سے لے کر پینے کے پانی کی فراہمی تک کے معاملات سیاسی سفارش، سرکاری منظوری اور حکومتی ترجیحات کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ مضبوط بلدیاتی ادارے اس طرز حکمرانی کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ وہ نہ صرف صوبائی حکومتوں کا انتظامی بوجھ کم کرتے ہیں بلکہ مقامی وسائل کے استعمال اور ترقیاتی ترجیحات کے تعین میں عوام کو شریک بناتے ہیں۔
اسی لیے بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کا نچلا درجہ سمجھنے کے بجائے اس کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن ان کے وجود سے مقامی حکومتوں کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔ ایک مضبوط جمہوری نظام میں یہ ادارے ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا عمل روکنے کا فیصلہ کس حد تک درست اور عوامی مفاد میں ہے؟
صوبے میں پہلے ہی گورنر راج کے باعث منتخب صوبائی حکومت کا معمول کا پارلیمانی اور انتظامی کردار معطل ہے۔ ایسے حالات میں بلدیاتی انتخابات کا عمل بھی روک دینا جمہوری نمائندگی کے ایک اور اہم راستے کو بند کرنے کے مترادف ہے۔ عام شہری پہلے ہی صوبائی سطح پر اپنی منتخب حکومت کے ذریعے براہ راست سیاسی شرکت سے محروم ہے، اب مقامی سطح پر بھی اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع اس سے لے لیا گیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال بھی اٹھتا ہے۔ اگر بعض علاقوں میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ہے تو کیا اس کا حل پورے صوبے کے انتخابی عمل کو روک دینا ہے؟ کیا زیادہ متاثرہ علاقوں کے لیے الگ انتظامات، مرحلہ وار انتخابات یا بہتر سکیورٹی حکمت عملی اختیار نہیں کی جا سکتی؟ انتظامی مشکلات اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں، لیکن ان کا حل عوام کے جمہوری حقوق کو غیر معینہ مدت تک معطل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔ لہٰذا وفاقی حکومت کے حکم کے ذریعے اس آئینی شق کی معطلی اور اس کے نتیجے میں انتخابی عمل روکنے کے فیصلے کا قانونی جواز، آئینی حدود اور مدت کا سنجیدہ جائزہ ضروری ہے۔ محض ایک انتظامی حکم کو عوام کے بنیادی جمہوری حق پر غیر معینہ مدت کی پابندی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بلدیاتی انتخابات کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے یا نقصان دینے کا ذریعہ نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا مقصد عوام کو نمائندگی دینا ہے۔ آج اگر کسی جماعت کی حکومت ہے تو کل کسی دوسری جماعت کی ہو سکتی ہے، لیکن مقامی حکومتوں کی ضرورت ہر دور میں برقرار رہتی ہے۔ جو سیاسی قوتیں آج اپنے مفاد میں بلدیاتی انتخابات روکنے کے فیصلے کو درست سمجھتی ہیں، انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کل یہی فیصلہ ان کے اپنے سیاسی اور عوامی اختیار کو محدود کر سکتا ہے۔
ہم نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور ریاستی اداروں کی مؤثر حکمت عملی کی ضرورت کو ہمیشہ اہم سمجھا ہے۔ ریاستی اصلاحات اور مضبوط انتظامی فیصلوں کی حمایت بھی اسی امید سے کی جا سکتی ہے کہ ان کے نتیجے میں عوام کو بہتر زندگی، امن اور ترقی ملے گی۔ لیکن کسی بھی اصلاحاتی عمل کی کامیابی کا پیمانہ عوام کی بااختیاری ہونا چاہیے، ان سے اختیار چھیننا نہیں۔
یہ بات کسی شخصیت یا حکومت کی حمایت اور مخالفت سے بالاتر ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مضبوط ریاست اور بااختیار عوام ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ایک مستحکم ریاست وہی ہوتی ہے جس کے ادارے مضبوط ہوں، اختیارات آئینی طریقے سے تقسیم ہوں اور شہریوں کو اپنی زندگی سے متعلق فیصلوں میں شرکت کا حق حاصل ہو۔
خیبرپختونخوا کے عوام پہلے ہی دہشت گردی، معاشی مشکلات، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں اس وقت زیادہ نمائندگی، زیادہ اختیارات اور بہتر مقامی حکمرانی کی ضرورت ہے، نہ کہ جمہوری اداروں کے مزید تعطل کی۔
بلدیاتی انتخابات کی معطلی کا فیصلہ محض ایک انتخابی سرگرمی روکنے کا معاملہ نہیں۔ یہ اس بنیادی سوال سے جڑا ہے کہ ہم پاکستان میں اقتدار کو عوام تک منتقل کرنا چاہتے ہیں یا اسے مزید چند ہاتھوں میں محدود رکھنا چاہتے ہیں۔
ہماری رائے میں خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کے مقامی نمائندے منتخب کرنے کا حق جلد از جلد واپس ملنا چاہیے۔ امن و امان کے مسائل کا حل بھی ضروری ہے اور جمہوری اداروں کی بحالی بھی۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا دانش مندی نہیں۔
پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے عوام سے اختیار لینے کی نہیں، انہیں اختیار دینے کی ضرورت ہے۔ بلدیاتی جمہوریت اسی سفر کا پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔
واپس کریں