دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
چارسدہ کے دریاؤں میں سونا، کروڑوں کا معدنیاتی ٹھیکہ اور سرکاری نظام کے کئی سوال!
No image (پشاور) خالد خان سے
موٹروے پل، آبپاشی کی حفاظتی دیوار اور پلاسر گولڈ کے ذخائر خطرے میں؟ پانچ کروڑ 68 لاکھ کی نیلامی سے عدالتی جنگ تک، ذمہ دار کون؟
چارسدہ کے دریائے کابل کے کنارے ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جو بیک وقت قومی خزانے، قدرتی وسائل، سرکاری اداروں کی کارکردگی، عوامی سلامتی اور قانون کی عملداری سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں معاملہ محض ریت، بجری اور پتھر نکالنے کے ایک ٹھیکے کا نہیں بلکہ دریائی حدود میں موجود قیمتی معدنی ذخائر، سونے کی کان کنی کے لیے مخصوص علاقوں، موٹروے پل اور آبپاشی کے حفاظتی نظام کا بھی ہے۔ دستیاب سرکاری اشتہار، عدالتی فیصلے اور مقامی سطح پر سامنے آنے والے خدشات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو کئی ایسے سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب خیبرپختونخوا حکومت اور متعلقہ محکموں کو دینا چاہیے۔
محکمہ معدنیات خیبرپختونخوا کی جانب سے چارسدہ کے دس معدنیاتی بلاکس کو ایک یونٹ کے طور پر ایک سالہ لیز پر دینے کے لیے نیلامی کا اشتہار جاری کیا گیا۔ یہ اشتہار 16 اکتوبر 2025 کو روزنامہ آج میں شائع ہوا، جبکہ نیلامی 4 نومبر 2025 کو ہوئی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اس نیلامی میں اعجاز مرتضیٰ خان کامیاب بولی دہندہ قرار پائے اور پانچ کروڑ 68 لاکھ روپے کی بولی دی۔ انہوں نے ایک کروڑ 42 لاکھ روپے، یعنی بولی کی 25 فیصد رقم بطور سکیورٹی ایڈوانس جمع کرائی۔ بعدازاں 26 فروری 2026 سے 25 فروری 2027 تک کے لیے لیز دی گئی اور 28 جنوری 2026 کو ورک آرڈر بھی جاری کیا گیا۔
بظاہر یہ ایک معمول کی سرکاری نیلامی اور ٹھیکے کا معاملہ تھا، لیکن عملی طور پر کام شروع ہونے کے بعد محکمہ معدنیات اور ٹھیکے دار کے درمیان حدود کا تنازع پیدا ہوگیا۔ محکمے کا مؤقف تھا کہ دریائے کابل کے بعض علاقے، خصوصاً پلاسر گولڈ یعنی دریائی ریت اور بجری میں موجود سونے کے ذخائر، ڈائریکٹوریٹ جنرل معدنیات کی جانب سے الگ بلاکس کی صورت میں مخصوص کیے گئے ہیں۔ ان میں بلاک اے، بی اور سی شامل ہیں۔ محکمے کے مطابق ٹھیکے دار کو ان مخصوص علاقوں میں کان کنی کی اجازت نہیں تھی اور اس کے اہلکاروں کی رپورٹس کے مطابق وہاں کام کیا جا رہا تھا۔ محکمے نے اسے خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2017 کی دفعہ 56 کی خلاف ورزی قرار دیا۔
دوسری جانب ٹھیکے دار کا مؤقف تھا کہ وہ اپنے قانونی لیز ایریا کے اندر کام کر رہا ہے اور محکمہ اسے بلاجواز روک رہا ہے۔ یوں بنیادی تنازع یہ بن گیا کہ آیا کان کنی منظور شدہ حدود کے اندر ہو رہی تھی یا مخصوص پلاسر گولڈ بلاکس میں داخل ہو کر کی جا رہی تھی۔ یہ فرق معمولی نہیں، کیونکہ ایک طرف سرکاری نیلامی کے تحت حاصل کردہ لیز اور اس کے مالی تقاضے ہیں تو دوسری طرف قومی معدنی وسائل کے تحفظ اور مخصوص علاقوں میں کان کنی کے قانونی اختیار کا سوال ہے۔
یہ تنازع سول عدالت تک پہنچا۔ سول جج چارسدہ نے 27 اپریل 2026 کو فیصلہ دیتے ہوئے محکمہ معدنیات کو ہدایت کی کہ ٹھیکے دار کے مجاز علاقے کی حدود واضح کی جائیں اور ورک آرڈر کے مطابق کان کنی کی اجازت دی جائے، تاہم اسے مخصوص پلاسر گولڈ بلاکس میں کام سے روک دیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف محکمہ معدنیات کی جانب سے اپیل دائر کی گئی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اول چارسدہ نے 5 اکتوبر 2026 کو سول اپیل نمبر 48/13 کا فیصلہ سناتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھیج دیا۔ اپیلٹ عدالت نے قرار دیا کہ تنازع کا فیصلہ کرنے کے لیے محض فریقین کے دعوے کافی نہیں، بلکہ موقع پر جا کر لیز کی اصل حدود کا تعین ضروری ہے۔ عدالت نے مقامی کمیشن مقرر کرکے متعلقہ علاقے کی نشاندہی، حدود اور کوآرڈینیٹس کے ذریعے رپورٹ حاصل کرنے اور اس کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔
یہاں ایک اہم قانونی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ اپیلٹ عدالت نے نہ تو ٹھیکے دار کو متنازعہ پلاسر گولڈ بلاکس میں کان کنی کی اجازت دی اور نہ ہی یہ حتمی فیصلہ کیا کہ کان کنی قانونی حدود کے اندر ہو رہی تھی یا باہر۔ عدالت نے صرف یہ قرار دیا کہ اصل صورت حال معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ حدبندی اور موقع کی جانچ ضروری ہے۔ چنانچہ مقامی کمیشن کی رپورٹ اور ماتحت عدالت کے آئندہ فیصلے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اس عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ چارسدہ کے عوامی حلقوں کی جانب سے ایک اور سنگین معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ موٹروے کے قریب کیمپ کرونا کے مقام پر دریائے کابل میں ایسی جگہ کان کنی جاری ہے جو نیلام کیے گئے دس بلاکس میں شامل نہیں۔ ان حلقوں کے مطابق کان کنی کا کام موٹروے پل کے قریب ہو رہا ہے، جس سے پل کی بنیادوں اور ساخت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح آبپاشی کے حفاظتی بند یا دیوار کو نقصان پہنچنے اور اس میں راستہ بنانے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سیلاب کی صورت میں یہ صورتحال آبپاشی کے نظام اور ملحقہ آبادیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
عوامی حلقوں کا ایک اور دعویٰ یہ ہے کہ متعلقہ مقام پلاسر گولڈ کے ذخائر والے علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور وہاں سے نکالی جانے والی ریت اور بجری میں سونے کی موجودگی کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ دعوے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کی حتمی تصدیق کے لیے محکمہ معدنیات، محکمہ آبپاشی، موٹروے حکام اور متعلقہ تکنیکی ماہرین کی مشترکہ موقع پر جانچ ضروری ہے۔ محض الزامات یا فریقین کے بیانات کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا، لیکن ایسے خدشات کو نظرانداز کرنا بھی قومی مفاد کے منافی ہے۔
اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو سرکاری اشتہار میں درج مالی اعدادوشمار کا ہے۔ اشتہار میں دسوں بلاکس کی انفرادی ریزرو قیمتیں درج ہیں۔ ان دس قیمتوں کو جمع کرنے سے مجموعی رقم 12 کروڑ 33 لاکھ 33 ہزار 202 روپے بنتی ہے۔ اگر اس مجموعے میں دس فیصد اضافہ کیا جائے تو رقم تقریباً 13 کروڑ 56 لاکھ 66 ہزار 522 روپے بنتی ہے۔ اس کے برعکس اشتہار میں ابتدائی قیمت پانچ کروڑ 68 لاکھ روپے درج ہے، جبکہ ایک دوسرے مقام پر مجموعی ریزرو قیمت 54 کروڑ 9 لاکھ 25 ہزار روپے لکھی گئی ہے۔ یہ اعداد آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔ مزید یہ کہ عدالتی فیصلے کے مطابق کامیاب بولی بھی پانچ کروڑ 68 لاکھ روپے تھی۔
ممکن ہے ان اعداد میں کتابتی یا طباعتی غلطی ہو، یا ان کے تعین کے لیے کوئی الگ سرکاری طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہو، لیکن دستیاب اشتہار سے اس فرق کی وضاحت نہیں ہوتی۔ محکمہ معدنیات اور نیلامی کمیٹی کو واضح کرنا چاہیے کہ دس بلاکس کی انفرادی قیمتوں کا مجموعہ، دس فیصد اضافے کے بعد بننے والی رقم، اشتہار میں درج ابتدائی قیمت اور 54 کروڑ 9 لاکھ 25 ہزار روپے کی ریزرو قیمت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ سرکاری وسائل کی نیلامی میں مالی اعدادوشمار کی شفافیت بنیادی تقاضا ہے، اس لیے اس تضاد کی وضاحت محض دفتری کارروائی نہیں بلکہ عوامی حق ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے بڑا سوال سرکاری منصوبہ بندی اور مختلف محکموں کے درمیان رابطے کا ہے۔ اگر دریائے کابل کے بعض حصے پلاسر گولڈ کے لیے پہلے ہی مخصوص تھے تو کیا نیلامی سے قبل ان کی حدود واضح طور پر متعین کی گئی تھیں؟ کیا دس بلاکس کی نشاندہی زمینی سطح پر درست کوآرڈینیٹس کے ساتھ کی گئی تھی؟ کیا نیلامی کے اشتہار اور ورک آرڈر میں ان مخصوص علاقوں کی حدود اور پابندیاں واضح تھیں؟ اگر ٹھیکے دار نے مجاز حدود سے تجاوز کیا تو متعلقہ محکمے نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی؟ اور اگر ٹھیکے دار اپنے لیز ایریا میں کام کر رہا تھا تو پھر اس کے کام میں رکاوٹ کی وجہ کیا تھی؟
اسی طرح موٹروے پل اور آبپاشی کے حفاظتی نظام کے قریب کان کنی کے الزامات کی بھی غیرجانبدارانہ تکنیکی جانچ ہونی چاہیے۔ یہ دیکھا جائے کہ کان کنی کا مقام موٹروے پل کی بنیادوں سے کتنے فاصلے پر ہے، آیا اس سے پل کی ساخت یا دریائی بہاؤ متاثر ہو سکتا ہے، آبپاشی کی حفاظتی دیوار کو واقعی نقصان پہنچا ہے یا نہیں، اور اگر نقصان ہوا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔ دریاؤں سے معدنیات نکالنے کا عمل محض ٹھیکے دار اور محکمہ معدنیات کے درمیان مالی معاملہ نہیں؛ اس کے اثرات قدرتی ماحول، آبپاشی، بنیادی ڈھانچے اور مقامی آبادی کی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے محکمہ معدنیات، محکمہ آبپاشی، موٹروے حکام اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ پر مشتمل ایک مشترکہ تکنیکی کمیٹی قائم کرے۔ کمیٹی نیلام کیے گئے دس بلاکس کی اصل حدود، پلاسر گولڈ کے لیے مخصوص علاقوں، ٹھیکے دار کو جاری کیے گئے ورک آرڈر اور موقع پر جاری کان کنی کی سرگرمیوں کا تقابلی جائزہ لے۔ مالی اعدادوشمار کی بھی جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ نیلامی کے عمل میں قیمتوں کے تعین اور اشتہار میں درج مختلف رقوم کے تضاد کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگر قومی معدنی وسائل، موٹروے پل یا آبپاشی کے نظام کو نقصان پہنچانے کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور اگر ٹھیکے دار کو قانونی حدود کے اندر کام سے روکا گیا ہے تو اس کی وجوہات بھی سامنے لائی جائیں۔
یہ معاملہ کسی ایک ٹھیکے دار، محکمے یا مقامی گروہ کے مفاد سے بڑا ہے۔ دریائے کابل کے معدنی ذخائر قومی اثاثہ ہیں۔ ان کی حفاظت، شفاف نیلامی، قانونی حدود کی پابندی اور عوامی سلامتی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر پلاسر گولڈ کے ذخائر موجود ہیں تو ان کا تحفظ اور شفاف طریقے سے استعمال ہونا چاہیے؛ اگر موٹروے پل یا آبپاشی کے نظام کو خطرہ ہے تو اس کا تدارک فوری ہونا چاہیے؛ اور اگر سرکاری نیلامی میں مالی یا انتظامی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی اور ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔
ہم کسی فریق کے ساتھ نہیں، حقیقت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو محض ایک عدالتی تنازع یا ٹھیکے دار اور محکمے کی باہمی کشمکش سمجھ کر نہ چھوڑ دیا جائے، بلکہ تمام دستیاب ریکارڈ، زمینی حقائق اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر شفاف تحقیقات کی جائیں۔ قومی وسائل، عوامی سلامتی اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
واپس کریں