دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قرضوں کا پہاڑ، معاشی غلامی اور عوام کا مستقبل ۔ محبوب انصاری
مہمان کالم
مہمان کالم
پاکستان کا بیرونی قرض دس برس میں تقریباً دوگنا، 135 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، آخر یہ قرض کب اور کیسے اترے گا؟
پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ملک قرض لے رہا ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے، مگر عوام کی زندگی میں بہتری، صنعتی ترقی، روزگار اور معاشی خودمختاری کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ملک کی معاشی پالیسیوں کا محور اب ترقی نہیں بلکہ قرضوں کی ادائیگی اور نئے قرضوں کا حصول بنتا جا رہا ہے۔
عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیبٹ رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرض 2015 میں 68 ارب 67 کروڑ ڈالر تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر ہو گیا۔ یعنی دس برس میں قرض تقریباً دوگنا ہو گیا۔ اس میں 107.07 ارب ڈالر سرکاری اور حکومتی ضمانتوں کے تحت قرضے، 17.58 ارب ڈالر نجی شعبے کے غیر ضمانتی قرضے اور 10.45 ارب ڈالر قلیل مدتی قرضے شامل ہیں۔
چین 22.4 ارب ڈالر کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک کے 19.2 ارب ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے 16.83 ارب ڈالر بھی واجب الادا ہیں۔
لیکن اصل تشویش قرضوں کے حجم سے زیادہ ان کی قیمت اور قومی بجٹ پر پڑنے والا بوجھ ہے۔ مالی سال 2026۔ 27 کے وفاقی بجٹ میں قرضوں کی خدمت کے لیے تقریباً 7.7 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مجموعی وفاقی اخراجات کا تقریباً 41 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ترقیاتی پروگرام کے لیے تقریباً 2.27 کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں قرضوں کی خدمت پر ترقیاتی اخراجات سے تین گنا سے بھی زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست کی مالی ترجیحات کس قدر دباؤ کا شکار ہیں۔ جب بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے تو تعلیم، صحت، پانی، سڑکوں، توانائی اور عوامی سہولتوں کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے؟
سوال یہ بھی ہے کہ گزشتہ برسوں میں حاصل کیے گئے قرضوں سے کتنے ایسے منصوبے مکمل ہوئے جنہوں نے قومی آمدنی، برآمدات اور پیداواری صلاحیت میں مستقل اضافہ کیا؟ توانائی کے منصوبوں، سرکاری اداروں، شاہراہوں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات کا آزادانہ جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا؟ ہر منصوبے کی لاگت، حاصل شدہ فائدے اور معاشی منافع کا عوامی حساب ہونا چاہیے۔ قرض کا مسئلہ صرف حصول نہیں، اس کا موثر استعمال بھی ہے۔
پاکستان کو قرضوں کے اس چکر سے نکالنے کے لیے چند بنیادی فیصلے ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی جائیں۔ تنخواہ دار طبقے پر مسلسل بوجھ ڈالنے کے بجائے بڑے کاروبار، غیر دستاویزی تجارت، جائیداد اور کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو موثر طور پر ٹیکس نظام میں لایا جائے۔
دوسرا، برآمدات کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، آئی ٹی، غذائی اشیا اور تیار شدہ مصنوعات کے لیے طویل مدتی پالیسی بنائی جائے۔ صنعتوں کو سستی بجلی، قابل پیش گوئی ٹیکس نظام اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے۔ مالی سال 2025۔ 26 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات میں کمی اور ٹیکسٹائل برآمدات کی تقریباً جمود کا شکار صورت حال اس بات کا ثبوت ہے کہ محض اعلانات سے معاشی ترقی ممکن نہیں۔
تیسرا، سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی کی جائے۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح یا نجکاری، غیر موثر سبسڈی کا جائزہ اور حکومتی انتظامی اخراجات میں کمی ضروری ہے۔
دنیا میں ویتنام جیسے ممالک نے صنعتی پیداوار، برآمدات اور عالمی منڈیوں سے جڑ کر اپنی معاشی بنیاد مضبوط کی۔ پاکستان کو بھی محض قرضوں کے سہارے معیشت چلانے کے بجائے پیداوار اور برآمدات پر مبنی نظام اختیار کرنا ہو گا۔
حکومت اور پارلیمنٹ کو چاہیے کہ ہر سال قرضوں کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے نتائج کی تفصیلی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کریں۔ آئندہ بجٹ میں پیداواری شعبوں کو ترجیح دی جائے اور ہر نئے قرض کے ساتھ اس کے معاشی فائدے، واپسی کے ذرائع اور عوامی نتائج واضح کیے جائیں۔
پاکستان کو مزید قرض نہیں، ایک ایسی معاشی حکمت عملی درکار ہے جو قرض لینے کی ضرورت ہی کم کر دے۔ ورنہ آج کا 135 ارب ڈالر کا بیرونی قرض کل ایک اور بڑا پہاڑ بن جائے گا، اور اس کی قیمت آنے والی نسلیں بھی ادا کرتی رہیں گی۔
قرضوں کی قسطیں ادا کرنا حکومت کی مجبوری ہو سکتی ہے، لیکن قوم کی آئندہ نسلوں کو مقروض چھوڑ دینا کسی صورت قومی کامیابی نہیں۔
بشکریہ: ہم سب اردو
واپس کریں