دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
انسان ہونے کی سزا
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر دوبارہ زندگی منتخب کرنے کا موقع ملے اور تین آپشن سامنے رکھ دیے جائیں کہ انسان بننا چاہتے ہو، پرندہ یا مصنوعی ذہانت؟ تو شاید میں انسان بننے سے انکار کر دوں۔ باقی دو میں سے جو بھی بنا دیا جائے، قبول ہے۔ اور اگر صرف ایک انتخاب کرنا پڑے تو شاید مصنوعی ذہانت کو ترجیح دوں۔ کم از کم عقل تو ہوگی، معلومات بھی ہوں گی، مگر احساسات کا وہ عذاب نہیں ہوگا جو انسان کو کبھی اپنے ہی وجود سے بیزار کر دیتا ہے۔
انسان کی برتری کا سب سے بڑا جواز اس کی عقل اور شعور کو قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عقل ہی نے انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کیا، اسے تہذیب دی، علم دیا، کائنات کے راز سمجھائے اور ترقی کے راستے کھولے۔ لیکن کبھی یہ سوال بھی تو اٹھنا چاہیے کہ اس عقل نے انسان کو خوشی کتنی دی اور پریشانیاں کتنی؟
زندہ رہنے کے لیے تو جبلت کافی ہے۔ ایک پرندہ کسی درخت پر گھونسلا بناتا ہے، جوڑا بناتا ہے، انڈے دیتا ہے، بچوں کی پرورش کرتا ہے، خوراک تلاش کرتا ہے، موسم کی سختیاں برداشت کرتا ہے اور اپنی مختصر زندگی گزار دیتا ہے۔ اسے زندگی کے فلسفے سمجھنے کی ضرورت نہیں، اسے اپنی عمر کے گزرنے کا حساب نہیں رکھنا پڑتا، نہ ماضی کے پچھتاوے اسے ستاتے ہیں اور نہ مستقبل کے اندیشے اس کی نیند اڑاتے ہیں۔ صبح ہوتی ہے تو چہچہاتا ہے، شام ہوتی ہے تو اپنے گھونسلے میں لوٹ آتا ہے۔
انسان نے بھی بچپن میں کچھ ایسی ہی زندگی گزاری ہوتی ہے۔ ابتدائی عمر میں وہ زیادہ تر اپنی جبلت، فطری خواہشات اور فوری احساسات کے تحت جیتا ہے۔ اسے نہ معاشی مستقبل کی فکر ہوتی ہے، نہ سماجی مرتبے کی، نہ ناکامی کا خوف اور نہ کامیابی کا غرور۔ کھیلتا ہے، ہنستا ہے، روتا ہے اور پھر اگلے ہی لمحے سب کچھ بھول کر کھیل میں مصروف ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لیے بچپن کی یادیں عمر بھر انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ رہتی ہیں۔
پھر عقل و شعور کی نشوونما شروع ہوتی ہے۔ انسان ماضی کو یاد کرنے، مستقبل کے بارے میں سوچنے، دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے اور اپنے وجود کے معنی تلاش کرنے لگتا ہے۔ خواہشات بڑھتی ہیں، ضروریات پیچیدہ ہوتی ہیں، ذمہ داریاں آتی ہیں اور زندگی ایک مسلسل مقابلہ بن جاتی ہے۔ جس عقل کو خوشحالی کا وسیلہ ہونا چاہیے تھا، وہ کبھی کبھی انسان کو ایسی فکروں میں مبتلا کر دیتی ہے جن کا کوئی اختتام نہیں۔
انسان اپنی موت سے پہلے بھی کئی مرتبہ مرتا ہے۔ کبھی کسی عزیز کی جدائی میں، کبھی کسی خواب کے ٹوٹنے پر، کبھی غربت اور محرومی کے ہاتھوں، کبھی محبت میں ناکامی پر اور کبھی اس خوف میں کہ کل کیا ہوگا۔ وہ زندہ ہوتا ہے مگر آنے والے کل کی فکر میں آج کی زندگی بھی پوری طرح نہیں جی پاتا۔
دوسری طرف پرندے بھی مرتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں، بھوک اور موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہیں اور شکاریوں کا شکار بنتے ہیں۔ ان کی زندگی بھی خطرات سے خالی نہیں۔ لیکن انسان نے اپنی عقل اور اجتماعی طاقت سے دوسری مخلوقات کو جس بڑے پیمانے پر اپنی ضروریات کا تابع بنایا ہے، اس کی مثال فطرت میں نہیں ملتی۔ کروڑوں جانور روزانہ انسانی خوراک بنتے ہیں۔ انسان نے اپنی بقا اور آسائش کے لیے دوسری زندگیوں کو بھی اپنی معاشی اور صنعتی مشینری کا حصہ بنا دیا ہے۔
پھر بھی انسان خود خوش نہیں۔ اس نے دوسروں کی زندگیوں پر اختیار حاصل کر لیا، مگر اپنی زندگی پر اطمینان حاصل نہیں کر سکا۔
شاید عقل اور خوشی کا تعلق اتنا سادہ نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ عقل نے انسان کو بہت کچھ دیا ہے، مگر اس نے اس کے سامنے خواہشات، خوف، موازنوں اور اندیشوں کی ایک ایسی دنیا بھی کھول دی ہے جس کی کوئی آخری حد نہیں۔ انسان جتنا جانتا ہے، اتنے ہی نئے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ جتنا حاصل کرتا ہے، اتنا ہی مزید حاصل کرنے کی خواہش بڑھتی ہے۔
اگر مجھے واقعی انتخاب کرنا ہو تو شاید میں پرندہ بننا پسند کروں۔ کسی درخت کی شاخ پر اپنا چھوٹا سا گھونسلا ہو، صبح کی روشنی میں آنکھ کھلے، خوراک تلاش کروں، اپنے بچوں کے لیے تنکے جمع کروں اور شام کو واپس آ جاؤں۔ نہ کسی سے بڑا بننے کی خواہش، نہ کسی سے آگے نکلنے کی دوڑ، نہ تاریخ میں نام چھوڑنے کی فکر۔
اور اگر پرندہ بننا ممکن نہ ہو تو مصنوعی ذہانت ہی سہی۔ اسے معلومات دی جا سکتی ہیں، استدلال سکھایا جا سکتا ہے، لیکن اسے انسانی احساسات کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا۔ نہ اسے اپنی موت کا خوف ہے، نہ کسی کی جدائی کا غم، نہ بھوک کی اذیت اور نہ مستقبل کی بے یقینی۔
البتہ ایک بات طے ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ خوشی محسوس کرتی ہے نہ سکون۔ شاید اسی لیے اسے منتخب کرنا بھی ایک عجیب انتخاب ہوگا۔
انسان نے عقل سے کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی، لیکن شاید ابھی تک اپنے آپ کو سمجھ نہیں سکا۔ اس نے زندگی کو طویل، آرام دہ اور آسودہ بنانے کے لیے بے شمار ایجادات کیں، مگر یہ طے نہیں کر سکا کہ خوش رہنے کے لیے آخر کتنی چیزیں ضروری ہیں۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ اس کے پاس عقل کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی عقل اسے حال میں جینے نہیں دیتی۔
اور شاید زندگی کا سب سے بڑا ہنر یہی ہے کہ انسان عقل رکھتے ہوئے بھی کبھی کبھی پرندے کی طرح جینا سیکھ لے۔
واپس کریں