
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیمو کریٹس پارٹی کو ایوان نمائیندگان اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی چنانچہ اب وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایوان نمائیندگان مواخذے کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے کی پوزیشن میں آگئی ہے جبکہ امریکی آئین میں منتخب صدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ یقیناً اسی تناظر میں وہائیٹ ہاؤس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں اعلان کیا گیا ہے کہ ٹرمپ اب بھی امریکی صدر ہیں تاہم وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے ان کے اقتدار کے لیئے سنگین خطرات ضرور پیدا کر دیئے ہیں اور وہ اب ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر چلنے پر بھی آمادہ نظر آتے ہیں جبکہ انہوں نے اپنی شکست تسلیم بھی کر لی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی جماعت ری پبلکنز کو بری طرح ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت کے ساتھ برتری حاصل ہو گئی ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق ڈیمو کریٹس پارٹی کی ایوان نمائیندگان میں 241، اور سینٹ میں 54 نشستیں ہو گئی ہیں جبکہ اس وقت ری پبلکنز کے پاس ایوان نمائیندگان میں 163، اور سینیٹ میں 44 نشستیں ہیں۔ اسی طرح ریاستی گورنرز کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کو نمایاں برتری حاصل ہو چکی ہے اور اس وقت ڈیموکریٹس گورنرز کی تعداد 28 ہے جبکہ ری پبلکنز گورنرز 20 رہ گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں انتخابی نتائج کے ابتدائی رحجانات کو صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لئے بڑے سیاسی نقصان سے تعبیر کیا جا رہا ہے جبکہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے علاوہ صدد ٹرمپ نے بھی ایران جنگ کو اپنی پارٹی کی شکست کی وجہ قراد دیا ہے۔ جے ڈی وینس نے تو اپنے ردعمل میں یہ بھی باور کرایا ہے کی اب امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنا ہوگا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی۔ علاوہ ازیں ری پبلکنز پارٹی کے دوسرے کئی لیڈروں اور سیاسی حکمتِ عملی کے ماہرین نے بھی شکست کی ذمہ داری ٹرمپ پر ڈالنا شروع کر دی ہے جس پر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکی عوام ان سے نالاں ہیں تو وہ اسرائیل کی وزارتِ عظمیٰ سنبھال لیں گے۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنائی نے امریکی انتخابی نتائج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب امریکہ کے ناقابل شکست ہونے کا تصور ختم ہو گیا ہے اور امریکی بالا دستی کا خاتمہ قریب ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن ہمارا دشمن ہی رہے گا۔ اسی طرح سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر علی قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے ایران کے خلاف جنگ مسترد کر دی ہے۔ علاوہ ازیں یورپی یونین کابھی یہی کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں پر امریکی ووٹرز نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ برطانیہ کی طرف سے یہ ردعمل سامنے آیا ہے کہ امریکہ کے ہاس عالمی امن کے لیئے متحد ہونے کا آج بہترین موقع ہے، چین نے ٹرمپ کی پارٹی کی شکست کو امریکہ کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں متعد مسلمانوں اور پاکستانی نژاد امریکی امیدواروں کو بھی نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور عبدالسید کو امریکہ کا پہلا مسلم سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا جن کا گذشتہ روز ٹرمپ کے ساتھ دلچسپ ڈائیلاگ بھی ہوا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ری پبلکن پارٹی کو جس بدترین انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ محض امریکی سیاست میں اقتدار کی تبدیلی یا پارلیمانی اکثریت کے الٹ پھیر کا معاملہ نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی جنون، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور بالادستی کے تصور پر مبنی پالیسیوں کے خلاف امریکی عوام کا واضح فیصلہ ہے۔ ان انتخابات میں ڈیموکریٹس نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرکے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ یہ شکست اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے پہلے دو برسوں میں جس جارحانہ انداز سے امریکی خارجہ پالیسی چلائی، اس کے خلاف خود امریکی عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں کم از کم 54 نشستیں حاصل کرکے ری پبلکنز کو 44 نشستوں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس نے واضح برتری حاصل کرلی ہے۔ بعض حلقوں میں ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی حتمی تکمیل ابھی باقی ہے، تاہم دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی واضح ہوچکی ہے۔ گورنرز کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے کئی اہم ریاستوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یوں امریکی عوام نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جماعت کو اقتدار کے ایوانوں میں تنہا کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
ان انتخابی نتائج کا سب سے اہم پہلو ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ ہے جس نے امریکی عوام کو شدید معاشی اور سیاسی مشکلات سے دوچار کیا۔ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، امریکہ میں پٹرول اور توانائی کے اخراجات بڑھے اور پہلے سے مہنگائی کے ستائے عوام پر مزید بوجھ پڑا۔ امریکی عوام کو یہ سوال پریشان کرتا رہا کہ ان کے اپنے ملک میں مہنگائی، روزگار، صحت اور عوامی سہولتوں کے مسائل موجود ہیں تو ان کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی دولت دوسرے ممالک کے خلاف جنگی کارروائیوں پر کیوں خرچ کی جارہی ہے؟ یہی وہ عوامی اضطراب تھا جسے ڈیموکریٹس نے انتخابی مہم میں بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور بالآخر ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں کو ان کی جماعت کی انتخابی شکست کا ایک بڑا سبب بنا دیا۔
اسرائیل کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے گہرے تزویراتی گٹھ جوڑ اور ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات نے بھی امریکی عوام کے ایک بڑے طبقے میں تشویش پیدا کی۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے دفاع اور مفادات کے لیے جس انداز میں اپنی خارجہ پالیسی کو جنگی محاذ آرائی سے جوڑا گیا، اس پر امریکی معاشرے کے اندر سوالات اٹھتے رہے۔ بالخصوص ایران کے خلاف جنگ نے یہ تاثر مزید گہرا کیا کہ امریکی قیادت اپنے عوام کی بنیادی ضروریات اور امنگوں کے بجائے اسرائیل کی ترجیحات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی نتائج کو ٹرمپ کی ایران پالیسی اور اسرائیل کے ساتھ ان کے غیر مشروط تعاون کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ نے اگرچہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کی ہے، تاہم ان کے اس بیان میں بھی سیاسی مفاہمت سے زیادہ اپنی ضد اور انا کا عنصر نمایاں ہے کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے کوئی احمقانہ قانون سازی ہوئی تو وہ اسے ویٹو کردیں گے۔ انہوں نے امریکی عوام کی ناراضی پر طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر امریکی ان سے تنگ ہیں تو وہ اسرائیل کے وزیراعظم بن جائیں گے۔ یہ طرزِ گفتگو کسی ذمہ دار ریاستی سربراہ کے شایانِ شان نہیں۔ انتخابی نتائج کو عوامی فیصلے کے طور پر تسلیم کرنا اور اس سے سبق حاصل کرنا جمہوری قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ٹرمپ کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ امریکی عوام محض طاقت کے مظاہروں اور دھمکیوں کی سیاست سے مطمئن نہیں ہوسکتے۔
اس تناظر میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران جنگ ختم کرنے اور اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت کا اظہار بھی اس امر کا غماز ہے کہ ری پبلکن قیادت کے اندر بھی موجودہ حکمت عملی کے بارے میں سنجیدہ اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔ اگر نائب صدر تک یہ محسوس کررہے ہیں کہ ایران جنگ نے پارٹی کو انتخابی نقصان پہنچایا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے۔ بےشک جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ طاقت کے استعمال سے وقتی طور پر کسی ملک کو دباؤ میں تو لایا جاسکتا ہے لیکن اس کے عوام کے عزم اور قومی خودمختاری کے جذبے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنائی نے امریکی انتخابی نتائج کو ایران کے خلاف جنگی پالیسیوں کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ امریکہ کے ناقابل شکست ہونے کا تصور ختم ہوچکا اور امریکی بالادستی کا خاتمہ قریب ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی عوام کے فیصلے کو ایران کے ساتھ جنگ مسترد کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایران اپنی کامیابی کے طور پر ان نتائج کو پیش کرے گا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکی انتخابات کسی دوسرے ملک کی سیاسی قیادت کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ امریکی عوام کے اپنے قومی مفادات کے تناظر میں منعقد ہوئے، اس کے باوجود ان نتائج نے دنیا کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ جنگی پالیسیوں کی قیمت صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ انتخابی میدان میں بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
یورپی یونین نے انتخابی نتائج کو امریکی ووٹروں کے فیصلے سے تعبیر کیا ہے، جبکہ برطانیہ نے اسے امریکہ کے لیے متحد ہونے کا موقع قرار دیا ہے۔ چین نے اسے امریکہ کا داخلی معاملہ قرار دے کر محتاط طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ دنیا کےاس ردعمل سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی برادری امریکہ کی داخلی سیاسی تبدیلیوں کو کس حوالے سے دیکھ رہی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس وقت پہلے ہی مختلف معاشی اور سلامتی کے بحرانوں سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں امریکہ جیسی عالمی طاقت کی جانب سے کسی نئے جنگی محاذ کا کھولنا عالمی امن اور معیشت کے لیے مزید خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
یہ امر واقع ہے کہ ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں اکثریت ملنے کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا آسان نہیں رہے گا۔ کانگریس کی کمیٹیاں اب حکومتی پالیسیوں، جنگی اخراجات، فوجی کارروائیوں اور انتظامیہ کے اقدامات کا کڑا احتساب کرسکیں گی۔ ڈیموکریٹس ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرسکتے ہیں اور اگر انہیں آئین کی خلاف ورزی یا مواخذے کے قابل اقدامات کے شواہد ملتے ہیں تو ایوان نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی بھی شروع کی جاسکتی ہے۔ تاہم امریکی آئین میں صدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا طریقہ کار موجود نہیں۔ مواخذے کی منظوری ایوان نمائندگان دیتا ہے اور صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے محض انتخابی کامیابی سے ٹرمپ کو صدارت سے محروم نہیں کیا جاسکتا، البتہ ان کے اختیارات اور سیاسی فیصلوں پر پارلیمانی نگرانی ضرور بڑھ جائے گی۔
اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سفارتی کوششوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی روح کے مطابق مصالحت کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کی ہے۔ اب جبکہ امریکی عوام نے بھی جنگی پالیسیوں کے خلاف اپنا فیصلہ دے دیا ہے، واشنگٹن کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی انا اور طاقت کے زعم سے باہر نکل کر ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ اس کے لئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو امن کی جانب پیش رفت کے لیے بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ امریکہ کو ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے تقاضوں کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہوگی اور اسرائیل کو بھی خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے سے روکنا ہوگا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ امریکہ دنیا کی ایک بڑی ایٹمی طاقت ہے اور ایران بھی اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن صلاحیت بروئے کار لانے کا عزم رکھتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کی قیادت نے اپنی ضد اور انا کو ترجیح دی تو یہ کشیدگی کسی وسیع علاقائی جنگ اور خدانخواستہ عالمی ایٹمی تصادم کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے۔ ایسی کسی جنگ میں صرف امریکہ یا ایران ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوگی۔ اس لیے عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ اور بالخصوص امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو بھی جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
ٹرمپ کے لیے امریکی وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ محض ایک انتخابی شکست نہیں بلکہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کا آخری موقع بھی ہے۔ امریکی عوام سمیت دنیا بھر کے عوام جنگوں، دھمکیوں، معاشی پابندیوں اور طاقت کے بل بوتے پر دوسرے ممالک کو تابع کرنے کی پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ دنیا کو آج نئی جنگوں کی نہیں، پائیدار امن، اقتصادی استحکام اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ اگر ٹرمپ نے امریکی عوام کے اس واضح پیغام کو سمجھنے کے بجائے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی تو ان کے اقتدار کے باقی دو برس بھی سیاسی محاذ آرائی اور داخلی بحرانوں کی نذر ہوسکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ واشنگٹن دوسرے ممالک میں مداخلت اور جنگی عزائم کی پالیسی ترک کرکے عالمی امن کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ یہی امریکی عوام کے انتخابی فیصلے کا حقیقی پیغام اور امن و استحکام کی خواہاں پوری دنیا کی آواز ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں