یاسر پیرزادہ
ایک تو مجھے لوگوں کی سمجھ نہیں آتی کہ خواہ مخواہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہلکان کیوں ہوتے رہتے ہیں۔ ملک کی جی ڈی پی کیسے بڑھانی ہے، غربت کا خاتمہ کیسے کرنا ہے، برآمدات میں اضافہ کیوں کر ممکن ہے، سڑکوں پر رُلنے والے بچوں کو تعلیم کیسے دینی ہے... اِن معمولی مسائل میں الجھ کر ہم بلاوجہ اپنا اور سرکار کا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں اور اصل مسائل سے ہماری توجہ ہٹ جاتی ہے۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ بھلا ہو پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکشن افسر کا جسکی دور اندیشی نے قوم کو ایک بڑے تعلیمی بحران سے بچا لیا۔ تھوڑا وقت تو لگ گیا، کم و بیش چوبیس برس، مگر چیز اچھی بن گئی۔ اِس جہاندیدہ شخص نے بالآخر ایک مراسلے کے ذریعے پنجاب کی اُن جامعات کے نام ٹھیک کر دیے ہیں جنہیں کالج سے یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا۔ اِن میں میری مادرِ علمی گورنمنٹ کالج لاہور بھی شامل ہے جس کا نام گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کر دیا گیا تھا اور جو اب واپس گورنمنٹ کالج لاہور ہو گیاہے۔ اِس موقع پرپنجابی کا وہ محاورہ یاد آتا ہے جس میں ایک ذی شعور جانور کے سیر سپاٹے کا ذکر ہے، جو دور دور تک جاتاہے مگر گھوم پھر کر بالآخر اپنی مقررہ جگہ، یعنی برگد کے نیچے، آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ دیگر جامعات میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد، گورنمنٹ صادق کالج بہاولپور، لاہور کالج برائے خواتین، لاہور وغیرہ شامل ہیں۔ مراسلے میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ یہ یونیورسٹیاں بدستور یونیورسٹیاں رہیں گی، بس اِن کے نام سے یونیورسٹی کا لفظ غائب ہو جائیگا۔ اِس سے زیادہ متوازن فیصلہ بھلا کیا ہو سکتا ہے۔ میرا بس چلے تو اِس فرض شناس سیکشن افسر کو آئندہ برس کیلئے سیدھا نشانِ امتیاز کیلئے نامزد کر دوں مگر پھر خیال آتا ہے کہ کہیں گریڈ بائیس کے کسی افسر کی حق تلفی نہ ہو جائے۔ بہرحال جس ملک میں ایسی لائق بیوروکریسی ہو اُس کا کوئی دشمن کچھ نہیں بگاڑ سکتا، ہم اکیلے ہی کافی ہیں۔ یہ قصہ سن 2000ء کا ہے، ملک میں روشن خیال اعتدال پسندی کا دور دورہ تھا، ہائر ایجوکیشن کمیشن نیا نیا بنا تھا اور ہر طرف یہ شور تھا کہ قوم ترقی تب کرے گی جب یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھے گی۔ اب یونیورسٹی بنانے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ زمین خریدی جائے، عمارت بنے، لائبریری میں کتابیں آئیں، لیبارٹریوں میں آلات لگیں، دنیا بھر سے پی ایچ ڈی اساتذہ بھرتی ہوں اور پھر دس پندرہ برس بعد وہ ادارہ یونیورسٹی کہلانے کے قابل ہو۔ یہ طریقہ مہنگا بھی تھا اور وقت طلب بھی، اور ہمارے پاس دونوں چیزوں کی کمی تھی/ہے۔ سو ہم نے دوسرا طریقہ ایجاد کیا کہ جو کالج سو ڈیڑھ سو سال سے چل رہے ہیں، اُن کے گیٹ پر ایک نیا بورڈ لگا دیا جائے۔ عمارت وہی، اساتذہ وہی، بجٹ کم و بیش وہی، بس پرنسپل کو وائس چانسلر کہنا شروع کر دیں اور ہیڈ کلرک کو رجسٹرار۔ چنانچہ 2002ء میں گورنمنٹ کالج لاہور، جو 1864ء سے کالج ہی تھا، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہو گیا اور پھر چل سو چل۔ گورنمنٹ کالج لاہور نے ڈیڑھ صدی میں جو کچھ پیدا کیا، اقبال، فیض، پطرس، عبدالسلام، وہ سب بغیر یونیورسٹی کہلائے پیدا کیا۔ اِن کالجوں کو یونیورسٹی بنانے کا مقصد تعلیم نہیں تھا، گنتی تھی۔ یونیورسٹی کو تحقیق کرنی ہوتی ہے، پی ایچ ڈی کروانی ہوتی ہے، تحقیقی جرائد چھاپنے ہوتے ہیں، رینکنگ کے فارم بھرنے ہوتے ہیں، کانفرنسیں کروانی ہوتی ہیں، اور یہ سب اُسی عملے، اُسی عمارت اور تقریباً اُسی بجٹ سے کرنا ہوتا ہے جو پہلے بی اے اور بی ایس سی کے طلبہ کو پڑھاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس کام میں یہ ادارے ماہر تھے، یعنی اچھی انڈر گریجویٹ تعلیم، وہ بھی متاثر ہوئی، اور جس کام کیلئے انہیں یونیورسٹی بنایا گیا تھا، یعنی تحقیق، وہ وسائل کے بغیر ہو نہ سکی۔ اب وائس چانسلر صاحب ایک ’کالج‘ کے وائس چانسلر ہیں جو بظاہر اپنی نوعیت کا انوکھا عہدہ ہے۔ طالب علم کالج میں داخلہ لے گا اور یونیورسٹی کی ڈگری لے کر نکلے گا۔ باہر کی دنیا میں کوئی پوچھے گا کہ آپ نے کس یونیورسٹی سے پڑھا ہے تو وہ کہے گا، گورنمنٹ کالج سے، اور جب پوچھنے والا کہے گا کہ میں نے یونیورسٹی پوچھی ہے تو وہ کہے گا، جی وہی تو بتا رہا ہوں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی ڈاکٹر سے کہا جائے کہ آپ آپریشن بھی کریں گے، نسخہ بھی لکھیں گے، فیس بھی پوری لیں گے، بس آپ کے دروازے پر کمپاؤنڈر لکھا رہے گا، مریض خود سمجھ جائیں گے۔گزشتہ چوبیس برس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے نام سے لاکھوں ڈگریاں جاری ہوئیں، ہزاروں تحقیقی مقالے چھپے جن پر مصنف کا تعلق جی سی یونیورسٹی لاہور لکھا ہے، دنیا بھر کی جامعات سے معاہدے ہوئے، ویب سائٹ بنی، ای میل کے پتے بنے، سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ بنے، بین الاقوامی رینکنگ کے اداروں کے ریکارڈ میں اندراج ہوا، بینک کھاتے کھلے، مہریں بنیں، لیٹر پیڈ چھپے، بسوں پر نام لکھے گئے۔ یہ سب اب بدلنا ہو گا یا نہیں بدلنا ہو گا، مراسلہ اِس بارے میں خاموش ہے اور خاموشی کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ باہر کا کوئی پروفیسر جب جی سی یونیورسٹی لاہور کا کوئی تحقیقی مقالہ ڈھونڈے گا تو اُسے ایک کالج ملے گا اور جب کالج ڈھونڈے گا تو اُسے یونیورسٹی کی ویب سائٹ ملے گی۔ یہاں پنجابی کا ایک اور محاورہ یاد آیا جس میں نانی صاحبہ کے عقد ثانی کی بابت کچھ نکتہ آفرینی کی گئی ہے اور یہ لطیف بات سمجھائی گئی ہے کہ اوّل تو انہوں نے نکاح کرنے کا فیصلہ ٹھیک نہیں کیا تھا اور اگر کر ہی لیا تھا تو خلع لینے کی ضرورت نہیں تھی۔تفنن برطرف، یہ فیصلہ اسمبلی نے کیا اور ایک طرح سے پرانی غلطی کو سدھارا۔ اِس بات کی کوئی تُک ہی نہیں تھی کہ گورنمنٹ کالج کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور لکھا جاتا۔ کنگز کالج لندن کا درجہ یونیورسٹی کا ہے مگر اِس کا نام کسی نے تبدیل نہیں کیا، بالکل اسی طرح جیسےکنیئرڈ کالج اور ایف سی کالج کا نام یونیورسٹی ہونے کے باوجود نام تبدیل نہیں کیا گیا۔ بطور راوین میں خوش ہوں کہ کالج کو اصلی اور پرانا نام واپس مل گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور کا نام ہمارے لیے صرف نام نہیں، ایک پوری تہذیب ہے، وہ ٹاور، وہ اوول گراؤنڈ، وہ نیو ہاسٹل، وہ راہداریاں جن میں کبھی اقبال اور فیض چلے تھے۔ 2002ء میں جب اِس نام کے ساتھ یونیورسٹی لگایا گیا تو مجھ سمیت بہت سوں کو لگا جیسے کسی نے بزرگوں کی تصویر پر برش پھیر دیا ہو۔ اگر واقعی اصلاح مقصود تھی تو اِن ’جامعات‘ کو وہ وسائل دیے جاتے جن کے ساتھ یہ صحیح معنوں میں یونیورسٹی بنتے یا پھر کھلے دل سے تسلیم کیا جاتا کہ غلطی ہوئی تھی اور اِنہیں باقاعدہ کالج بنا کر اُس انڈر گریجویٹ تعلیم پر توجہ دی جاتی جس میں یہ ادارے ایک صدی سے ماہر تھے۔ بہرحال میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ سیکشن افسر کا نام نشانِ امتیاز کیلئےبھجوانا چاہیے۔ جہاں ساڑھے تین سو لوگوں کو تمغے مل گئے وہاں اِس غریب کو بھی دے دیں۔
واپس کریں