دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبرپختونخوا میں امن کی واپسی: گورنر راج اور امید کے نئے امکانات
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان
خیبرپختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کی ایک سنگین لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کی قربانیوں کے باوجود صوبے کے کئی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال مسلسل تشویش کا باعث رہی ہے۔ اس پس منظر میں وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں عدم تعاون کو بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے 11 اکتوبر 2026 کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔ صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کر دیے گئے، بارہ اضلاع کے لیے الگ انتظامی سیکریٹریٹ قائم کیا گیا اور فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا گیا۔
وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی، بعض علاقوں میں ریاستی عمل داری کمزور ہو چکی ہے اور امن و امان کی صورت حال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا۔ وزیر اطلاعات نے صوبائی حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات بھی عائد کیے۔پارلیمان نے 15 اکتوبر کو مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی کی منظوری بھی دے دی۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ کیا اس انتظامی تبدیلی سے دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں میں کوئی عملی بہتری آئے گی؟ نومبر کے آغاز میں سامنے آنے والے اعدادوشمار نے اس حوالے سے حوصلہ افزا تصویر پیش کی ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (PICSS) کے مطابق اکتوبر میں ملک بھر میں دہشت گرد حملوں کی تعداد ستمبر کے 226 سے کم ہو کر 143 رہ گئی، یعنی تقریباً 37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ خیبرپختونخوا کے سابق قبائلی علاقوں میں حملوں میں 12 فیصد جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں 31 فیصد کمی ہوئی۔ اسی طرح اکتوبر کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں 111 افراد جان سے گئے، جبکہ ستمبر میں یہ تعداد 260 تھی۔ جانی نقصان میں تقریباً 57 فیصد کمی بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔
یہ اعدادوشمار یقیناً حوصلہ افزا ہیں۔ دہشت گردی کے مسلسل عذاب سے گزرنے والے صوبے کے لیے حملوں اور جانی نقصان میں کمی کسی معمولی خبر سے کم نہیں۔اگر وفاقی حکومت، گورنر اور سکیورٹی اداروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں حالات بہتر ہو رہے ہیں تو اس کا اعتراف اور متعلقہ اداروں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں سیاسی وابستگی کو معیار نہیں بنانا چاہیے۔ اگر کسی انتظامی فیصلے کے بعد حالات میں بہتری کے آثار سامنے آتے ہیں تو اس کی ستائش کرنا غیر جانب دارانہ تجزیے کا تقاضا ہے۔ اسی طرح اگر مستقبل میں اس حکمت عملی کے نتائج توقعات کے مطابق نہ ہوں تو سوال اٹھانا بھی ضروری ہوگا۔ اصل اہمیت کسی سیاسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی سے زیادہ عوام کے تحفظ کی ہے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گردی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے وقت اور مسلسل کوششیں درکار ہوتی ہیں۔ محض انتظامی اختیارات کی تبدیلی سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک ختم نہیں ہوتے۔ ان کی مالی معاونت، سہولت کاروں، بھتہ خوری کے نظام، سرحد پار نقل و حرکت اور مقامی سطح پر موجود معاون ڈھانچوں کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔ انٹیلی جنس اداروں، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے درمیان مربوط تعاون بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے ابتدائی بہتری کو مستقل کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے موجودہ کوششوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔
4 نومبر کو ضلع مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے۔ یہ افسوس ناک واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اسی روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت سول اور عسکری قیادت کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بڑھانے اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطے مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس فیصلے کو بھی جاری حکمت عملی کے تسلسل اور بہتری کی کوشش کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی حکومت کے لیے اب اصل امتحان یہ ہے کہ ابتدائی مثبت نتائج کو کس طرح دیرپا کامیابی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ بارہ حساس اضلاع کے لیے قائم کیے گئے خصوصی انتظامی نظام کو مؤثر بنانا، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانا، دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اس عمل کے بنیادی تقاضے ہیں۔ عوام کو بھی وقتاً فوقتاً بتایا جانا چاہیے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں کیا بہتری آئی ہے اور آئندہ کن اہداف کے حصول کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اس صوبے کے لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں، کاروبار تباہ ہوتے دیکھے ہیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتے دیکھی ہے اور خوف کے ماحول میں زندگی گزاری ہے۔ ان کے لیے امن محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پولیس اہلکار محفوظ ہوں، بازار آباد ہوں، تعلیمی ادارے بلا خوف کھلیں، سڑکوں پر سفر معمول کے مطابق ہو اور ریاست ہر علاقے میں اپنی عمل داری قائم رکھے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ گورنر راج کے تحت شروع ہونے والی کوششیں محض عارضی انتظامی بندوبست تک محدود نہ رہیں۔ امن کے قیام کے لیے پولیسنگ، عدالتی نظام، مقامی انتظامیہ، تعلیم، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ جن علاقوں میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھاتی ہے وہاں ریاست کی مستقل موجودگی اور عوام کا اعتماد بحال کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ صرف سکیورٹی آپریشنز سے نہیں بلکہ ایک مؤثر ریاستی نظام اور عوامی تعاون سے ممکن ہے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا سفر مرحلہ وار طے ہوتا ہے۔ ایک ماہ کے اعدادوشمار سے مستقل امن کا اعلان نہیں کیا جا سکتا، لیکن مثبت تبدیلی کے ابتدائی آثار کو نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہیے۔ اگر حکمت عملی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے تو اسے وقت، تسلسل اور اداروں کے باہمی تعاون کا موقع ملنا چاہیے۔ ہر مثبت نتیجے کی ستائش اور ہر کمزوری کی نشاندہی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ذمہ دارانہ صحافت اور تجزیے کے دو بنیادی پہلو ہیں۔
ہماری ترجیح کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں امن کی بحالی ہے۔ اگر صوبائی حکومت کے دور میں حالات خراب ہوئے تو اس کا جائزہ ہونا چاہیے، اور اگر موجودہ انتظام کے تحت دہشت گردی میں کمی آ رہی ہے تو اس کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ کسی بھی حکومت یا انتظامیہ کی کامیابی کا اصل پیمانہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی بہتری ہے۔
خیبرپختونخوا کے عوام اب سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ امن کے نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ اکتوبر کے اعدادوشمار نے امید کی ایک نئی کرن ضرور دکھائی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیش رفت کو برقرار رکھا جائے، دہشت گردی کے باقی ماندہ نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جائے اور ریاستی عمل داری کو ہر علاقے میں مستحکم بنایا جائے۔
اگر موجودہ حکمت عملی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے تو وقت کے ساتھ اس کے ثمرات پائیدار امن کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام اسی امید کے حق دار ہیں۔
واپس کریں