دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قشم پر امریکی حملہ اور عالمی امن کو لاحق خطرات
No image امریکہ نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے سٹریٹجک جزیرے قشم پر تازہ حملے کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ محدود امریکی فوجی کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی جزیرے قشم پر متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے جبکہ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ قشم جزیرے پر کی جانے والی کارروائی دراصل پچھلے چند ہفتوں کے دوران کی جانے والی ان محدود اور خفیہ فوجی ضربوں کا حصہ ہے جن کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی حکام نے ان اقدامات کو دفاعی نوعیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش ایرانی دھمکیوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ ایک امریکی عہدے دار کے مطابق ایران کے خلاف امریکی حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے جزیرہ قشم میں پانچ دھماکوں کی آواز سنی گئی، دھماکوں کی شدت قشم میں اہم مقامات کو نشانہ بنانے کا عندیہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہر مز کے قریب امریکی ڈرون تباہ کر دیا گیا ہے اور الیکٹرونک وار فئیر سسٹم کے دو جاسوس طیارے ناکارہ بنا دیئے گئے ہیں۔ ایران کے سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران دشمن کی دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ان کے بقول ایران اس وقت اپنی دفاعی تیاری کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جنگ روکنے کی ذمہ داری اب واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔ خطے کے ممالک کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ایران جس طرح انگلی ٹریگر پر رکھ کر لڑنے کے لئے تیار ہے، اسی طرح اس نے امریکی فریق کو ایک فیصلہ کن اور منطقی جواب بھی دیا ہے۔ اب جنگ روکنے کے لئے فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر واشنگٹن نے دوبارہ کوئی تزویراتی غلطی کی تو اسے ایک نئے جنگی منظر نامے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادھر قطر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات جاری ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی حملوں کا امکان مسترد کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں انتخابی مہم کی ایک تقریب کے بعد ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں دعویٰ کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا اور ایرانی حکام بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائیٹ ایکسپوس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران پر دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کر رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی دباؤ نے ایران کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی جوہری تنصیبات کی نگرانی کی جا رہی ہے، اگر کسی نے جوہری تنصیبات تک پہنچنے کی کوشش کی تو دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔ ہم ایران کی بچی کھچی صلاحیتوں کا بھی خاتمہ کر سکتے ہیں۔
یہ امر واقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف اختیار کی جانے والی جارحانہ پالیسیوں اور دھمکی آمیز طرزِعمل نے عالمی امن و استحکام کے حوالے سے پہلے سے موجود خدشات مزید گہرے کر دیئے ہیں۔ ایران کے جزیرے قشم پر امریکی حملہ اگرچہ ایک محدود فوجی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے مضمرات کسی محدود کارروائی تک محدود نہیں رہ سکتے۔ امریکہ کی جانب سے یہ جواز پیش کیا گیا ہے کہ امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں قشم کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ ایک محدود آپریشن تھا اور وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم انہوں نے یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر کسی نے جوہری تنصیبات تک پہنچنے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ حملے کرے گا۔ اس حوالے سے سوال یہ ہے کہ جب مذاکرات کا راستہ کھلا ہو اور سفارتی کوششیں جاری ہوں تو ایسی فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں کی آخر کیا ضرورت ہے؟
یہ امر قابلِ غور ہے کہ امریکی صدر ایک طرف ایران کے ساتھ جنگ کو وسعت نہ دینے اور وسط مدتی انتخابات کے بعد حملوں کا امکان مسترد کرنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کو مسلسل عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ یہ متضاد طرزِعمل کسی ذمہ دار عالمی قیادت کے شایانِ شان نہیں ہو سکتا۔ اگر واقعی امریکہ ایران کے ساتھ تصادم سے بچنا چاہتا ہے تو اسے ایسے اقدامات سے بہر صورت گریز کرنا ہوگا جو مذاکراتی ماحول کو کشیدہ بناتے اور خطے میں اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔ محض محدود آپریشن کا نام دے کر کسی خودمختار ملک کی سرزمین پر حملے کے سنگین نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایران کی جانب سے تین امریکی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ بھی اس امر کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کس خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ امریکہ نے کوئی غلطی کی تو ایران کی انگلی ٹریگر پر ہے۔ ایران کا یہ موقف بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ روکنا اب امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ قطر کی جانب سے امریکہ ایران مذاکرات جاری ہونے کی تصدیق اس حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے موجودہ کشیدگی کا کوئی قابلِ قبول حل نکالا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے ساتھ ساتھ میدانِ جنگ میں اشتعال انگیز اقدامات سے بھی گریز کرے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین تنازعہ محض دو ممالک کا باہمی اختلاف نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ خطے میں پہلے ہی متعدد تنازعات، جنگوں اور انسانی المیوں نے کروڑوں انسانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ فلسطین میں اسرائیلی مظالم، غزہ کی تباہی، لبنان اور دوسرے علاقوں میں عدم استحکام اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے استعمال کی بڑھتی ہوئی روش عالمی برادری کے لیے پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے ماحول میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کسی نئی فوجی مہم جوئی کا آغاز پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس کے نتائج صرف ایران یا امریکہ کو نہیں بھگتنا پڑیں گے بلکہ خطے کے تمام ممالک اور عالمی معیشت اس کی زد میں آئے گی۔
یہ امر بھی فریقین کے پیش نظر رہنا چاہیے کہ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس خطے میں جنگ کی آگ بھڑکنے سے تیل کی عالمی رسد متاثر ہو سکتی ہے، توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان اٹھ سکتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، بالخصوص پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات اور مہنگی توانائی کے دباؤ میں ہیں، اس صورت حال سے شدید متاثر ہوں گے۔ چنانچہ امریکی صدر کو اپنے کسی بھی فوجی فیصلے کے عالمی معیشت اور عام انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا بھی ادراک ہونا چاہیے۔
اس تناظر میں صدر ٹرمپ کے طرزِعمل کا ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ قشم پر حملے کے بعد ان کی جانب سے وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کا امکان مسترد کرنا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ امریکی داخلی سیاست اور انتخابی مفادات بھی ان کے خارجہ اور عسکری فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ اگر کسی ملک کے خلاف جنگ یا فوجی کارروائی کا فیصلہ عالمی امن، قومی سلامتی اور سفارتی تقاضوں کے بجائے انتخابی نتائج اور سیاسی مقبولیت کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو یہ نہ صرف خطرناک طرزِحکمرانی ہے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
اس تناظر میں امریکی عوام بھی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے مختلف پہلوؤں سے عاجز آتے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ میں مہنگائی، معاشی مسائل، داخلی سیاسی تقسیم اور خارجہ محاذ پر مسلسل کشیدگی کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امریکی عوام اپنے حکمرانوں سے جنگوں کی نئی داستانیں نہیں بلکہ معاشی آسودگی، روزگار، سماجی تحفظ اور داخلی استحکام چاہتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کا صدر دنیا کے کسی دوسرے خطے میں طاقت کا مظاہرہ کرکے اپنی سیاسی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ امریکی عوام یقیناً یہ بھی سوچتے ہوں گے کہ ان کے ملک کی عالمی ساکھ اور وسائل کو جنگی مہم جوئی کی نذر کرنے سے آخر انہیں کیا حاصل ہوگا؟
دریں اثناء صدر ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور امریکی عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی انتہا پسندانہ سوچ اور جارحانہ اقدامات پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی چاہیے۔ دنیا اب کسی نئی سرد جنگ یا عالمی تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بے شک امریکہ ایک بڑی عالمی طاقت ہے اور اس حیثیت سے اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین، ریاستوں کی خودمختاری اور عالمی امن کے تقاضوں کا احترام کرے۔ طاقتور ممالک کی اصل عظمت اس میں نہیں کہ وہ کمزور یا مخالف ممالک کو فوجی قوت سے زیر کرنے کی کوشش کریں بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے اثرورسوخ کو تنازعات کے پرامن حل اور انسانیت کی فلاح کے لیے بروئے کار لائیں۔
پاکستان سمیت عالمی برادری کو بھی اس موقع پر اپنا سفارتی کردار مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ قطر کی جانب سے مذاکرات کے جاری رہنے کی تصدیق ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ دیگر علاقائی اور عالمی قوتوں کو بھی چاہیے کہ وہ امریکہ اور ایران کو کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور باہمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کو بھی محض بیانات اور تشویش کے اظہار تک محدود رہنے کے بجائے عالمی امن کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اٹھانا چاہئیں۔ کسی بھی ملک کی خودمختاری کو پامال کرنے اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے مفادات مسلط کرنے کی روش کی بہر صورت حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے۔
آج دنیا کو مزید ہتھیاروں، میزائلوں اور جنگی طیاروں کی نہیں بلکہ امن، برداشت، مفاہمت اور انسانی ہمدردی کی ضرورت ہے۔ دکھی انسانیت پہلے ہی جنگوں، بھوک، غربت، بیماریوں اور معاشی ناہمواریوں کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں عالمی طاقتوں کی جانب سے نئی جنگوں کے خطرات پیدا کرنا انسانیت کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ صدر ٹرمپ کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کسی ایک انتخابی معرکے میں کامیابی یا سیاسی مقبولیت کے لیے دنیا کو جنگ کے دہانے پر نہیں پہنچایا جا سکتا۔ قشم پر امریکی حملہ اگرچہ محدود آپریشن قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والے خطرات محدود نہیں۔ امریکہ کو اب مزید دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات، تحمل اور امن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہی امریکہ، ایران، مشرقِ وسطیٰ اور پوری انسانیت کے بہترین مفاد میں ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں