دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عوام آخر کس کے لیے قربانی دیں؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان کی سیاسی تاریخ عوام کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ جمہوریت کی بحالی ہو یا آمریت کے خلاف تحریک، سیاسی آزادیوں کی جدوجہد ہو یا اقتدار کی تبدیلی، ہر دور میں عام آدمی نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ کسی نے ووٹ دیا، کسی نے جلسوں میں شرکت کی، کسی نے جلوس نکالے، کسی نے لاٹھیاں کھائیں، کسی نے آنسو گیس کا سامنا کیا، کسی نے جیل کاٹی، کسی نے کوڑے برداشت کیے اور کسی نے پھانسی کے پھندے کو قبول کیا۔ سیاسی قیادتوں کے لیے عوام نے اپنے روزگار، خاندانوں، آزادیوں حتیٰ کہ جانوں تک کی قربانیاں دیں۔
مگر اس طویل سیاسی سفر کے اختتام پر ایک عام پاکستانی اپنے آپ سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ اس کی قربانیوں کا ثمر کہاں ہے؟
جمہوریت کا وعدہ تھا کہ اقتدار عوام کے ہاتھ میں ہوگا، ان کے ووٹ کی حرمت ہوگی اور ان کے منتخب نمائندے ان کے مسائل حل کریں گے۔ لیکن عملاً اقتدار تک پہنچنے کے بعد نمائندگی کا مفہوم ہی بدلتا رہا۔ انتخابی مہم کے دوران عوام کو ریاست کا اصل مالک قرار دیا جاتا ہے، مگر اقتدار ملتے ہی وہی عوام حکمرانوں کی توجہ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں کو عوام کے ووٹ نے ایوانوں تک پہنچایا، ان کے طرزِ زندگی، مراعات اور اختیارات میں تو نمایاں تبدیلی آتی ہے، لیکن ووٹ دینے والے کی زندگی میں تبدیلی کا وعدہ اگلے انتخابات تک مؤخر ہو جاتا ہے۔
یہ تضاد صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں۔ ریاستی نظام میں سرکاری عہدوں پر فائز افراد عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ معاشرے کے دوسرے بااثر اور خوش حال طبقات بھی اسی ملک کے وسائل، منڈی، اداروں اور معاشی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان سب کے اپنے اپنے مفادات، ترجیحات اور اثرورسوخ ہیں۔ مگر جب بات عام شہری کی بنیادی ضروریات کی آتی ہے تو ریاست کی مالی مشکلات، وسائل کی کمی اور حالات کی مجبوریوں کا حوالہ سامنے آ جاتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک میں ہر طبقے کا کوئی نہ کوئی حصہ مقرر ہے، سوائے اس عام آدمی کے جس کے نام پر ریاست، جمہوریت اور عوامی خدمت کے دعوے کیے جاتے ہیں۔
آج پھر سیاست کا ماحول کشیدہ ہے۔ اقتدار کے اندر اور باہر موجود سیاسی قوتوں کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے۔ جو جماعتیں اقتدار میں ہیں، ان کے مخالفین انہیں ہٹانے کے لیے عوامی طاقت متحرک کرنا چاہتے ہیں۔ جلسوں، احتجاجوں اور تحریکوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ عوام کو ایک مرتبہ پھر سیاسی جدوجہد کا حصہ بننے، مشکلات برداشت کرنے اور قربانی دینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
لیکن اس مرتبہ ایک بنیادی سوال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا یہ واقعی عوام کے حقوق کی جنگ ہے یا اقتدار اور اختیارات کی اس کشمکش کا ایک اور مرحلہ ہے جس میں عوام ہمیشہ سے استعمال ہوتے آئے ہیں؟
کسی سیاسی جماعت کو اقتدار سے باہر ہونا پڑے تو اسے اپنے سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کا پورا حق ہے۔ کسی حکومت کی مخالفت کرنا بھی جمہوری حق ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے اقتدار کی خواہش کو عوام کی اجتماعی ضرورت قرار دے کر ان سے مزید قربانیاں طلب کریں۔ انہیں پہلے اپنے ماضی کا حساب دینا ہوگا۔ جن ادوار میں انہیں حکومت ملی، ان میں عام شہری کی زندگی کتنی بہتر ہوئی؟ کتنے لوگوں کو باعزت روزگار ملا؟ تعلیم اور علاج کی سہولتیں کس حد تک عام آدمی کی دسترس میں آئیں؟ غربت اور معاشی ناہمواری کم کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
عوام کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان کی سیاسی وابستگی کہیں انہیں اپنے ہی بنیادی مفادات سے غافل تو نہیں کر رہی۔ کسی رہنما سے محبت، کسی جماعت سے وابستگی یا کسی سیاسی نظریے کی حمایت اپنی جگہ، لیکن یہ سب عوام کے بنیادی حقوق سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتے۔ ووٹ دینے کا مطلب کسی کو اپنی عقل، ضمیر اور سوال کرنے کا حق سونپ دینا نہیں ہے۔
سیاسی قیادتیں عوام کو اپنی طاقت قرار دیتی ہیں، لیکن حقیقی سیاسی طاقت وہ ہوتی ہے جو اپنے نمائندوں سے سوال بھی کر سکے، ان کے وعدوں کا حساب بھی مانگے اور ضرورت پڑنے پر ان کی مخالفت بھی کر سکے۔ جو عوام صرف انتخاب کے دن اہم ہوں اور باقی پانچ سال حکمرانوں کی ترجیحات میں کہیں نظر نہ آئیں، انہیں اپنی سیاسی اہمیت کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔
پاکستان کو ایک ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اقتدار کا حصول منزل نہ ہو بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ ہو۔ جہاں حکومت میں آنے والا طبقہ اپنے آپ کو عوام کا حاکم نہیں بلکہ جواب دہ نمائندہ سمجھے۔ جہاں سرکاری عہدہ مراعات کا استحقاق نہیں بلکہ ذمہ داری ہو اور جہاں قومی وسائل کی تقسیم چند بااثر طبقات کے بجائے عام شہری کی ضروریات کو سامنے رکھ کر کی جائے۔
عوام کو اب کسی سیاسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی سے آگے بڑھ کر اپنے اجتماعی مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ان کی اصل لڑائی بھوک، غربت، بے روزگاری، جہالت، ناانصافی اور معاشی استحصال کے خلاف ہے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت ان مسائل کو اپنی جدوجہد کا مرکز بناتی ہے تو اس کا ساتھ دینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر اس کا مقصد صرف اقتدار کی کرسی واپس حاصل کرنا ہے تو عوام پر لازم نہیں کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگائیں۔
قربانی ہمیشہ کسی مقصد کے لیے دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب قربانیاں دینے والے کی زندگی میں بہتری ہی نہ آئے، جب اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ نہ ہو اور جب اس کے حصے میں صرف وعدے، مہنگائی اور محرومیاں آئیں تو وہ آخر کب تک دوسروں کے سیاسی مقاصد کے لیے قربانیاں دیتا رہے؟
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ عوام سیاسی قیادتوں سے یہ نہ پوچھیں کہ وہ اقتدار میں کب واپس آئیں گی، بلکہ یہ پوچھیں کہ جب وہ اقتدار میں تھیں تو عوام کے لیے کیا کر رہی تھیں اور آئندہ اقتدار ملا تو کیا کریں گی؟ کیونکہ عوام کسی کے اقتدار کی سیڑھی نہیں، اس ملک کے اصل شہری اور وسائل پر اپنے جائز حصے کے حق دار ہیں۔
واپس کریں