دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسرائیل میں اقتدار کی نئی بساط
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
اسرائیل کے حالیہ پارلیمانی انتخابات نے اس کے سیاسی نظام میں ایک ایسی غیر معمولی صورتِ حال کو جنم دیا ہے جس نے اقتدار کے روایتی توازن، جماعتی وابستگیوں اور حکومتی تشکیل کے مسلمہ تصورات کو نئے سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔ 27 اکتوبر 2026 کو منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ طویل عرصے سے اسرائیلی سیاست پر اثرانداز رہنے والے بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد اب پہلے جیسی پارلیمانی قوت کا حامل نہیں رہا۔ تاہم اس انتخابی پسپائی کو اقتدار سے قطعی محرومی قرار دینا بھی قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اسرائیل کا پارلیمانی نظام محض انتخابی نشستوں کی برتری کے بجائے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت اور جماعتوں کے مابین سیاسی مفاہمت پر استوار ہے۔

اسرائیلی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت تشکیل دینے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ حالیہ انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے حامی جماعتی اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جب کہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم مخالف سیاسی دھڑے نے 48 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان دونوں کے درمیان باقی ماندہ 19 نشستیں عرب سیاسی جماعتوں کے حصے میں آئی ہیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کی 11 اور رعم کی 8 نشستیں شامل ہیں۔ یوں اسرائیلی سیاست میں پہلی مرتبہ عرب جماعتوں نے اتنی بڑی پارلیمانی قوت حاصل کی ہے کہ ان کی حمایت کے بغیر حکومت سازی کا کوئی بھی متبادل راستہ غیر معمولی دشواریوں سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح بھی 77.9 فی صد رہی، جو کئی دہائیوں کے دوران بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔

اس انتخاب کا سب سے اہم پہلو محض نیتن یاہو کے اتحاد کی نشستوں میں کمی نہیں بلکہ اسرائیلی سیاست میں عرب شہریوں کی نمائندہ جماعتوں کی بڑھتی ہوئی پارلیمانی اہمیت ہے۔ ایک ایسا سیاسی معاشرہ جہاں عرب اسرائیلی شہریوں کی انتخابی شرکت اور ان کی سیاسی نمائندگی طویل عرصے سے مختلف نظریاتی اور جماعتی تنازعات کا موضوع رہی ہے، وہاں ان جماعتوں کا 19 نشستوں کے ساتھ سامنے آنا ایک قابلِ توجہ سیاسی تبدیلی ہے۔ یہ کامیابی انہیں محض قانون سازی کے عمل میں مؤثر آواز ہی نہیں دیتی بلکہ حکومت سازی کے مذاکرات میں بھی ایک فیصلہ کن فریق بنا دیتی ہے۔ اگر آئزن کوٹ کے مخالف سیاسی اتحاد کی 48 نشستوں کو عرب جماعتوں کی حمایت حاصل ہو جائے تو مجموعی تعداد 67 تک پہنچ سکتی ہے، جو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے خاصی زیادہ ہے۔ تاہم پارلیمانی اعداد و شمار کا یہ امتزاج لازماً ایک مستحکم حکومتی اتحاد کی ضمانت نہیں بنتا۔

اس پیچیدگی کا بنیادی سبب اسرائیلی سیاست میں موجود نظریاتی تقسیم ہے۔ آئزن کوٹ کے ساتھ کھڑے بعض سیاسی رہنما عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کے حامی ہیں، جب کہ بعض دوسرے رہنما اس نوعیت کے اشتراک کو اپنے انتخابی مؤقف اور سیاسی شناخت سے متصادم سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے معاملے پر مخالف اتحاد کے اندر بھی مکمل یکسوئی موجود نہیں۔ دوسری جانب عرب سیاسی قیادت کا مؤقف یہ ہے کہ اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی کے لیے یہودی اور عرب شہریوں کے مابین مساوی سیاسی شراکت داری ضروری ہے۔ چنانچہ معاملہ صرف وزارتِ عظمیٰ کے حصول کا نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کا بھی ہے کہ کیا اسرائیلی سیاست میں عرب شہریوں کی نمائندگی کو حکومتی سطح پر ایک مستقل اور مؤثر سیاسی حقیقت تسلیم کیا جائے گا؟

3 نومبر کو اسرائیلی حزبِ اختلاف کے اہم رہنماؤں نے ایک مشترکہ اجلاس میں گادی آئزن کوٹ کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے حمایت کا اعلان کیا اور نیتن یاہو کی حکومت کی جگہ نئی حکومت تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس پیش رفت نے حکومت سازی کی کشمکش کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ دوسری جانب صدر اسحاق ہرزوگ نے انتخابی نتائج کی توثیق کے بعد سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل شروع کیا ہے۔ انتخابی نتائج کی حتمی توثیق کے موقع پر انتخابی کمیشن نے ووٹوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ تحقیقات میں ایسے شواہد نہیں ملے جو انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کی بنیاد بن سکیں۔ اس فیصلے نے نیتن یاہو کے انتخابی دھاندلی سے متعلق مؤقف کو مزید سیاسی و قانونی سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ فہم ہے کہ نیتن یاہو محض انتخابی نتائج کے باعث فوری طور پر وزارتِ عظمیٰ سے محروم نہیں ہوئے۔ نئی حکومت کی تشکیل تک وہ نگراں وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے منصب پر برقرار رہیں گے۔ اسرائیلی صدر کی جانب سے حکومت سازی کا اختیار کسی پارلیمانی رکن کو تفویض کیے جانے کے بعد متعلقہ امیدوار کو ابتدائی طور پر 28 دن ملیں گے، جس میں حسبِ ضابطہ 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہے۔ اگر پہلا امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ مسلسل ناکامی کی صورت میں پارلیمانی تحلیل اور نئے انتخابات کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ اس دوران 10 نومبر کو نئی کنیسٹ کے ارکان کی حلف برداری متوقع ہے۔

اس صورتِ حال کا ایک اور اہم پہلو اسرائیل کی داخلی سیاست اور اس کی خارجہ و سلامتی پالیسی کے درمیان تعلق ہے۔ نیتن یاہو کی طویل سیاسی حکمرانی کے دوران غزہ، مغربی کنارے، ایران اور خطے کے دیگر تنازعات اسرائیلی سیاست کے بنیادی موضوعات رہے ہیں۔ اب نئی پارلیمانی ترکیب میں حکومت کی تشکیل کا معاملہ انھی پالیسیوں کے مستقبل سے بھی جڑ گیا ہے۔ اگر آئزن کوٹ کی قیادت میں نئی حکومت وجود میں آتی ہے تو اسے محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ داخلی سیاسی مفاہمت، سلامتی کے تصورات، فلسطینی مسئلے اور عرب شہریوں کے حقوق سے متعلق پیچیدہ معاملات کا سامنا ہوگا۔ تاہم حکومت کی تبدیلی کو اسرائیل کی فلسطین پالیسی میں لازمی بنیادی تبدیلی کا مترادف سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا؛ اس کا تعین نئی حکومت کے عملی اقدامات سے ہی ممکن ہوگا۔

موجودہ انتخابی صورتِ حال میں قومی مفاہمتی حکومت کا امکان بھی زیرِ بحث ہے، جب کہ سیاسی تعطل برقرار رہنے کی صورت میں نئے انتخابات کا راستہ بھی خارج از امکان نہیں۔ اس لیے کسی ایک امیدوار کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے حکومت سازی کے جاری مذاکرات، عرب جماعتوں کے حتمی فیصلے اور صدر کی آئینی مشاورت کو پیشِ نظر رکھنا زیادہ قرینِ دانش ہے۔

اس پورے انتخابی منظرنامے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جمہوری سیاست میں عددی اکثریت کے ساتھ سیاسی قبولیت، جماعتی مفاہمت اور عوامی نمائندگی بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اسرائیل میں حالیہ انتخاب نے یہ حقیقت نمایاں کر دی ہے کہ کوئی بھی سیاسی قوت محض ماضی کی حکمرانی یا جماعتی اثرورسوخ کی بنیاد پر مستقبل کے اقتدار کو یقینی نہیں بنا سکتی۔ نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل، آئزن کوٹ کی حکومتی تشکیل کی صلاحیت اور عرب جماعتوں کی پارلیمانی حکمتِ عملی آنے والے دنوں میں اسرائیلی سیاست کی سمت متعین کرنے والے بنیادی عوامل ہوں گے۔ بلاشبہ یہ انتخاب اسرائیل میں محض حکومت کی تبدیلی کا سوال نہیں بلکہ اس کے سیاسی ڈھانچے، جمہوری شراکت داری اور مستقبل کے قومی بیانیے کی تشکیلِ نو کا ایک اہم مرحلہ بن چکا ہے۔
واپس کریں