دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی: قومی حقوق کی سیاست، خاندانی تسلسل اور جمہوری دعووں کا تضاد
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان سے
پاکستان کی قوم پرست سیاست میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ایک منفرد تاریخی شناخت رکھتی ہے۔ اس جماعت کی بنیاد پشتون قومی حقوق، صوبائی خودمختاری، جمہوریت، پارلیمان کی بالادستی اور وفاقی اکائیوں کے مساوی اختیارات کے تصور پر قائم ہے۔ اس کے موجودہ چیئرمین محمود خان اچکزئی ہیں، جن کی سیاسی شناخت ان کے والد خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی جدوجہد سے وابستہ ہے۔ تاہم کسی جماعت کی سیاسی ساکھ صرف اس کے بانیوں کی قربانیوں اور تاریخی جدوجہد سے قائم نہیں رہتی۔ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ موجودہ قیادت ان نظریات کو اپنی جماعت، سیاسی اتحادوں اور اقتدار کے معاملات میں کس حد تک نافذ کرتی ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا جائزہ بھی اسی پیمانے پر ہونا چاہیے۔
خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے اپنی زندگی پشتون قومی شناخت، سیاسی آزادی، جمہوریت اور بنیادی حقوق کی جدوجہد میں گزاری۔ ان کی سیاست کا بنیادی مقصد پشتون عوام کو سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق دلانا تھا۔ 1970ء میں انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی پشتونخوا قائم کی۔ بعد میں مختلف قوم پرست اور ترقی پسند دھڑوں کے اتحاد سے 1986ء میں پشتونخوا ملی عوامی اتحاد وجود میں آیا، جسے 1989ء میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی موجودہ شناخت ملی۔ خان شہید کے قتل کے بعد ان کے صاحبزادے محمود خان اچکزئی نے سیاسی جدوجہد آگے بڑھائی اور جماعت کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے۔
محمود خان اچکزئی کی سیاسی زندگی میں ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف مزاحمت ایک اہم باب ہے۔ 7 اکتوبر 1983ء کو کوئٹہ میں ان کی قیادت میں نکالے گئے جلوس پر ریاستی فائرنگ ہوئی، جس میں پارٹی کے چار کارکن جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ بعد کے ادوار میں جماعت نے تحریک بحالی جمہوریت، آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سمیت مختلف جمہوری اتحادوں میں حصہ لیا۔ اس کی سیاست کا بنیادی مؤقف فوجی مداخلت کی مخالفت، منتخب پارلیمان کی بالادستی اور وفاقی اکائیوں کے حقوق رہا ہے۔ یہ جدوجہد جماعت کا قابلِ ذکر تاریخی سرمایہ ہے، لیکن اس کے موجودہ سیاسی فیصلوں کا احتساب بھی اسی اصولی معیار پر ہونا چاہیے۔
1990ء کی دہائی میں جماعت نے انتخابی سیاست اور مختلف سیاسی اتحادوں کے ذریعے اپنا پارلیمانی کردار برقرار رکھا۔ 2008ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، کیونکہ اس کے نزدیک پرویز مشرف کے فوجی اقتدار کے تحت انتخابات کو سیاسی جواز فراہم کرنا درست نہیں تھا۔ دوسری طرف 2013ء کے انتخابات میں جماعت نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ قومی اسمبلی کی تین اور بلوچستان اسمبلی کی دس نشستیں حاصل کرکے وہ صوبائی حکومت سازی میں مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کے ساتھ شریک ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیراعلیٰ بنے اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو بھی حکومت میں حصہ ملا۔
یہ کامیابی جماعت کے لیے اپنے نظریات کو حکومتی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کا موقع تھی، لیکن اسی دور میں خاندانی سیاست کا سوال بھی نمایاں ہوا۔ محمود خان اچکزئی کے بڑے بھائی محمد خان اچکزئی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا، جبکہ ان کے دوسرے بھائی حامد خان اچکزئی بھی صوبائی سیاست اور حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ کسی سیاسی رہنما کے رشتہ دار کا اہل ہونا بذاتِ خود نااہلی نہیں، لیکن جب ایک جماعت جمہوری مساوات، میرٹ اور سیاسی حقوق کی علمبردار ہو تو اہم حکومتی مناصب پر ایک ہی خاندان کی متعدد شخصیات کی موجودگی وضاحت کا تقاضا کرتی ہے۔ سیاسی تقرریوں کا معیار خاندانی تعلق نہیں بلکہ اہلیت، تجربہ اور عوامی اعتماد ہونا چاہیے۔ یہاں جماعت کے جمہوری دعوے اور اس کی عملی سیاسی تشکیل ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں۔
2014ء میں تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران محمود خان اچکزئی نے نواز شریف حکومت کی حمایت کی اور سیاسی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ منتخب حکومت کو غیر جمہوری دباؤ کے ذریعے ہٹانا درست نہیں۔ یہ پارلیمانی بالادستی کے اصول سے مطابقت رکھتا تھا۔ تاہم منتخب حکومت کی حمایت اور اس کی پالیسیوں کی غیر مشروط تائید دو الگ معاملات ہیں۔ جمہوریت کا دفاع کرنے والی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقتدار میں موجود اتحادیوں کے غیر جمہوری اقدامات اور حکومتی ناکامیوں پر بھی اسی طرح تنقید کرے جس طرح وہ مخالف حکومتوں اور غیر منتخب قوتوں پر کرتی ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک اہم اور متنازع سیاسی مؤقف فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی مخالفت تھا۔ محمود خان اچکزئی نے قبائلی علاقوں کے مستقبل کے لیے الگ انتظامی اور سیاسی بندوبست، منتخب کونسل اور خودمختاری کے مختلف متبادل تصورات پیش کیے۔ ان کا استدلال تھا کہ قبائلی عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ دوسری طرف فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حامی اسے ایف سی آر کے فرسودہ نظام کے خاتمے، آئینی حقوق، عدالتی رسائی اور قومی دھارے میں شمولیت کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ بالآخر 2018ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام عمل میں آیا۔
اس معاملے میں محمود خان اچکزئی کے مؤقف کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ پشتون قومی وحدت اور خودمختاری کی بات کرتے ہوئے قبائلی عوام کے لیے پیش کردہ متبادل انتظامی تصور کو عوامی رضامندی اور عملی نتائج کے حوالے سے زیادہ واضح ہونا چاہیے تھا۔ اگر قبائلی عوام کو فیصلہ سازی کا حق دینا بنیادی اصول تھا تو اس کے لیے ایسا شفاف طریقہ بھی پیش کرنا ضروری تھا جس کے ذریعے ان کی آزادانہ رائے سامنے آتی۔ دوسری طرف انضمام کے حامیوں کے لیے بھی ضروری تھا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کو آئینی، انتظامی اور مالیاتی حقوق حقیقت میں فراہم کیے جاتے۔ تاہم سیاسی طور پر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ انضمام کے عمل میں منتخب پارلیمان نے فیصلہ کیا اور قبائلی علاقوں کو صوبے کے آئینی ڈھانچے میں شامل کر دیا گیا۔ جماعت کا اختلاف اپنی جگہ، مگر اسے قبائلی عوام کی آئینی اور انتظامی ضروریات کے لیے ایک قابلِ عمل متبادل پروگرام بھی پیش کرنا چاہیے تھا۔
2018ء میں بلوچستان کی سیاسی تبدیلی کے دوران بھی جماعت کا پارلیمانی مؤقف اہمیت رکھتا تھا۔ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں محمود خان اچکزئی نے اپنے اتحادی مسلم لیگ ن کی حکومت کا ساتھ دیا۔ بعد میں جماعت کے امیدوار سید لیاقت آغا کو وزیراعلیٰ کے انتخاب میں 13 ووٹ ملے، جبکہ پارٹی کے رکن منظور کاکڑ نے عبدالقدوس بزنجو کی حمایت کی۔ اس واقعے پر جماعت نے منظور کاکڑ کے خلاف تنظیمی کارروائی کی۔ یہ معاملہ سیاسی اتحاد، جماعتی نظم و ضبط اور منتخب نمائندوں کی آزادانہ رائے کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔ منتخب نمائندے کی جماعتی ذمہ داری اپنی جگہ، لیکن سیاسی جماعتوں کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ان کے فیصلے عوامی مفاد اور جمہوری مشاورت کی بنیاد پر ہوتے ہیں یا محض قیادت کے طے کردہ سیاسی مفادات کے تحت۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی داخلی جمہوریت کا معاملہ اس کے سیاسی دعووں کا سب سے اہم امتحان ہے۔ محمود خان اچکزئی طویل عرصے سے جماعت کے مرکزی چیئرمین ہیں۔ 2022ء میں کوئٹہ میں ساتویں قومی کانگریس کے دوران وہ دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ لیکن اسی سال جماعت کے اندر شدید اختلافات سامنے آئے۔ متعدد سینئر رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو جماعت سے نکالا گیا۔ اختلاف کرنے والے رہنماؤں نے قیادت کے طرزِ عمل، پالیسی سازی اور داخلی جمہوریت پر اعتراضات اٹھائے اور علیحدہ کانگریس منعقد کرکے نئی تنظیم قائم کر لی، جس کی قیادت خوشحال خان کاکڑ نے سنبھالی۔
اس تقسیم کو چند افراد کی ذاتی ناراضی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی جماعت جو قومی سطح پر جمہوریت، اختلافِ رائے اور پارلیمان کی بالادستی کا مطالبہ کرتی ہو، اس کے لیے داخلی اختلاف کو برداشت کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر جماعت کے سینئر رہنما پالیسیوں سے اختلاف کریں اور ان کے لیے تنظیم کے اندر مؤثر مکالمے اور انتخابی مقابلے کا راستہ موجود نہ ہو تو یہ داخلی جمہوریت کی کمزوری ہے۔ کسی جماعت کا دستور اور کانگریس کے انتخابات اسی وقت بامعنی ہوتے ہیں جب کارکن اور رہنما قیادت کے فیصلوں پر آزادانہ تنقید بھی کر سکیں۔ 2022ء کی تقسیم نے جماعت کی تنظیمی وحدت کو نقصان پہنچایا اور اس کے جمہوری دعووں پر ایک سنجیدہ سوال چھوڑ دیا۔
2024ء کے انتخابات میں محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے مختلف سیاسی جماعتوں، خصوصاً تحریک انصاف کے ساتھ مل کر آئین کی بالادستی، انتخابی شفافیت اور جمہوری حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد کی۔ جنوری 2026ء میں انہیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا۔ یہ ان کے سیاسی سفر میں ایک اہم پارلیمانی منصب ہے۔ تاہم اس ذمہ داری کے ساتھ ایک بنیادی اصول بھی وابستہ ہے کہ قائد حزب اختلاف کو صرف اپنے سیاسی اتحادیوں کے مؤقف کا ترجمان نہیں بلکہ پورے پارلیمانی نظام میں حکومتی اختیارات، قانون سازی اور آئینی معاملات کا نگران ہونا چاہیے۔ ان کا احتساب بھی اسی وقت مکمل ہوگا جب وہ سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادیوں کے فیصلوں کو بھی یکساں جمہوری اور آئینی معیار پر پرکھیں گے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پشتون وطن کی جغرافیائی و سیاسی وحدت، پشتو زبان کی سرکاری و انتظامی حیثیت، صوبائی خودمختاری، وفاقی اکائیوں کے مساوی حقوق اور منتخب پارلیمان کی بالادستی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ مطالبات پاکستان کے وفاقی ڈھانچے اور قومی حقوق کی بحث میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ لیکن قومی حقوق کی سیاست صرف شناخت، زبان اور سیاسی خودمختاری تک محدود نہیں رہ سکتی۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پشتون علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی سہولتوں، امن، معدنی وسائل اور معاشی ترقی کے مسائل بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ جماعت نے جہاں حکومت میں حصہ لیا، وہاں ان شعبوں میں اپنی کارکردگی اور عوامی خدمات کا باقاعدہ حساب پیش کرنا چاہیے۔ سیاسی منشور میں حقوق کا مطالبہ اور اقتدار میں رہتے ہوئے ان حقوق کی عملی فراہمی دو مختلف ذمہ داریاں ہیں۔
محمود خان اچکزئی کی سیاسی زندگی میں آمریت کے خلاف جدوجہد، جمہوری تحریکوں میں شرکت اور پارلیمان کی بالادستی کے لیے آواز اٹھانے کے قابلِ ذکر پہلو موجود ہیں۔ لیکن ان کی سیاست کے دوسرے پہلو بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ قیادت میں خاندانی تسلسل، اہم حکومتی عہدوں پر قریبی رشتہ داروں کی موجودگی، فاٹا انضمام کی مخالفت، اتحادی سیاست میں جماعتی مفادات اور 2022ء کی تنظیمی تقسیم ایسے معاملات ہیں جن کا جواب صرف تاریخی قربانیوں کے حوالے دے کر نہیں دیا جا سکتا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا بنیادی سیاسی تضاد اس کے جمہوری اور مساوات پر مبنی نظریاتی دعووں اور اس کی عملی تنظیمی و سیاسی ساخت کے درمیان موجود فاصلے میں دکھائی دیتا ہے۔ جماعت کی تاریخی جدوجہد اپنی جگہ قابلِ اعتراف ہے، لیکن اس کی بنیاد پر موجودہ قیادت کو احتساب سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔ خاندانی تعلقات کی بنیاد پر سیاسی مواقع کے تاثر، داخلی اختلافات کے نتیجے میں جماعت کی تقسیم اور اتحادی سیاست کے مختلف فیصلوں نے اس کی جمہوری ساکھ کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔
محمود خان اچکزئی اب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔ ان کے پاس پارلیمان کی بالادستی، آئینی حقوق، وفاقی خودمختاری اور جمہوری آزادیوں کے لیے کردار ادا کرنے کا اہم موقع موجود ہے۔ لیکن ان کے سیاسی مؤقف کی اصل قدر اسی وقت سامنے آئے گی جب وہ ان اصولوں کا اطلاق اپنے اتحادیوں، اپنی جماعت اور اپنی قیادت پر بھی کریں گے۔ پشتون قومی حقوق کی جدوجہد کو محض سیاسی شناخت، خاندانی وراثت یا انتخابی اتحادوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسے عوام کے معاشی، تعلیمی، سماجی اور آئینی حقوق کی عملی ضمانت بننا ہوگا۔
خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی جدوجہد ایک تاریخی حقیقت ہے، لیکن اس جدوجہد کی سیاسی وراثت کسی کو مستقل استحقاق نہیں دیتی۔ محمود خان اچکزئی اور ان کی جماعت کو اپنی موجودہ سیاست کا جواب اپنے تاریخی حوالوں سے نہیں بلکہ اپنے فیصلوں، تنظیمی رویوں اور عوامی کارکردگی سے دینا ہوگا۔ جمہوریت کا مطالبہ کرنے والی جماعت اگر اپنے اندر اختلاف برداشت نہیں کرتی، میرٹ کی بات کرتے ہوئے خاندانی تسلسل کے سوالات کا جواب نہیں دیتی اور سیاسی اتحادوں میں اپنے اصولوں کا یکساں اطلاق نہیں کرتی تو اس کے نظریاتی دعوے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیے اصل ضرورت اپنی تاریخ پر فخر کرنے سے زیادہ اپنے حال کا احتساب کرنا ہے۔
واپس کریں