پاکستان کو مسیحا چاہیے یا ایک غیر معمولی حکمران؟ خالد خان

کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کے تجربات کو سامنے رکھ کر سوچتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ پاکستان کے بارے میں سوچتے ہوئے میرے ذہن میں یہی سوال بار بار آتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے 62 سال گزار دیے۔ اس دوران کئی حکومتیں آئیں، کئی نظام آزمائے گئے، انقلاب کے نعرے بلند ہوئے، تبدیلی کے وعدے کیے گئے، مگر عام پاکستانی کی زندگی میں وہ بنیادی تبدیلی نہیں آئی جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔
ہماری تاریخ غلامی، حملوں، بیرونی حکمرانی اور سیاسی محرومیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد وطن کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ انہیں امید تھی کہ آزادی کے بعد وہ اپنی قسمت کے خود مالک ہوں گے، ان کے بچوں کو تعلیم، روزگار، انصاف اور عزت ملے گی اور ریاست ان کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری اٹھائے گی۔ مگر آزادی کے بعد اقتدار کے چہرے تو بدلتے رہے، عام آدمی کی حالت نہ بدل سکی۔ یوں محسوس ہوا جیسے صرف آقا تبدیل ہوئے ہوں، حکمرانی کا مزاج نہیں۔
ہماری نسل نے بھی تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط اس تجربے کو دیکھا ہے۔ مذہب کے نام پر حکومتیں بنیں، جمہوریت کے نام پر اقتدار منتقل ہوا، سوشلزم کے نعرے لگے، فوجی حکومتیں آئیں، غیر سیاسی شخصیات کو آزمایا گیا، انقلاب اور بغاوتوں کی باتیں ہوئیں، مگر ملک اپنے بنیادی مسائل سے باہر نہ نکل سکا۔ ہر نئی حکومت نے سابقہ حکومت کو ذمہ دار قرار دیا اور خود اصلاحات کے وعدے کیے، لیکن غربت، ناخواندگی، بدعنوانی، طبقاتی تقسیم اور ادارہ جاتی کمزوری ہماری قومی زندگی کا مستقل حصہ بنے رہے۔
اس ناکامی کو صرف سیاست دانوں یا فوجی حکمرانوں کے کھاتے میں ڈال کر بھی ہم اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ ہمارا معاشرہ بھی شدید تضادات کا شکار ہے۔ یہاں مذہب موجود ہے مگر مذہبی تعلیمات کے بنیادی اخلاقی تقاضے کمزور ہیں، قوم پرستی ہے مگر اجتماعی قومی شعور کا فقدان ہے، جمہوریت کا شور ہے مگر برداشت، مکالمے اور اختلافِ رائے کی گنجائش محدود ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے تو آواز اٹھاتے ہیں لیکن دوسروں کے حقوق تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہیں۔ قانون اپنے مخالف کے لیے سخت اور اپنے پسندیدہ کے لیے نرم چاہتے ہیں۔
ایک طرف محدود اشرافیہ ہے جس نے ریاستی وسائل، معاشی مواقع اور فیصلہ سازی پر اپنی گرفت قائم کر رکھی ہے، دوسری طرف کروڑوں عوام ہیں جن کی زندگی روٹی، بجلی، علاج، تعلیم اور روزگار کے مسائل میں گزر جاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں جمہوریت کی افادیت پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عام انسان کو زندگی کی بنیادی ضروریات میسر ہیں بھی یا نہیں۔ بھوکے شخص کے سامنے چوک یادگار میں ایک سیاسی تقریر اور ایک وقت کی روٹی رکھ دی جائے تو وہ یقیناً روٹی کا انتخاب کرے گا۔ اس کے لیے آزادیِ اظہار سے پہلے زندہ رہنے کا مسئلہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں وقتاً فوقتاً خونی انقلاب، خمینی جیسی قیادت اور ایک ایماندار سخت گیر ڈکٹیٹر کی خواہش سامنے آتی رہی ہے۔ یہ خواہش کسی ایک نظریے یا سیاسی جماعت کی پیداوار نہیں بلکہ مسلسل ناکامیوں سے جنم لینے والی اجتماعی مایوسی کی علامت ہے۔ لوگ ایک ایسے حکمران کی تلاش میں ہیں جو مصلحتوں سے بالاتر ہو، بااثر طبقات کو قانون کے تابع کرے، بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے اور ریاستی وسائل کو عوام کی فلاح پر خرچ کرے۔
میرے نزدیک اس خواہش کو محض جمہوریت دشمنی یا آمریت پسندی کا نام دے کر مسترد کرنا بھی حقیقت سے فرار ہے۔ ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ لوگ ایسے حکمران کی خواہش کیوں کرتے ہیں۔ جب معاشرے میں ادارے عوام کی توقعات پوری نہ کریں، سیاسی قیادت ذاتی اور جماعتی مفادات میں الجھی رہے اور ریاستی مشینری عام شہری کے مسائل حل کرنے کے بجائے اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے تو لوگ کسی غیر معمولی شخصیت سے امیدیں وابستہ کرنے لگتے ہیں۔
یہاں کردار کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ دیانت داری، اخلاق، خوفِ خدا، خود احتسابی اور ذاتی زندگی میں پاکیزگی محض مذہبی یا اخلاقی خوبیاں نہیں بلکہ حکمرانی کے لیے بھی بنیادی اوصاف ہیں۔ جو شخص اپنی خواہشات پر قابو نہیں رکھ سکتا، ذاتی مفادات سے بلند نہیں ہو سکتا اور اپنے کردار میں دیانت دار نہیں، اس سے اجتماعی اصلاح کی توقع رکھنا مشکل ہے۔ البتہ اچھا کردار درست حکمرانی کی ضمانت نہیں؛ اس کے ساتھ بصیرت، انتظامی صلاحیت، اہل ٹیم اور قومی ترجیحات کا واضح تعین بھی ضروری ہے۔
اسی پس منظر میں موجودہ فیلڈ مارشل کی شخصیت اور کردار کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میری ذاتی رائے میں وہ ایک باکردار، سخت گیر اور فیصلہ کن شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کے پاس ریاستی فیصلہ سازی میں غیر معمولی اثر و رسوخ اور اختیارات بھی موجود ہیں۔ میں اس امکان کو نظرانداز نہیں کرتا کہ وہ پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لیکن اس رائے کو محض ذاتی تاثر تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے منصب سنبھالنے سے لے کر اب تک کے اقدامات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
جنرل عاصم منیر نے 29 نومبر 2022 کو چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھالا۔ ابتدائی دور میں ان کی توجہ فوجی تنظیم، قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور ریاستی اداروں کے درمیان رابطے پر رہی۔ ان کے دور میں نیشنل سکیورٹی اور معاشی پالیسی کے درمیان تعلق کو بھی زیادہ نمایاں کیا گیا۔ سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا قیام اسی سوچ کا اہم اظہار تھا، جس میں فوجی قیادت، وفاقی حکومت اور صوبائی نمائندگی کو ایک مشترکہ انتظامی پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی گئی۔ اس کا مقصد سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا، معدنیات، زراعت، توانائی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ لانا اور فیصلہ سازی کو تیز کرنا تھا۔
اس ماڈل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان جیسے انتظامی طور پر پیچیدہ ملک میں سرمایہ کاروں کو بار بار اداروں کے چکر لگوانے کے بجائے ایک مربوط نظام فراہم کرنا ضروری ہے۔ریاستی فیصلہ سازی میں غیر معمولی مرکزیت اور معاشی انتظام میں فوجی قیادت کا بڑھتا ہوا کردار اس دور کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔
مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ فوجی تصادم ان کی قیادت کا سب سے بڑا امتحان تھا۔ پہلگام حملے کے بعد بھارت نے 7 مئی کو پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے اس کارروائی کا جواب دیا اور دونوں ممالک کے درمیان میزائلوں، ڈرونز، فضائی کارروائیوں اور توپ خانے کا شدید تبادلہ ہوا۔ یہ محض سرحدی جھڑپ نہیں تھی بلکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کئی دہائیوں کا سنگین ترین فوجی تصادم بن گئی۔
مسلح افواج نے بھارتی فضائی کارروائیوں کا مؤثر جواب دیا، متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔بین الاقوامی دفاعی تجزیوں میں بھارتی طیاروں کے نقصان اور پاکستان کی فضائی مزاحمت کو اہم قرار دیا گیا۔
10 مئی کو جنگ بندی ہوئی۔ اس مرحلے پر پاکستان کی عسکری قیادت نے جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کردار ادا کیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سفارتی مداخلت بھی فیصلہ کن رہی۔ پاکستان نے اپنی عسکری مزاحمت کے ذریعے یہ ضرور دکھایا کہ اسے آسانی سے دباؤ میں نہیں لایا جا سکتا۔ اس تصادم نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور فوجی قیادت کی عالمی سطح پر اہمیت کو دوبارہ نمایاں کیا۔ اسی تناظر میں 20 مئی 2025 کو وفاقی کابینہ نے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی۔
اس جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ پاکستان نے صرف عسکری محاذ پر نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اپنی موجودگی محسوس کرائی۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں کے باوجود پاکستان نے امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ رابطے تیز کیے۔ فیلڈ مارشل کی امریکہ، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک کے دوروں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے فوجی قیادت کو سفارتی عمل میں ایک نمایاں کردار دیا۔
ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی تھی۔ امریکی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطے، دہشت گردی کے خلاف تعاون، تجارتی تعلقات اور معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ اسی سال امریکی کمپنیوں نے پاکستان کے معدنی شعبے میں ابتدائی طور پر 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی اور آمادگی ظاہر کی۔
2026 میں پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ایک نئی سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا۔ اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔ امریکی اور ایرانی قیادت کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکرات کے لیے پاکستان کی میزبانی نے اسے ایک ایسے ملک کے طور پر نمایاں کیا جو متحارب قوتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس سفارتی کردار کی اہمیت محض عالمی تشہیر نہیں بلکہ پاکستان کے لیے علاقائی امن، معاشی استحکام اور بین الاقوامی اعتماد کے امکانات میں بھی پوشیدہ ہے۔
چین کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک تعاون اور امریکہ کے ساتھ دوبارہ بہتر ہوتے روابط بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں ہیں۔
اندرونی محاذ پر سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان برسوں سے اس کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ فوج، پولیس، ایف سی اور عام شہری مسلسل حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ عزمِ استحکام اور انسدادِ دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں کے ذریعے ریاست نے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کیں۔ 2025 میں سکیورٹی اداروں کے مطابق 75 ہزار سے زیادہ آپریشن کیے گئے اور ہزاروں دہشت گرد مارے گئے۔ لیکن دوسری طرف مختلف تحقیقی اداروں کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اسی سال دہشت گرد حملوں اور تشدد میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے 2025 میں 699 دہشت گرد حملوں اور ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کیں، جبکہ دوسرے اداروں کے اعدادوشمار اس سے بھی زیادہ ہیں۔
یہ اعدادوشمار دو باتیں بتاتے ہیں۔ پہلی یہ کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سنجیدہ اور متحرک ہے۔ دوسری یہ کہ محض فوجی آپریشن دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔ سرحدی انتظام، افغانستان کے ساتھ تعلقات، مقامی آبادی کا اعتماد، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد، انٹیلی جنس، مالی معاونت کے نیٹ ورک کا خاتمہ اور متاثرہ علاقوں کی معاشی تعمیرِ نو بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہونے چاہییں۔ اگر کسی علاقے میں دہشت گردی ختم کرنے کے بعد وہاں سکول، ہسپتال، روزگار اور معمول کی زندگی بحال نہ ہو تو ریاست کی کامیابی ادھوری رہ جاتی ہے۔
اب خیبرپختونخوا کی طرف آتے ہیں، جہاں حالیہ تبدیلیاں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ صوبے میں طویل عرصے سے دہشت گردی، بدامنی، انتظامی کمزوری اور وفاق و صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی موجود رہی ہے۔ 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔ صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوئے اور صوبائی انتظامی امور چلانے کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی۔
اس اقدام کے ساتھ صوبے کے بارہ اضلاع کے لیے الگ انتظامی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ ان میں سابق قبائلی اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت شامل ہیں۔ ان علاقوں میں سکیورٹی، انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبوں کو براہ راست مربوط کرنے کا تصور پیش کیا گیا۔
اس کے بعد 48 رکنی ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل قائم کی گئی، جس میں مقامی عمائدین اور قبائلی نمائندوں کو جرگوں کے ذریعے مشاورت کے بعد شامل کیا گیا۔ اس کونسل کا مقصد مقامی مسائل کو براہ راست انتظامی فیصلوں تک پہنچانا، امن و امان بہتر بنانا، ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی اور متاثرہ علاقوں میں ریاستی عمل داری بحال کرنا ہے۔ اس کے ذریعے مقامی قبائلی روایات کو ریاستی انتظامی ڈھانچے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ کونسل کو بعض علاقوں میں مسلح گروہوں کو مقامی جرگوں کے ذریعے علاقہ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
اس اقدام کے پیچھے ایک اہم تصور موجود ہے۔ جن علاقوں میں معمول کی انتظامیہ دہشت گردی، مسلح گروہوں اور مقامی طاقت کے مراکز کے دباؤ میں مؤثر انداز میں کام نہیں کر پا رہی، وہاں ایک مربوط انتظامی اور سکیورٹی نظام قائم کیا جائے۔ اگر یہ ماڈل مقامی آبادی کی حقیقی نمائندگی، ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور امن کی بحالی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو اس کے نتائج اہم ہو سکتے ہیں۔
یہاں ایک اور بات بھی اہم ہے۔ بارہ اضلاع میں ایمرجنسی اور پورے صوبے میں گورنر راج دو الگ اقدامات ہیں۔ وفاقی حکومت نے ان کے لیے دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی مبینہ ناکامی کو بنیاد بنایا۔
خیبرپختونخوا میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم بھی ریاستی عمل داری کے حوالے سے اہم ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے 19 اکتوبر کو پشاور میں جاری آپریشن کا جائزہ لیا اور اعلان کیا کہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی صرف پشاور تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے صوبے میں کی جائے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ سرکاری زمین اور عوامی مقامات پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
پشاور کی تجاوزات، رنگ روڈ اور دیگر علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملات بھی اسی تناظر میں دیکھنے چاہییں۔ دہائیوں سے قائم تجاوزات، تجارتی مراکز اور بااثر لوگوں کے قبضے اگر قانون کے خلاف ہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم انتظامیہ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سرکاری اداروں کی اپنی غفلت، پرانی منظوریوں، غلط نقشوں اور طویل عرصے تک خاموشی سے پیدا ہونے والے مسائل کا ذمہ دار صرف عام شہری کو نہ ٹھہرایا جائے۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری اہلکار اور قبضہ کرنے والا دونوں جواب دہ ہوں۔
یہاں فیلڈ مارشل کی قیادت میں ابھرنے والے انتظامی ماڈل کا ایک بڑا سوال سامنے آتا ہے: کیا ریاست پہلی مرتبہ بااثر طبقات کے خلاف عملی طور پر کھڑی ہو رہی ہے یا صرف کمزور اور سیاسی طور پر غیر محفوظ حلقوں تک کارروائی محدود رہے گی؟ اس سوال کا جواب آنے والے مہینوں میں ملے گا۔ اگر تجاوزات کے خلاف مہم میں بڑے قبضہ گروپوں، سیاسی شخصیات، سرکاری محکموں اور بااثر خاندانوں کو بھی اسی معیار پر جواب دہ بنایا گیا تو یہ قانون کی حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔
معاشی محاذ پر بھی اس دور کے نتائج کو جذبات کے بجائے اعدادوشمار سے دیکھنا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام، مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری، توانائی کے شعبے میں تبدیلیاں اور سرمایہ کاری کے لیے اقدامات نے معیشت کو فوری مالی بحران سے کچھ حد تک نکالنے میں مدد دی ہے۔ 2026 میں عالمی بینک کے مطابق معاشی نمو میں بہتری اور مالیاتی استحکام کے اشارے سامنے آئے، جبکہ آئی ایم ایف نے بھی اصلاحاتی پروگرام پر پیش رفت کا ذکر کیا۔ لیکن اسی عالمی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 2024-25 میں غربت تقریباً 29 فیصد تک پہنچ گئی اور تقریباً سات کروڑ پاکستانی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حقیقی اجرتوں میں کمی اور روزگار کے محدود مواقع بھی سنگین مسائل ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت اور ریاستی قیادت کو اپنی ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔ معاشی استحکام ضروری ہے، لیکن عوام کی قوتِ خرید، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں میں بہتری کے بغیر اس استحکام کی سماجی اہمیت محدود رہے گی۔ معدنیات کے ذخائر، بیرونی سرمایہ کاری اور بڑے منصوبے اسی وقت قومی دولت بنیں گے جب ان سے مقامی صنعت، ہنرمند افرادی قوت، برآمدات اور عام شہری کی آمدنی میں اضافہ ہو۔
فیلڈ مارشل کے دور میں نومبر 2025 کی 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی کمان کے ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا منصب قائم ہوا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس عہدے پر بھی ذمہ داریاں دی گئیں۔ اس طرح تینوں مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کو ایک زیادہ مربوط ڈھانچے میں لانے کی کوشش کی گئی۔ اس تبدیلی کے حامی اسے دفاعی ہم آہنگی اور فیصلہ سازی میں بہتری کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جس سے فوجی قیادت کے اختیارات اور ریاستی فیصلہ سازی میں اس کی مرکزیت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔
اس تبدیلی کی عملی افادیت کا فیصلہ مستقبل میں دفاعی تیاری، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی سلامتی کے نتائج سے ہوگا۔ تاہم اتنی بڑی طاقت اور اختیار اپنے ساتھ اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی لے کر آتے ہیں۔ کسی قیادت کے پاس جتنے زیادہ اختیارات ہوں، اس کے فیصلوں کے نتائج بھی اتنے ہی زیادہ لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ ان تمام اقدامات کو ایک ساتھ دیکھنے سے پاکستان کس سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے؟
ایک طرف بھارت کے ساتھ تصادم میں عسکری مزاحمت، عالمی سفارتی رابطوں میں بہتری، امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی، سرمایہ کاری کے لیے کوششیں، معاشی نظم و ضبط اور دہشت گردی کے خلاف وسیع کارروائیاں موجود ہیں۔ دوسری طرف ملک میں دہشت گردی کا سنگین مسئلہ، خیبرپختونخوا میں بدامنی، غربت، کمزور انسانی ترقی اور عوام کی معاشی مشکلات بھی بدستور موجود ہیں۔
میری نظر میں اس دور کی سب سے نمایاں خصوصیت فیصلہ سازی کا ارتکاز اور ریاستی معاملات میں غیر معمولی تیزی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ بکھرے ہوئے اداروں کو ایک مرکز سے چلانے، انتظامی رکاوٹیں ختم کرنے، سرمایہ کاری لانے اور سکیورٹی کے معاملات میں فیصلہ کن کارروائی کرنے کا تصور اس حکمت عملی کے مرکز میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ادارہ جاتی کمزوری اور اشرافیائی مفادات نے ریاستی صلاحیت کو محدود کر رکھا ہے، وہاں فیصلہ کن قیادت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن اس حکمت عملی کا اصل امتحان یہ ہے کہ طاقت کو محض کنٹرول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا قومی تعمیر کے لیے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا مطلب صرف آپریشنز کی تعداد نہیں بلکہ محفوظ شہری، بحال سکول، کھلے بازار اور خوف سے آزاد زندگی ہے۔ معاشی کامیابی کا مطلب صرف سرمایہ کاری کے معاہدے نہیں بلکہ روزگار، آمدنی اور غربت میں کمی ہے۔ انتظامی کامیابی کا مطلب صرف تجاوزات کا خاتمہ نہیں بلکہ ایسا مستقل نظام ہے جس میں کوئی بااثر شخص دوبارہ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کی جرأت نہ کرے۔
پاکستان کو اس وقت ایک غیر معمولی قیادت، غیر معمولی فیصلوں اور غیر معمولی کارکردگی کی ضرورت ہے۔ میری ذاتی رائے میں موجودہ فیلڈ مارشل میں کردار، فیصلہ سازی اور اختیار کے وہ عناصر موجود ہیں جن کی بنیاد پر ان سے بڑی توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ ان کے دور میں بعض ایسے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں جنہیں محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے ساتھ تصادم میں دفاعی مزاحمت، سفارتی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ، علاقائی امن کے لیے ثالثی کی کوششیں اور ریاستی انتظام میں اصلاحات کی سمت پیش رفت قابلِ توجہ ہیں۔
تاہم دہشت گردی کے مسلسل خطرے، معاشی محرومی، انسانی ترقی کی کمزوری اور بعض انتظامی اقدامات کے نامکمل نفاذ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خیبرپختونخوا کے بارہ اضلاع میں قائم کیے گئے نئے انتظامی ڈھانچے کی کامیابی، تجاوزات کے خلاف یکساں کارروائی اور سرمایہ کاری کو حقیقی روزگار میں تبدیل کرنا آنے والے وقت کے اہم امتحانات ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسے مرحلے کی ضرورت ہے جہاں اقتدار کا مقصد محض حکومت کرنا نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادی ساخت تبدیل کرنا ہو۔ جہاں حکمران اپنی ذات، جماعت، ادارے یا طبقے کے بجائے ملک کے مستقبل کو ترجیح دے۔ جہاں دیانت داری کے ساتھ فیصلہ سازی، سختی کے ساتھ انصاف اور اختیار کے ساتھ قومی ذمہ داری بھی موجود ہو۔
اگر موجودہ قیادت نے اپنی توانائیاں اسی سمت میں مرکوز رکھیں، اہل اور دیانت دار لوگوں کو ذمہ داریاں دیں، بدعنوان اشرافیہ کے مفادات کو محدود کیا، دہشت گردی کا خاتمہ کیا، معیشت کو عوامی خوشحالی سے جوڑا اور پاکستان کو تعلیم یافتہ، صحت مند اور خوداعتماد معاشرے میں تبدیل کرنے کے منصوبے کو عملی شکل دے دی تو یہ ملک کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
میری نسل نے بہت سے خواب دیکھے اور ٹوٹتے ہوئے دیکھے ہیں۔ اب خواہش صرف اتنی ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی وہی مایوسی ورثے میں نہ پائیں۔ پاکستان کو مزید نعروں اور سیاسی تجربات کی نہیں بلکہ ایسی قیادت اور ایسی ریاستی کارکردگی کی ضرورت ہے جو انسان کو اس کی بنیادی ضروریات، عزت اور خوشحال زندگی فراہم کر سکے۔
کسی بھی انقلاب کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ تخت پر بیٹھا شخص بدل جائے، بلکہ یہ ہے کہ عام آدمی کی قسمت بدل جائے۔ اور اگر کوئی حکمران واقعی یہ تبدیلی لے آئے تو تاریخ اسے اس کے دعووں سے نہیں، اس کے نتائج سے یاد رکھے گی۔
واپس کریں