ووٹ کے تقدس کا نعرہ، خاندانی سیاست اور اقتدار کے سمجھوتے
خالد خان۔ کالم نگار
سول بالادستی سے مفاہمتی حکومت تک
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا جائزہ لیتے ہوئے ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ یہ جماعت ایک طرف ووٹ کے تقدس، جمہوری بالادستی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، دوسری طرف اس کی سیاسی تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی، عدلیہ سے تصادم، خاندانی قیادت اور اقتدار کے لیے سیاسی سمجھوتوں کے متعدد ادوار موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) نے اپنے سیاسی سفر میں ان اصولوں کو مستقل طور پر اپنایا جن کا آج وہ مطالبہ کرتی ہے؟
نواز شریف کا سیاسی عروج جنرل ضیاء الحق کے دور میں پنجاب کی صوبائی سیاست سے شروع ہوا۔ 1985ء میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ اور بعد میں وزیراعلیٰ بنے۔ 1988ء کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے پلیٹ فارم سے ان کی سیاست آگے بڑھی۔ اس اتحاد کو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہونے کے شواہد اور بعد میں سامنے آنے والی عدالتی کارروائیوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سوال بنا دیا۔ 1990ء کے انتخابات میں آئی جے آئی کی کامیابی کے بعد نواز شریف وزیراعظم بنے۔ بعد میں مسلم لیگ (ن) ایک الگ جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی۔ آج یہی جماعت سول بالادستی اور سیاسی مداخلت کے خاتمے کی بات کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سیاست میں غیر جمہوری سرپرستی غلط ہے تو اس کے ذریعے سیاسی عروج حاصل کرنے والے کرداروں کا تاریخی احتساب کس طرح ہوگا؟
نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں نجکاری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معاشی آزادکاری کو ترجیح دی گئی۔ یہ پالیسی مسلم لیگ (ن) کی معاشی شناخت بن گئی۔ 1991ء میں موٹروے منصوبے کا آغاز بھی اسی دور کی اہم ترقیاتی پیش رفت تھی۔ تاہم 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم کے درمیان کشمکش کے نتیجے میں دونوں کو عہدے چھوڑنے پڑے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ پاکستان میں منتخب حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش بدستور موجود تھی۔
1997ء میں مسلم لیگ (ن) نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کا خاتمہ جمہوری اعتبار سے ایک اہم قدم تھا۔ لیکن اسی دور میں وزیراعظم اور عدلیہ کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ سپریم کورٹ پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے دھاوے، چیف جسٹس کی برطرفی کے تنازعے اور مخالفین و صحافیوں پر دباؤ کے واقعات نے جمہوری بالادستی کے دعوے کو نقصان پہنچایا۔ چودھویں آئینی ترمیم کے ذریعے ارکان اسمبلی کی جماعتی قیادت سے انحراف کی گنجائش بھی محدود ہوئی، جس سے پارلیمانی نظم و ضبط کے ساتھ پارٹی قیادت کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی بغاوت نے نواز شریف کی حکومت ختم کردی۔ اس کے بعد جلاوطنی اور سیاسی جدوجہد کا دور شروع ہوا۔
مسلم لیگ (ن) کے سیاسی سفر کا ایک اہم مثبت باب 2006ء کا میثاقِ جمہوریت ہے، جو نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان طے پایا۔ اس معاہدے نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ماضی کی محاذ آرائی سے نکل کر جمہوری نظام کے تحفظ اور فوجی مداخلت کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا راستہ دیا۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاقی حکومت میں شمولیت بھی اسی مفاہمت کا نتیجہ تھی، اگرچہ عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر اختلاف کے باعث مسلم لیگ (ن) جلد حکومت سے الگ ہوگئی۔
2013ء میں مسلم لیگ (ن) تیسری مرتبہ وفاق میں اقتدار میں آئی۔ اس دور کی نمایاں کامیابیوں میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ، سڑکوں اور موٹرویز کے منصوبے، میٹرو بسیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہیں۔ 2017ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی بھی حکومت کا قابلِ ذکر نتیجہ تھا۔ لیکن اس ترقیاتی ماڈل کا ایک بنیادی سوال یہ رہا کہ کیا سڑکوں، پلوں اور بڑے منصوبوں کے ساتھ تعلیم، صحت، مقامی حکومتوں، برآمدات، صنعتی پیداوار اور روزگار کے شعبوں میں بھی اسی رفتار سے تبدیلی آئی؟ ترقی کا پیمانہ صرف تعمیرات نہیں بلکہ عام شہری کے معیارِ زندگی میں بہتری بھی ہے۔
2017ء میں پاناما پیپرز کے بعد نواز شریف کی نااہلی مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے پاناما مقدمے میں نواز شریف کو متحدہ عرب امارات کی کمپنی سے قابلِ وصول تنخواہ اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر نااہل قرار دیا۔ اس فیصلے کے قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر اختلافات اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کو آئینی و عدالتی عمل کے ذریعے عہدے سے الگ ہونا پڑا۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے ووٹ کے تقدس اور سیاسی مداخلت کے خلاف بھرپور بیانیہ اختیار کیا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا یہی اصول اس وقت بھی اتنی ہی شدت سے موجود تھے جب جماعت خود اقتدار میں تھی؟
2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) شکست کے بعد اپوزیشن میں چلی گئی۔ اس دوران نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر کھل کر تنقید کی۔ یہ ان کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی تھی، کیونکہ ماضی میں ان کے سیاسی عروج کو بھی اسی ادارہ جاتی سرپرستی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا تھا۔ تاہم 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اقتدار سنبھالا۔ شہباز شریف وزیراعظم بنے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں اتحادی حکومت قائم ہوئی۔ یہ سیاسی اتحاد جمہوری طریقہ کار کے تحت تشکیل پایا، لیکن اس کے دوران مہنگائی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکسوں کا بوجھ اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط عام شہری کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنیں۔ سوال یہ ہے کہ جس جماعت نے عوامی ریلیف اور معاشی خوشحالی کے وعدے کیے تھے، اس نے اقتدار میں آکر عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے کیا مستقل اور بنیادی اصلاحات کیں؟
2024ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی حمایت سے دوبارہ وفاقی حکومت قائم کی۔ اس وقت ایک بار پھر سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نام پر مفاہمت کی سیاست جاری ہے۔ لیکن اس مفاہمت میں عوامی مسائل، انتخابی شفافیت اور پارلیمانی خودمختاری کو کتنی ترجیح حاصل ہے؟ 21 اکتوبر 2024ء کو منظور ہونے والی چھبیسویں آئینی ترمیم اس حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔ حکومت نے اسے پارلیمانی بالادستی اور عدالتی اصلاحات کا اقدام قرار دیا، جبکہ انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس سمیت متعدد قانونی حلقوں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ جو جماعت ماضی میں عدلیہ کی آزادی اور ووٹ کے تقدس کی بات کرتی رہی، کیا اسے عدالتی تقرریوں کے طریقہ کار میں سیاسی اثرورسوخ بڑھانے والی تبدیلیوں پر زیادہ وسیع اتفاق رائے حاصل نہیں کرنا چاہیے تھا؟
2024ء کے منشور میں مسلم لیگ (ن) نے 2029ء تک ایک کروڑ نئی ملازمتیں، غربت کی شرح میں کمی، مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ تک لانے، برآمدات 58 ارب ڈالر سے زیادہ کرنے، معاشی شرح نمو میں اضافہ اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 13.5 فیصد تک پہنچانے کے وعدے کیے۔ یہ اہداف قابلِ پیمائش ہیں، اس لیے ان کی کارکردگی کا جائزہ بھی انہی اعدادوشمار سے لیا جانا چاہیے۔ محض معاشی استحکام یا شرح مبادلہ میں وقتی بہتری کو عوامی خوشحالی کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔ ورلڈ بینک کی اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق مالیاتی اشاریوں میں بہتری کے باوجود غربت، روزگار اور حقیقی آمدنی کے مسائل برقرار ہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاشی استحکام اور عوامی فلاح دو الگ مگر باہم مربوط اہداف ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے اندر جمہوریت کا سوال بھی اس جائزے کا بنیادی حصہ ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز کے گرد قیادت کا تسلسل اس جماعت کی خاندانی سیاست کو نمایاں کرتا ہے۔ مریم نواز کا پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ تک پہنچنا اور شہباز شریف کا وزارتِ عظمیٰ سنبھالنا سیاسی اہلیت اور انتخابی کامیابی کے اپنے دلائل رکھتے ہیں، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پارٹی کے نظریاتی کارکنوں اور طویل عرصے سے جدوجہد کرنے والے رہنماؤں کے لیے بھی قیادت کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچنے کا وہی راستہ کھلا ہے؟ کیا پارٹی کے اندر قیادت کا انتخاب حقیقی مسابقت، آزادانہ رائے اور کارکنوں کی مؤثر شرکت سے ہوتا ہے یا اہم فیصلے خاندان اور چند مرکزی رہنماؤں تک محدود رہتے ہیں؟
مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں ترقیاتی منصوبے، ایٹمی دھماکوں کے وقت حکومت کا فیصلہ، میثاقِ جمہوریت، آمریت کے خلاف جدوجہد اور پارلیمانی سیاست میں تسلسل جیسے اہم پہلو بھی ہیں۔ ان کا اعتراف ضروری ہے۔ لیکن کسی جماعت کی کامیابیوں کو اس کے تضادات پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اس کی ناکامیوں کو بنیاد بنا کر ہر سیاسی فیصلہ غلط قرار دینا بھی غیر منصفانہ ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ووٹ کا تقدس صرف اس وقت اہم ہے جب اقتدار چھن جائے؟ کیا عدلیہ کی آزادی صرف اس وقت ضروری ہے جب فیصلہ اپنے خلاف آئے؟ کیا سول بالادستی کا مطالبہ اس وقت بھی برقرار رہتا ہے جب اقتدار کے حصول یا تحفظ کے لیے طاقتور اداروں سے مفاہمت کی ضرورت پیش آئے؟ اور کیا خاندانی قیادت کے ذریعے چلنے والی جماعت ملک میں میرٹ اور جمہوری اداروں کی بالادستی کا قابلِ عمل نمونہ پیش کرسکتی ہے؟
جمہوریت صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں، اپنے اقتدار کو بھی آئین، پارلیمنٹ، عوامی جواب دہی اور جمہوری اصولوں کے تابع رکھنے کا نام ہے۔ ووٹ کا تقدس اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب یہ اصول اقتدار میں بھی قائم رہے اور اقتدار سے باہر بھی۔
واپس کریں