خالد خان۔ کالم نگار
عمران خان نے 1996ء میں پاکستان تحریک انصاف قائم کرتے ہوئے روایتی سیاست، خاندانی اجارہ داری، کرپشن اور فرسودہ نظام کے خلاف ایک نئی سیاسی جدوجہد کا اعلان کیا۔ ان کا بنیادی مؤقف تھا کہ پاکستان کے مسائل کی جڑ بدعنوان قیادت، کمزور ادارے، طبقاتی ناانصافی اور قانون کی غیر مساوی عمل داری ہے۔ انہوں نے ریاستِ مدینہ، فلاحی ریاست، میرٹ، خودمختار خارجہ پالیسی اور بلاامتیاز احتساب کو اپنی سیاسی فکر کا حصہ بنایا۔ ان نعروں نے نوجوانوں اور متوسط طبقے کے ایک بڑے حصے کو سیاست کی طرف متوجہ کیا۔
لیکن تقریباً تین دہائیوں پر محیط عمران خان کی سیاسی جدوجہد اور ساڑھے تین سالہ حکومتی دور کا جائزہ لیا جائے تو کئی بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں۔ کیا وہ اپنی جماعت کو روایتی سیاست سے نکال سکے؟ کیا اقتدار میں آکر احتساب، میرٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے اپنے وعدے پورے کیے؟ اور کیا ان کی اپنی جماعت میں جمہوریت ان اصولوں کے مطابق قائم ہوئی جن کا وہ دوسروں سے مطالبہ کرتے رہے؟
عمران خان کی سیاست کا پہلا بڑا تضاد 2013ء کے خیبرپختونخوا کے انتخابات کے بعد سامنے آیا۔ تبدیلی اور روایتی سیاست کے خاتمے کے دعوے کے باوجود تحریک انصاف نے حکومت بنانے کے لیے جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی قوتوں سے اتحاد کیا۔ بعد میں 2018ء کے انتخابات میں بھی ایسے سیاسی رہنماؤں اور الیکٹ ایبلز کو پارٹی میں شامل کیا گیا جن کا ماضی روایتی سیاسی جماعتوں سے وابستہ تھا۔ عمران خان نے خود ڈان کو 2018ء میں انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ انتخابات جیتنے کے لیے الیکٹ ایبلز اور مالی وسائل ضروری ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان افراد کو اپنے نظریے اور پالیسی کے تابع رکھا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر تبدیلی لانے کے لیے اسی سیاسی طبقے پر انحصار کرنا ضروری تھا جس کے خلاف تحریک انصاف نے اپنی سیاست کھڑی کی تھی تو پھر نئے سیاسی نظام کی بنیاد کیا تھی؟
2018ء کے انتخابی منشور میں ایک کروڑ ملازمتیں، پچاس لاکھ سستے گھر، ادارہ جاتی اصلاحات، خودمختار احتساب، تعلیم اور صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے۔ اقتدار میں آنے کے بعد کئی فلاحی منصوبے شروع ہوئے۔ احساس پروگرام، صحت کارڈ کی توسیع، پناہ گاہیں، کورونا وبا کے دوران اقدامات اور خیبرپختونخوا میں بلین ٹری منصوبہ ان کے نمایاں اقدامات میں شامل ہیں۔ ان کامیابیوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ تاہم تین سالہ حکومتی کارکردگی کے اپنے جائزے میں ڈان نے بھی منشور پر عمل درآمد کو ملے جلے نتائج کا حامل قرار دیا تھا۔ ایک کروڑ ملازمتوں اور پچاس لاکھ گھروں کے وعدے اپنی مقررہ مدت میں پورے نہیں ہوئے۔ جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ بھی عملی طور پر مکمل نہ ہوسکا۔
معاشی محاذ پر عمران خان کو ایک مشکل صورت حال ورثے میں ملی۔ مالیاتی خسارہ، بیرونی قرضوں اور ادائیگیوں کا دباؤ اور زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر حقیقی مسائل تھے۔ لیکن ان کی حکومت نے بھی جولائی 2019ء میں آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کا پروگرام قبول کیا۔ روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی پر بوجھ ڈالا۔ کورونا وبا کے دوران معیشت میں بحالی اور 2021ء میں ترقی کی شرح میں اضافہ بھی ہوا، لیکن بنیادی معاشی کمزوریاں دور نہ ہوسکیں۔ عالمی بینک نے اپریل 2022ء میں کم سرمایہ کاری، کم برآمدات اور پیداواری صلاحیت کی کمزوریوں کو معیشت کے مستقل مسائل قرار دیا۔ اس لیے نہ تمام معاشی مشکلات کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دینا درست ہے اور نہ ورثے میں ملنے والی مشکلات کو ان کی تمام ناکامیوں کا جواز بنایا جاسکتا ہے۔
احتساب عمران خان کی سیاست کا سب سے بڑا وعدہ تھا۔ انہوں نے بلاامتیاز احتساب اور کرپشن کے خاتمے کو اپنی حکومت کی بنیادی ترجیح قرار دیا۔ لیکن ان کے دور میں احتساب کے اداروں کے سیاسی استعمال، مخالفین کی گرفتاریوں اور حکومتی اتحادیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے۔ اگر احتساب واقعی ایک اصول تھا تو اس کا اطلاق حکومت کے مخالف اور اتحادی دونوں پر یکساں کیوں نظر نہیں آیا؟ تحریک انصاف کے اپنے بعض رہنماؤں اور اتحادیوں سے متعلق تنازعات نے بھی اس دعوے کو سوالات کی زد میں رکھا۔ اصولی احتساب کا مطلب صرف مخالفین کا احتساب نہیں بلکہ اپنے لوگوں کو بھی اسی معیار پر پرکھنا ہے۔
جمہوریت کے حوالے سے بھی عمران خان کے سیاسی سفر میں تضادات موجود ہیں۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر طویل دھرنے دیے، منتخب حکومت کے استعفے کا مطالبہ کیا اور سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان بھی کیا۔ 2018ء میں حکومت بنانے کے بعد ان کی حکومت کو پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکان پر انحصار کرنا پڑا۔ اپریل 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار ختم ہونے سے قبل قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے ذریعے تحریک کو روکنے اور اسمبلی تحلیل کرنے کی کوشش ہوئی۔ سپریم کورٹ نے 7 اپریل 2022ء کو اس اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر اسمبلی بحال کی، جس کے بعد عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی اور عمران خان اقتدار سے الگ ہوگئے۔ یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں اکثریت کا فیصلہ تسلیم کرنا بھی اسی جمہوری اصول کا حصہ ہے جس کا مطالبہ اپوزیشن کرتی ہے۔
اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سائفر اور امریکی سفارتی مراسلت ان کے خلاف بیرونی مداخلت کا ثبوت ہے۔ امریکی حکومت نے اس الزام کی تردید کی۔سوال یہ ہے کہ اگر کسی حکومت کو بیرونی مداخلت کا سامنا ہو تو اس کا جواب پارلیمانی، سفارتی اور آئینی ذرائع سے دینا زیادہ مؤثر نہیں ہوتا؟ قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں اور بعد میں طویل عرصے تک پارلیمانی سیاست سے دور رہنے کے فیصلے نے بھی سیاسی نمائندگی اور جمہوری اداروں کے کردار پر بحث پیدا کی۔
تحریک انصاف کے اندر جمہوریت کا سوال بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عمران خان تقریباً تیس سال سے جماعت کے بانی اور مرکزی فیصلہ ساز ہیں۔ پارٹی میں تنظیمی انتخابات اور عہدوں کی تبدیلی کا نظام موجود ہونے کے باوجود عملی سیاست میں فیصلوں کا مرکز مسلسل بانی چیئرمین رہے ہیں۔ دسمبر 2023ء کے انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین اور انتخابی قانون کے مطابق نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کیا۔ جنوری 2024ء میں سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف انتخابی نشان بلے سے محروم ہوگئی۔ اس فیصلے کا مطلب پارٹی پر پابندی نہیں تھا، لیکن اس نے جماعت کے اندر تنظیمی جمہوریت کے دعوے پر سنجیدہ سوال ضرور اٹھایا۔ کیا ایک ایسی جماعت جو ملک میں میرٹ اور جمہوریت کا مطالبہ کرتی ہے، اپنے اندر شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابی نظام قائم نہیں کرسکتی؟
پارٹی میں نظریاتی کارکنوں کے مقابلے میں سیاسی شخصیات، سابق ارکان اسمبلی اور الیکٹ ایبلز کو ترجیح دینے کا معاملہ بھی اسی تضاد سے جڑا ہے۔ 2018ء میں عمران خان نے خود اس حکمت عملی کا دفاع کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر نظریاتی کارکن برسوں جدوجہد کے باوجود فیصلہ سازی اور انتخابی ٹکٹوں میں ثانوی حیثیت رکھتا ہے تو پھر تحریک انصاف کی روایتی جماعتوں سے بنیادی امتیازی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے؟
خواتین کے سیاسی کردار، آزادی اظہار اور اختلاف رائے کے معاملے میں بھی حکومت کے دور پر سوالات اٹھے۔ میڈیا کے بعض اداروں اور صحافیوں نے دباؤ اور پابندیوں کی شکایات کیں۔ اسی طرح اپوزیشن کے ساتھ پارلیمانی روابط اور سیاسی برداشت کے بجائے محاذ آرائی کا رجحان نمایاں رہا۔ عمران خان کے حامیوں کے نزدیک ان کی حکومت کو سیاسی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کا سامنا تھا، لیکن جمہوری قیادت کا امتحان بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اختلاف اور مخالفت کو کس طرح برداشت کرتی ہے۔
9 مئی 2023ء کے واقعات نے تحریک انصاف کی سیاست کو ایک نئے بحران سے دوچار کیا۔ فوجی تنصیبات اور دیگر سرکاری املاک پر حملے اور توڑ پھوڑ ناقابلِ قبول ہیں، لیکن ان واقعات کی بنیاد پر پوری سیاسی جماعت، اس کے کارکنوں اور ہر احتجاج کرنے والے کو یکساں مجرم قرار دینا بھی درست نہیں۔ انفرادی ذمہ داری، شفاف تحقیقات، منصفانہ مقدمات اور قانون کے یکساں اطلاق کی ضرورت اپنی جگہ برقرار ہے۔
2024ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو انتخابی نشان سے محرومی کے باوجود اس کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کیں۔ اس کے بعد مخصوص نشستوں، انتخابی نتائج اور سیاسی نمائندگی کے تنازعات نے جمہوری نظام پر مزید سوالات اٹھائے۔ عمران خان کی مسلسل حراست، ان کے مقدمات اور قید میں بنیادی حقوق کے حوالے سے بھی بین الاقوامی اداروں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اگست 2026ء میں ان کی حراست، قانونی رسائی اور طبی سہولتوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ ان کے خلاف مقدمات میں قانونی عمل اور الزامات کا فیصلہ عدالتوں ہی کو کرنا ہے، لیکن کسی سیاسی مخالف کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
اکتوبر 2026ء میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی معطلی نے ایک مرتبہ پھر وفاقی اختیار، صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کی کارکردگی کو اس اقدام کا جواز قرار دیا، جبکہ تحریک انصاف نے اسے غیر آئینی اور سیاسی اقدام کہا ہے۔ اس تنازعے کا فیصلہ سیاسی نعروں کے بجائے آئینی اور قانونی معیار پر ہونا چاہیے۔
عمران خان کی سیاست میں کرپشن کے خلاف جدوجہد، فلاحی منصوبے، صحت کارڈ، احساس پروگرام، ماحولیاتی اقدامات اور روایتی سیاسی اشرافیہ کو چیلنج کرنے جیسے پہلو بھی موجود ہیں۔ اسی طرح ان کی حکومت کے معاشی نتائج، سیاسی مخالفین سے رویہ، اداروں کے ساتھ تعلقات، انتخابی سمجھوتوں اور جماعت کے اندر جمہوریت کے سوالات بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔ انہیں صرف ان کے حامیوں کے دعووں یا مخالفین کے الزامات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے فیصلوں اور نتائج کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔
اصل سوال عمران خان کی شخصیت کا نہیں بلکہ اس تبدیلی کا ہے جس کا وعدہ پاکستان کے عوام سے کیا گیا تھا۔ اگر تبدیلی کا مطلب صرف حکمرانوں کے چہرے بدلنا ہو، اگر احتساب کا معیار سیاسی وابستگی سے طے ہو، اگر انتخابی کامیابی کے لیے انہی روایتی سیاسی طبقات کا سہارا لینا پڑے اور اگر جماعت کے اندر قیادت اور فیصلہ سازی چند افراد تک محدود رہے تو پھر نئے پاکستان اور پرانے پاکستان میں فرق کی وضاحت ضروری ہوجاتی ہے۔
تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی جماعت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو کتنا بدلنا چاہتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کتنی تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے۔
واپس کریں