
مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کی سیاست کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے مذہبی سیاست کو پارلیمانی سیاست، سیاسی اتحادوں اور اقتدار کے ایوانوں میں ایک مستقل قوت کے طور پر برقرار رکھا۔ ان کی سیاست کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) محض ایک انتخابی جماعت نہیں بلکہ ایک مذہبی اور نظریاتی جماعت ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہے۔ اس لیے اس کے سیاسی فیصلوں کو صرف انتخابی کامیابی یا پارلیمانی نشستوں کے پیمانے پر نہیں بلکہ اس کے مذہبی، جمہوری اور سماجی نظریات کی روشنی میں بھی پرکھنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے 1980ء میں اپنے والد مفتی محمود کی وفات کے بعد جمعیت علمائے اسلام کی قیادت سنبھالی۔ بعد میں جماعت میں تقسیم ہوئی اور ان کی سربراہی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک الگ سیاسی دھارے کے طور پر سامنے آئی۔ تقریباً چار دہائیوں سے زائد عرصے تک جماعت کی قیادت ان کے پاس رہنا خود اندرونی جمہوریت کے حوالے سے ایک اہم سوال ہے۔ جماعت میں ہر چند سال بعد تنظیمی انتخابات ہونے کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن یہ سوال برقرار ہے کہ کیا قیادت کے انتخاب میں حقیقی مسابقت، کارکنوں کی آزادانہ رائے اور متبادل قیادت کے لیے یکساں مواقع موجود ہیں؟
مولانا کی سیاسی تاریخ میں پہلا بڑا تضاد جنرل ضیاء الحق کے دور سے متعلق ہے۔ ان کی جماعت نے آمریت کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت میں حصہ لیا، جو جمہوری اصولوں کے حوالے سے قابلِ ذکر کردار تھا۔ لیکن بعد کے برسوں میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں متحدہ مجلس عمل کا حصہ بن کر صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت قائم کرنا اور مرکز میں اپوزیشن کی قیادت کرنا ایک پیچیدہ سیاسی صورت حال تھی۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد ایم ایم اے نے خیبرپختونخوا میں حکومت بنائی، جبکہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحادی حکومت کا حصہ بنی۔ دوسری طرف مرکز میں مشرف کی فوجی حکومت کے ساتھ سیاسی معاملات چلتے رہے۔
اس دور کا سب سے اہم سوال 2003ء کی سترہویں آئینی ترمیم ہے۔ اس ترمیم نے صدر کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیا اور مشرف کے فوجی اقتدار کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ ایم ایم اے کے ارکان نے اس ترمیم کی منظوری میں حمایت کی۔ یہ فیصلہ اس جماعت کے لیے ایک بنیادی نظریاتی سوال پیدا کرتا ہے جو جمہوریت اور اسلامی اصولوں کی بالادستی کی بات کرتی ہے کہ کیا ایک فوجی حکمران کے اقتدار کو آئینی تحفظ فراہم کرنا جمہوری اصولوں سے مطابقت رکھتا تھا؟ اس فیصلے کو محض سیاسی حکمت عملی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
2008ء کے انتخابات کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت میں شامل ہوئی اور دسمبر 2010ء تک وفاقی کابینہ کا حصہ رہی۔ بعد میں اختلافات کے باعث اپوزیشن میں چلی گئی۔ 2013ء کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اس کے سیاسی روابط اور اتحاد بھی برقرار رہے۔ یہ سیاسی فیصلے اس بات کی مثال ہیں کہ مولانا نے مختلف نظریات اور سیاسی پس منظر رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ اقتدار اور پارلیمانی مفادات کے لیے تعاون کیا۔ سیاسی اتحاد بذات خود کوئی غیر جمہوری عمل نہیں، لیکن مذہبی اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرنے والی جماعت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ واضح کرے کہ کن اصولوں پر سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے اور کن پر نہیں۔
مولانا کی سیاست کا ایک اور اہم پہلو فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی مخالفت ہے۔ انہوں نے اس انضمام کے طریقہ کار پر اعتراض کیا اور قبائلی عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے ریفرنڈم کی تجویز دی۔ ان کا مؤقف تھا کہ قبائلی علاقوں کی ترقی اور مرکزی دھارے میں شمولیت ضروری ہے، لیکن انضمام کے فیصلے میں مقامی آبادی کی مرضی کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس موقف کو محض مخالفت کہنا درست نہیں، کیونکہ اس میں عوامی رائے اور آئینی طریقہ کار کا سوال موجود تھا۔ تاہم یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ متبادل انتظامی منصوبہ کیا تھا اور انضمام کی مخالفت سے قبائلی علاقوں کے عوام کو فوری طور پر کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا؟
خواتین کے حقوق کے معاملے میں بھی جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ماضی میں جماعت کے بعض حلقوں نے خواتین کے پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے کی مخالفت کی، اگرچہ 2018ء میں جماعت نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینے کی مہم چلائی۔ اسی طرح گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی پر تحفظات اور کم عمری کی شادی کے خلاف قانون کی مخالفت نے اس جماعت کے سماجی نظریے اور خواتین کے بنیادی حقوق کے درمیان تعلق پر بحث کو جنم دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اسلامی سیاست عدل، انسانی وقار اور حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے تو خواتین کے تحفظ، تعلیم، سیاسی شرکت اور قانونی حقوق کے معاملے میں اس کے اصول کس طرح عملی شکل اختیار کرتے ہیں؟
مدارس کی اصلاحات اور رجسٹریشن کا معاملہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ مذہبی تعلیم کے اداروں کی آزادی اور خودمختاری کا دفاع ایک قابلِ فہم مؤقف ہوسکتا ہے، لیکن ان اداروں کے تعلیمی معیار، مالی شفافیت، جدید علوم، طلبہ کے مستقبل اور ریاستی قوانین کے ساتھ تعلق پر اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 2023ء میں کیمبرج کے تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مدارس اصلاحات کی مخالفت کو جماعتی سیاسی بقا اور مذہبی اداروں کے اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی دیکھا۔ یہ محققین کا تجزیہ ہے، کوئی عدالتی فیصلہ یا ثابت شدہ الزام نہیں؛ تاہم یہ ایک اہم سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ مدارس کے مفادات اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل میں ترجیح کس کو حاصل ہونی چاہیے؟
جماعت کے اندر جمہوریت کا سوال بھی کم اہم نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے بعد ان کے صاحبزادے اسد محمود کا سیاسی میدان میں نمایاں ہونا اور جماعتی سرگرمیوں میں ان کا کردار خاندانی سیاست کے حوالے سے بحث پیدا کرتا ہے۔ 2015ء میں اس موضوع پر شائع ہونے والی رپورٹ میں جماعت کے بعض رہنماؤں کے تحفظات بھی سامنے آئے تھے کہ خاندانی ترجیح سے نظریاتی کارکنوں کے لیے آگے آنے کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں۔ کسی قائد کا بیٹا ہونا بذاتِ خود سیاست میں حصہ لینے کی نااہلی نہیں، لیکن اگر قیادت اور اہم عہدوں تک رسائی کا راستہ خاندان کے لیے نسبتاً آسان اور عام کارکن کے لیے مشکل ہو تو جماعت کے جمہوری دعوے کا جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے۔
مولانا کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت مذہبی رہنما، پارلیمانی سیاست دان، اتحادی حکومتوں کے شراکت دار اور مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ 2022ء میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ڈی ایم کی سیاست اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون، پھر 2024ء کے انتخابات کے بعد حکومتی اتحاد سے الگ رہنے اور انتخابی نتائج پر اعتراضات کا راستہ اختیار کرنے سے ان کے سیاسی کردار کے مختلف رخ سامنے آتے ہیں۔ یہاں بھی اصل سوال یہ ہے کہ اصولی اختلاف اور سیاسی مفاد میں فرق کس بنیاد پر طے کیا جاتا ہے؟ اگر انتخابی عمل کی شفافیت کا سوال اہم ہے تو یہ اصول تمام انتخابات اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست میں آمریت کی مخالفت، پارلیمانی جدوجہد، سیاسی مذاکرات اور جمہوری حقوق کے دفاع کے پہلو بھی موجود ہیں۔ ان کے کارکنوں اور جماعت نے دہشت گردی کے خلاف بھاری قربانیاں بھی دی ہیں۔ ان حقائق کو نظرانداز کرکے ان کی پوری سیاست کو صرف اقتدار کی سیاست قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ لیکن اسی طرح مذہبی شناخت، سیاسی تجربے اور پارلیمانی مہارت کو بنیاد بنا کر جماعت کے فیصلوں، اتحادی سمجھوتوں اور اندرونی جمہوریت سے متعلق سوالات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اصل سوال مولانا فضل الرحمٰن کی مذہبی حیثیت یا ذاتی عقیدے کا نہیں، بلکہ اس سیاسی جماعت کے عملی کردار کا ہے جو اسلام اور اسلامی نظام کو اپنی سیاست کی بنیاد قرار دیتی ہے۔ کیا اس کے سیاسی فیصلوں میں جمہوریت، عدل، عوامی حقوق، خواتین کے تحفظ، تعلیم، معاشی انصاف اور احتساب کے اصول یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں؟ کیا مذہبی جماعت ہونے کے ناتے اس پر دوسروں سے زیادہ جواب دہی لازم نہیں؟
مذہب سیاست کو اخلاقی جواز فراہم کرسکتا ہے، لیکن سیاست کے عملی کردار کو احتساب سے مستثنیٰ نہیں کرسکتا۔ منشور، نظریہ اور عمل کا تقابل ہر جماعت کے لیے ضروری ہے، خواہ اس کی شناخت مذہبی ہو یا سیکولر۔
واپس کریں