دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
فیلڈ مارشل: بانیٔ پاکستان سے معمارِ پاکستان تک ۔ خالد خان
No image بنیادی طور پر تمام مذاہب اور انسانی نظامِ حکومت انسانوں کی بھلائی کے مقصد کے تحت تشکیل پائے گئے ہیں۔ خوشحال، پرسکون اور مطمئن زندگی، مہذب انسانی معاشرہ، بنیادی انسانی حقوق، فکرِ آخرت، مذہبی آزادی اور آزادیٔ اظہارِ رائے جدید اور قدیم ریاستوں کے مطمحِ نظر ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں عام انسان کو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، علاج اور امن چاہیے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب کچھ عطا کیا ہے۔ زرخیز کھیت، لہلہاتی فصلیں، سمندر، دریا، صحرا، جنگلات، پہاڑ، قیمتی معدنیات، کثیر آبادی اور جفاکش لوگ، مگر اس کے باوجود غربت، بھوک، افلاس، ناخواندگی، ناانصافی، ناقص حکمرانی، امراض اور غلامانہ زندگی عوام کا مقدر ہیں۔ یہ تقدیر ربِ ذوالجلال نے نہیں لکھی بلکہ طبقاتی اور ناانصافی پر مبنی معاشرے اور ریاست کی مسلط کردہ لعنت ہے۔
عام آدمی کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ پایۂ تخت پر کون بیٹھا ہے، اس کا تعلق کس جماعت سے ہے اور اس کے سیاسی عقائد کیا ہیں۔ عام آدمی کو آسانیاں چاہئیں اور جو بھی یہ آسانیاں میسر کرے گا، وہی ملک و قوم کا حقیقی ہیرو ہوگا۔ بانیٔ پاکستان سے لے کر اب تک آنے والی فوجی اور برائے نام جمہوری حکومتوں کے باوجود عام لوگوں کی تقدیر نہیں بدلی۔ جمہوریت کے لیے تعلیم اور شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ جمہوریت قومی یکجہتی، مساوات اور انصاف کا تقاضا کرتی ہے۔ قانون کی حکمرانی میں جمہوریت کی سانسیں چلتی ہیں اور جمہوری کلچر کو پروان چڑھنے کے لیے طویل سیاسی و سماجی ارتقا درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں جمہوری اور عسکری ادوار، دونوں کے اپنے اپنے دعوے رہے، لیکن ان کے ثمرات عام پاکستانی تک اس طرح نہیں پہنچ سکے جس طرح پہنچنے چاہئیں تھے۔
بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ کام، کام اور بس کام۔ بابائے قوم نے اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم پر زور دیا تھا۔ انہوں نے ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھی تھی جہاں امن ہو اور مذہبی عقائد کی آزادی حاصل ہو۔ یہ صرف عام الفاظ اور جملے نہیں تھے اور نہ آج ہیں۔ آپ ان کہے گئے ہر لفظ کے فلسفے اور منطق میں جھانکیے، آپ کو ان الفاظ میں ایک روشن پاکستان، جہاں امن، ترقی اور خوشحالی ہو، کے راستے دکھائی دیں گے۔
آج پاکستان اسی تاریخی منزل کی طرف ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اس تبدیلی کے مرکز میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت، عسکری اصلاحات، فیصلہ کن ریاستی اقدامات اور بدلتا ہوا عالمی کردار ہے۔ پاکستان کی موجودہ پیش رفت کو سمجھنے کے لیے پہلے اس کی عسکری ساخت میں آنے والی تبدیلی اور عالمی سطح پر حاصل ہونے والی نئی اہمیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
پاکستان کی عسکری ساخت میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت تھیں۔ جدید جنگیں اب صرف بری، بحری اور فضائی افواج کی انفرادی صلاحیتوں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ انٹیلی جنس، فضائی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیت، میزائل دفاع اور تینوں افواج کے درمیان فوری رابطہ کاری فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ روایتی کمانڈ سسٹم میں ہر ادارے کی اپنی ترجیحات اور انتظامی حدود ہوتی تھیں، جس کے باعث مشترکہ حکمتِ عملی اور فیصلہ سازی میں بعض اوقات پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ اسی ضرورت کا ادارہ جاتی جواب ہے، جس کے ذریعے تینوں مسلح افواج کی صلاحیتوں کو ایک مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کے تحت مربوط کیا جا چکا ہے۔ نومبر 2025 کی آئینی تبدیلیوں اور بعد کی قانون سازی نے اس عہدے کو باقاعدہ آئینی و قانونی ڈھانچہ فراہم کیا۔ اس کا بنیادی مقصد قومی دفاعی وسائل کا بہتر استعمال، مشترکہ منصوبہ بندی اور جنگی حالات میں مؤثر فیصلہ سازی ہے۔
مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ عسکری تصادم نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، عسکری تیاری اور قومی سلامتی کے معاملات کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔ اس کشیدگی کے دوران پاکستان کے عسکری ردعمل اور بعد ازاں جنگ بندی نے بین الاقوامی سطح پر اس کی دفاعی اہمیت کو نمایاں کیا۔ اسی طرح امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کے سفارتی کردار نے اسے ایک ایسے ملک کے طور پر متعارف کرایا جو مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ رابطے اور مکالمے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدہ اور ترکی سمیت دوسرے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی پاکستان کی بدلتی ہوئی سفارتی اور دفاعی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان بیک وقت امریکہ، چین، سعودی عرب، ایران، ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنی عالمی حیثیت مستحکم کر رہا ہے۔ موجودہ عالمی تقسیم اور علاقائی کشیدگی کے ماحول میں یہ متوازن سفارت کاری غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی اہمیت صرف اس کی جغرافیائی حیثیت یا عسکری قوت تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ ایک ذمہ دار علاقائی طاقت، قابلِ اعتماد سفارتی شراکت دار اور عالمی تنازعات میں مکالمے کے لیے مؤثر رابطہ کار کے طور پر اپنا کردار آگے بڑھا رہا ہے۔ اس بدلتے ہوئے عالمی کردار میں فیلڈ مارشل کی عسکری قیادت اور سفارتی سرگرمیاں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
یہ عسکری اور سفارتی کامیابیاں پاکستان کی تعمیرِ نو کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔ کسی بھی قیادت کی اصل کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار اور طاقت کو قومی اداروں کی مضبوطی، معاشی استحکام، داخلی امن اور عوامی خوشحالی میں کس طرح تبدیل کرتی ہے۔ موجودہ عسکری قیادت کے سامنے بھی یہی تاریخی ہدف ہے اور پاکستان کی سمت اسی قومی مقصد کے تحت تبدیل ہو رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کے رفقائے کار نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے۔
پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے سب سے پہلے ایک ایسے ریاستی نظام کی ضرورت ہے جس میں امن، قانون کی حکمرانی، انصاف، شفافیت اور ادارہ جاتی جوابدہی بنیادی اصول ہوں۔ دہشت گردی کا مکمل اور پائیدار خاتمہ، عام جرائم کی بیخ کنی، کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنا، شہریوں کو انصاف کی فراہمی، بیوروکریسی کو جوابدہ بنانا، اداروں کی اصلاح اور صوبوں و انتظامی یونٹس کو مؤثر انتظامی صلاحیت فراہم کرنا اس نظام کی بنیادی شرائط ہیں۔ اس کے ساتھ برداشت، صبر و تحمل، روشن فکری، مذہبی آزادی، شدت پسندی کی حوصلہ شکنی اور قومی اتفاق و اتحاد بھی ضروری ہیں۔ جدید تعلیم، معیاری صحت، روزگار، روٹی، کپڑا، مکان اور جدید دور کی سہولتیں محض وعدے اور امیدیں نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔
پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ قانون شکنی، قومی وسائل کی لوٹ مار اور اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے والوں کو اکثر یہ یقین رہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ معاملات ختم ہو جائیں گے اور انہیں کسی نہ کسی سیاسی یا انتظامی تحفظ کے ذریعے بچ نکلنے کا موقع مل جائے گا۔ گزشتہ ادوار کی بدعنوانیوں، غیر قانونی قبضوں، سرکاری زمینوں پر تجاوزات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا شفاف اور قانونی احتساب، قومی وسائل کی واپسی اور قانون شکنی کرنے والوں کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر جوابدہی ریاستی اصلاحات کا بنیادی حصہ ہے۔ جب معاشرے میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ آج کی قانون شکنی کا حساب کل ضرور ہوگا تو آئندہ قانون توڑنے اور قومی وسائل پر قبضہ کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ یہ احتساب کسی فرد، جماعت یا طبقے سے انتقام نہیں بلکہ قانون کی یکساں عمل داری کا تقاضا ہے۔
اس پس منظر میں خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتِ حال خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ دہشت گردی، کمزور انتظامی ڈھانچے، سیاسی کشمکش اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے مسائل نے صوبے کو ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔ گورنر راج کی بحث، مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت کے ساتھ ریاستی تعلقات، تحریک لبیک پاکستان کے خلاف کارروائی اور تحریک انصاف کے ساتھ ریاستی معاملات کو اسی وسیع تر ریاستی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ریاست اب کسی بھی جماعت، مذہبی گروہ یا سیاسی شخصیت کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ اسی طرح مذہب کے نام پر تشدد، سڑکوں کی بندش اور شہری زندگی مفلوج کرنے کا عمل بھی ناقابلِ قبول ہے۔
مذہب کا معاشرے میں اپنا مقام اور انسانی زندگی میں اپنی اہمیت ہے، لیکن مذہب کو سیاسی اقتدار، ذاتی مفادات اور عوامی جذبات کے استحصال کا ذریعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ریاست کا کام تمام مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کی آزادی اور حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ مدارس کی قانونی و تعلیمی تنظیمِ نو، جدید علوم کی فراہمی، انتہا پسندانہ سوچ کی حوصلہ شکنی اور تمام تعلیمی اداروں کے لیے یکساں بنیادی تعلیمی معیار وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایک ایسا معاشرہ بنانا مقصد ہے کہ جہاں مذہبی وابستگی انسانوں کے درمیان نفرت اور تقسیم کے بجائے اخلاق، رواداری اور انسانی بھلائی کا ذریعہ بنے۔
ریاستی اصلاحات کا ایک اہم پہلو پاکستان کی انتظامی ساخت کی ازسرِنو تشکیل ہے۔ موجودہ صوبائی نظام بھی نئے تقاضوں کے تحت اصلاحات کا متقاضی ہے۔ اتنی بڑی آبادی، وسیع جغرافیے اور مختلف معاشی و سماجی ضروریات رکھنے والے ملک میں تمام انتظامی اختیارات چند صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رکھنا مؤثر حکمرانی کے لیے کافی نہیں۔ نئے صوبوں یا بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام، ضلعی حکومتوں کی بحالی اور مقامی سطح پر مالی و انتظامی اختیارات کی منتقلی اس مسئلے کا بنیادی حل ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل لسانی یا نسلی تقسیم کے بجائے انتظامی استعداد، معاشی وسائل، آبادی، جغرافیائی ضروریات اور عوامی سہولت کے اصولوں پر استوار ہوگی۔ اس کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقۂ کار اپنایا جائے گا۔ اصل مقصد نئے عہدے اور نئی حکومتیں پیدا کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان کے گھروں کے قریب بہتر انتظامیہ، تعلیم، صحت، انصاف اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ بنیادی جمہوریت اور مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت کا فائدہ عام شہری تک نہیں پہنچ سکتا۔
اسی انتظامی اصلاحات کا عملی اظہار شہری منصوبہ بندی، تجاوزات کے خاتمے، سرکاری زمینوں کی واگزاری اور شاہراہوں کی تعمیر میں بھی نظر آتا ہے۔ ایک جدید معیشت کے لیے منظم شہر، کشادہ سڑکیں، محفوظ سفری راستے، مؤثر ٹرانسپورٹ اور زمین کے درست استعمال کا نظام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں سے تجاوزات ہٹانے، آمدورفت بہتر بنانے، نئے مختصر اور محفوظ راستے تعمیر کرنے، ریل کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے برابر لانا، پرانے بند ایئرپورٹس کو کھولنا، نئے ایئرپورٹس کی تعمیر اور سڑکوں کے جال کو وسعت دینے کے اقدامات اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہیں۔ شہری خوبصورتی صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں بلکہ صاف ماحول، محفوظ بازاروں، مناسب پارکنگ، پیدل چلنے والوں کی سہولت اور مؤثر بلدیاتی نظام سے پیدا ہوتی ہے۔
یہ تمام اقدامات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امن کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آتی، سرمایہ کاری کے بغیر صنعتی ترقی ممکن نہیں، صنعتی ترقی کے بغیر روزگار پیدا نہیں ہوتا اور روزگار کے بغیر غربت اور محرومی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تعمیرِ نو کے لیے داخلی امن، انتظامی اصلاحات، توانائی، معدنی وسائل، صنعت، زراعت، شاہراہوں، ریلوے اور علاقائی تجارت کو ایک مربوط قومی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کے مستقبل کی معاشی تصویر میں خیبرپختونخوا کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس صوبے کی جغرافیائی اہمیت، معدنی ذخائر، زرعی وسائل، پن بجلی کی صلاحیت اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی اسے ایک غیر معمولی معاشی خطہ بناتی ہے۔ پشاور سے طورخم تک خیبر پاس اکنامک کوریڈور، نئی شاہراہوں، ریلوے رابطوں، صنعتی زونز اور تجارتی سہولتوں کی ترقی محض آمدورفت آسان بنانے کے منصوبے نہیں بلکہ پاکستان کو علاقائی تجارت کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کرنے کی بنیاد ہیں۔
اس سلسلے میں پشاور تا طورخم ایکسپریس وے اور رشکئی خصوصی اقتصادی زون خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ رشکئی اکنامک زون سی پیک کے صنعتی تعاون کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونز، معدنیات کی پراسیسنگ، جدید ٹیکنالوجی اور مقامی صنعتوں کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔
پاکستان کے معدنی وسائل کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں بلکہ قومی اثاثے ہیں۔ جس ملک کو جس شعبے میں سرمایہ کاری، شراکت داری یا خام مال درکار ہو، اسے شفاف معاہدوں، قومی مفاد اور مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اگر امریکہ پاکستان کے تانبے، سونے اور دیگر معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا، چین اپنی صنعتی صلاحیت اور سرمایہ لانا چاہتا ہے تو اس کے لیے بھی دروازے کھلے ہوں گے۔ سعودی عرب، ترکی، یورپ اور دوسرے ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ پاکستان کسی ایک عالمی طاقت کے معاشی کیمپ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تمام ممالک کے لیے قابلِ اعتماد تجارتی اور صنعتی شراکت دار بنے گا۔
قدرتی وسائل کے معاہدوں میں قومی ملکیت، شفافیت، مناسب مالی منافع، مقامی آبادی کی شراکت اور ماحولیات کا تحفظ بنیادی شرائط ہوں گی۔ معدنیات صرف زمین سے نکال کر برآمد کرنے کا نام ترقی نہیں؛ اصل ترقی ان کی مقامی پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، صنعتوں کے قیام اور برآمدی مصنوعات کی تیاری میں ہے۔
ستمبر 2025 میں امریکی معدنیاتی اور انفراسٹرکچر کمپنیوں کے وفد نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی، جس میں فیلڈ مارشل بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں پاکستان کے تانبے، سونے اور نایاب معدنی عناصر سمیت قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری، پراسیسنگ اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی ترقی پر بات ہوئی۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کے معدنی وسائل اور جغرافیائی حیثیت عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ موجودہ قیادت اس عالمی دلچسپی کو عملی منصوبوں، صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنے کی سمت بڑھ رہی ہے۔
اس پوری معاشی حکمتِ عملی میں توانائی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ صنعتی ترقی کے لیے سستی، مسلسل اور قابلِ اعتماد بجلی ضروری ہے۔ مہمند ڈیم جیسے منصوبے اسی تناظر میں اہم ہیں۔ دریائے سوات پر ضلع مہمند میں تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ 800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے، پشاور کو پینے کا پانی فراہم کرنے، زرعی زمینوں کو سیراب کرنے اور سیلابی نقصانات کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی افادیت صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشی اور سماجی فوائد بھی وسیع ہیں۔ چارسدہ کے قریب اس منصوبے کی تکمیل سے متعلق سرگرمیاں اس پورے خطے کے مستقبل کی اہمیت مزید بڑھا رہی ہیں۔ اسی طرح پن بجلی، شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کو قومی صنعتی پالیسی کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کی قلت صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے درمیان ایک قدرتی رابطہ فراہم کرتی ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک زمینی راستے، چین کے ساتھ شمالی تجارتی رابطے اور مشرقی و مغربی شاہراہوں کا مربوط نظام پاکستان کو علاقائی تجارت میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ پشاور، طورخم، افغانستان اور اس کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی کا تصور اسی جغرافیائی حقیقت سے جنم لیتا ہے۔
ان راستوں کو ریلوے، جدید شاہراہوں، سرحدی تجارتی مراکز، کسٹمز کی سہولتوں اور محفوظ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ وسطی ایشیا تک زمینی رابطوں کو افغانستان کے راستے وسعت دینے کا منصوبہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ چین، روس، وسطی ایشیائی ریاستوں، عرب ممالک اور یورپ کے لیے بھی تجارتی امکانات پیدا کرتا ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی تبدیلی کی تصویر سامنے آتی ہے۔ معدنی وسائل کے قریب صنعتی مراکز، ان تک بجلی اور پانی کی فراہمی، خام مال کی مقامی سطح پر پراسیسنگ، اور شاہراہوں و ریلوے کے ذریعے ان مراکز کو بندرگاہوں اور عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے کا منصوبہ پاکستان کو محض خام مال برآمد کرنے والے ملک سے صنعتی پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے ایک مضبوط مرکز میں تبدیل کر رہا ہے۔ اس عمل میں مقامی آبادی کو روزگار، کاروباری مواقع، تعلیم اور جدید فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا منصفانہ حصہ متعلقہ علاقوں اور ان کے عوام تک پہنچے گا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال مگر ترقی کے اعتبار سے محروم علاقوں کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے۔
اس پورے تصور کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو پاکستان ایک ایسی ریاست بن رہا ہے جہاں سرمایہ کار کو امن، قانون، بجلی، سڑک، پانی، ہنرمند افرادی قوت اور سرمایہ کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہوگی۔ چین ہو یا امریکہ، سعودی عرب ہو یا ترکی، یورپ ہو یا وسطی ایشیا، روس ہو یا افریقی ممالک، ہر ملک کو پاکستان ایک ایسی معاشی شراکت داری کی پیشکش کرے گا جو فائدہ مند اور محفوظ کاروبار کی ضمانت ہوگی۔ یہی جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت کی طرف حقیقی پیش رفت ہے۔
یہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور ان کے سامنے موجود تاریخی موقع کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان کو ایک طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام، معاشی کمزوری، دہشت گردی، ادارہ جاتی کشمکش اور عالمی سطح پر محدود سفارتی اثرورسوخ جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ موجودہ قیادت کے پاس دفاعی، انتظامی اور سفارتی سطح پر غیر معمولی اثرورسوخ موجود ہے اور اسی اثرورسوخ کو قومی اتفاقِ رائے، ادارہ جاتی اصلاحات، معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سمت تبدیل ہو رہی ہے۔
فیلڈ مارشل کی فیصلہ کن قیادت کا اصل کمال ایسے مضبوط اداروں کا قیام ہے جو شخصیات کے بجائے اپنے نظام، صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر بہترین انداز میں کام کریں۔ سرمایہ کار کو صرف سڑک اور بجلی نہیں بلکہ پالیسیوں کے تسلسل، آزاد عدالتی نظام، معاہدوں کے احترام اور سیاسی استحکام کی ضمانت بھی درکار ہوتی ہے۔ یہی ادارہ جاتی مضبوطی پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کا قابلِ اعتماد مرکز بنائے گی۔
قائداعظم نے ایک آزاد وطن دیا تھا۔ اب اس وطن کو معاشی خودمختاری، صنعتی قوت، جدید ریاستی نظم، علاقائی رابطوں اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا اصل تعمیرِ پاکستان ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تاریخ رقم کرتے ہوئے اس تبدیلی کا ایک غیر معمولی موقع پیدا کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ دفاعی تصادم کے بعد حاصل ہونے والی عالمی توجہ، بدلتے ہوئے سفارتی تعلقات، چین اور امریکہ سمیت بڑی عالمی طاقتوں کی معاشی دلچسپی اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اس موقع کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ پاکستان اب صرف اپنے دفاع اور داخلی مسائل تک محدود نہیں بلکہ علاقائی تجارت، عالمی سرمایہ کاری، سفارت کاری اور معاشی رابطوں کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
پاکستان کی اصل کامیابی اس کی فوجی طاقت، عالمی سفارتی پذیرائی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں پوشیدہ ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ جب ایک عام پاکستانی کو روزگار کے لیے اپنا گھر نہ چھوڑنا پڑے گا، ایک غریب خاندان کو علاج کے لیے اپنی جمع پونجی فروخت نہ کرنا پڑے گی، ایک بچہ معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، ایک شہری کو انصاف کے لیے برسوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور کوئی سرمایہ کار سیاسی عدم استحکام یا لاقانونیت کے خوف میں مبتلا نہیں ہوگا۔ جب خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ، پنجاب اور دیگر علاقوں کے وسائل سے وہاں کے عوام بھی خوشحال ہوں گے، قومی وسائل قومی ترقی میں استعمال ہوں گے اور ریاست اپنے ہر شہری کو عزت، تحفظ اور مواقع فراہم کرے گی۔ ہم بجا طور پر پھر کہہ سکیں گے کہ پاکستان واقعی ایک آزاد اور ترقی یافتہ ملک ہے۔
قائداعظم نے پاکستان بنایا تھا۔ اب اسے ایک مضبوط، خودمختار، خوشحال، منصفانہ اور جدید ریاست بنانے کا تاریخی مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس تاریخی تبدیلی کے معماروں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاریخ انہیں کیا مقام دیتی ہے، اس کا فیصلہ عہدے، اختیارات یا القابات نہیں بلکہ پاکستان کی بدلتی ہوئی سمت، تعمیرِ نو اور آنے والے برسوں میں اس کے عوام کی زندگی میں آنے والی حقیقی خوشحالی کرے گی۔ بانیٔ پاکستان نے آزاد وطن کی بنیاد رکھی تھی، اب اسے ایک جدید اور معاشی طور پر خودمختار ریاست میں ڈھالنا تعمیرِ پاکستان کا اگلا باب ہے۔ یہی اس عہد کا سب سے بڑا قومی مقصد ہے۔
واپس کریں