
یہ ایک عام الزام ہے کہ فوج ملک کھا رہی ہے۔ چلیے، مان لیتے ہیں صاحب! لیکن یہ تو بتائیے کہ کیا فوج اکیلی کھا رہی ہے یا عسکری دسترخوان پر کچھ اور لوگ بھی پیٹ پوجا کر رہے ہیں؟
نہیں، نہیں، بہت سارے لوگ مل کر کھا رہے ہیں۔
ارے صاحب! کھل کر بتائیے، کن کی بات کر رہے ہیں؟
کن کن کے نام لوں بھائی! سیاست دان، بیوروکریٹس، مذہب فروش، صحافی، دانشور، شاعر، پیشہ ور لوگ، وکیل، ڈاکٹر، بینکر، جاگیردار، سرمایہ دار، منشیات فروش، ملک دشمن، غرض وہ سب لوگ جنہیں عرف عام میں اشرافیہ کہا جاتا ہے۔ اور ہاں، ہتھوڑے والے بھی!
اچھا، اچھا! مگر دسترخوان تو اتنا بڑا نہیں لگتا، البتہ کھانے والوں کی ورائٹی بہت زیادہ ہے۔ مطلب یہ کہ تعداد میں تھوڑے ہی لوگ ہوئے نا۔ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی میں یہی کوئی دو فیصد یا اس سے بھی کم۔ لیکن یہ بتاؤ کہ جو دسترخوان پر نہیں ہیں، وہ بھاری اکثریت جسے عوام کہتے ہیں، کیا کھا رہی ہے؟
وہ مخلوق فاقوں، بھوک اور خالی پیٹ ذلت بھری زندگی گزارنے کی عادی ہو چکی ہے۔
ٹھیک ہے۔ اچھا، یہ بتاؤ کہ فوج کے ساتھ شریکِ خوان اس گروہ کا جھگڑا کیا ہے؟
طوفانِ بدتمیزی مچا ہوا ہے۔ سارے شریکے دسترخوان بدر کر دیے گئے ہیں، اس لیے سب نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔
تو یہ ہم عوام سے کیا چاہتے ہیں؟
یہ چاہتے ہیں کہ ہم نعمت خانے کے باہر کھڑے ہو کر چلانا شروع کر دیں کہ اللہ کے نام پر روٹی دے دو بابا!
تو اس سے کیا ہوگا؟
یہ سمجھتے ہیں کہ مال خانے، معاف کیجیے، نعمت خانے کے ناظم گھبرا کر انہیں دوبارہ دسترخوان پر بٹھا دیں گے۔
ارے بھائی! وہ تو بڑا ٹیڑھا آدمی ہے، انہیں دوبارہ کھانے نہیں دے گا۔
اور ہم بھوکے ضرور ہیں، مگر پاگل نہیں۔ نہ ہی ہمیں کسی باولے کتے نے کاٹا ہے کہ ان کی خاطر اپنی بھوک بھول کر میدان میں کود پڑیں۔ البتہ انسانیت کے ناتے اتنی مدد ضرور کر سکتے ہیں کہ انہیں بھوکوں کی صف میں جگہ دے دیں۔ ویسے یہ بھی ان کا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا۔
ہم تو کل بھی بھوکے تھے اور آج بھی بھوکے ہیں۔ البتہ اب کچھ امید پیدا ہوئی ہے کہ جو کچھ یہ لوگ کھاتے رہے ہیں، شاید اس کا کچھ حصہ ہم بھوکوں میں بھی تقسیم ہو جائے۔ فوج اکیلی کتنا کھائے گی؟ اگر پہلے ان سب میں تقسیم ہونے والے رزق کا آدھا حصہ بھی اٹھانوے فیصد عوام تک پہنچ جائے تو عام پاکستانی کی زندگی بدل جائیگی۔
ہمیں دو لقمے بھی نصیب ہو گئے تو سمجھیں گے کہ رازق نے ہمیں معاف کر دیا ہے اور ان کی پکڑ کا وقت شروع ہو چکا ہے۔
واپس کریں