
اللہ پاک نے ہر انسان کی زندگی کی بابت فیصلہ کیا ہوتا ہے اور انسان مختلف راستوں سے ہوتا ہوا اس منزل تک پہنچتا ہے۔
آٹھویں جماعت تک میں اپنے آبائی گاؤں کرسندھڑہ، ضلع حویلی کہوٹہ آزاد جموں کشمیر کے مڈل سکول میں پڑھا، اپریل 2003 میں ہائی سکول پلنگی میں نویں جماعت کے سائنس گروپ میں داخلہ لیا (دراصل پلنگی ہائی سکول ایک مرکزی حیثیت رکھتا تھا جس کی نویں جماعت میں داخلہ کیلئے تقریبا 20 سے 25 گاؤں اور مڈل سکولوں کے طلباء داخلہ لیا کرتے تھے اور سائنس گروپ میں مخصوص تعداد کا داخلہ ہوا کرتا تھا اور داخلہ ملنا بڑی کامیابی سمجھی جاتی تھی). لیکن 17 اکتوبر 2003 کو ہائی سکول پلنگی سے اچانک سرٹیفیکیٹ لی اور اسلام آباد کا رخ کیا۔ جس کا یقین مجھے اسلام آباد پہنچنے تک نہیں ہو پایا کہ میں واقعی اسلام آباد جا رہا ہوں۔
بچپن سے ہی میرا ذہن مذہبی تعلیم اور دینی موحول کی جانب راغب تھا سو خبر ملی تھی کہ اسلام آباد میں اسلامی اور دنیوی تعلیم کے امتزاج کے حامل ادارہ "رضا اسلامیہ کالج" کا افتتاح ہوا ہے اور اس کالج میں چھٹی، نویں، اور فرسٹ ائیر میں داخلے شروع ہیں اور خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ کالج ہمارے علاقے کی مشہور روحانی درگاہ بساہاں شریف کے سجادہ نشین پیر علی رضا بخاری صاحب (جن سے بعد میں اکتساب علوم کے ساتھ روحانی ارادت بھی میسر آئی) نے شروع کیا تھا اور میرے بڑے بھائی انیس الرحمن صاحب بھی پیر صاحب کے سسٹم کا حصہ تھے۔ سو فیصلہ کر لیا یہ اسی ادارے میں داخلہ لینا ہے۔ یوں مجھے یہ اعزاز ملا کہ میرا شمار اس ادارے کے پہلے طلباء میں ہوا۔
2003 سے 2008 تک رضا اسلامیہ کالج میں پڑھا، گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے گاؤں گیا ہوا تھا۔ گاؤں سے اپنے مرشدِ گرامی کو احوال دریافت کرنے کیلئے کال کی تو حکم ملا کہ فوری واپس اسلام آباد پہنچو اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایل ایل بی شریعہ اینڈ لاء میں داخلہ لو، حکم کی تعمیل کی اور اپنے ہمدمِ دیرینہ ملک محمد بلال اعوان ایڈووکیٹ حال مقیم برطانیہ کے ہمراہ داخلہ اپلائے کیا (جس کی روداد پھر کسی تحریر میں کی جائے گی) اب شریعہ اینڈ لاء کا دورانیہ 2008 سے 2013 تک تھا۔ لیکن پوری ڈگری کے دوران کبھی یہ ارادہ نہیں بنا کہ ڈگری کے بعد وکالت کرنی ہے۔
ًڈگری مکمل کرنے کے بعد پور 2 ماہ مکمل آرام کیا پھر خیال آیا کہ چلیں ایک بار کچہری کا منہ تو دیکھتے ہیں کہ وہ دنیا کیسی ہے؟ سو اسلام آباد کے سیکٹر F-8 میں گیا، ایک الگ سی دنیا کا نظارہ کیا۔ پھر بھی ذہن میں یہی بات پیوست رہی کہ وکالت نہیں کرنی اور یہ بھی کہ ایک مذہبی تعلیم کے حامل کو پتہ نہی وکالت زیب بھی دے گی یا نہیں۔
بالآخر یہ سوچا، غور کیا اور بالآخر فیصلہ کیا کہ وکالت کا شعبہ عوام میں جس وجہ سے سوالیہ نشان ہے، مجھے کوشش کرنی ہے کہ اس تاثر کو ختم کر پاؤں، اس مقدس پیشے پر لگائے جانے والے الزامات کو جھوٹا ثابت کر سکوں، غریب عوام کی دادرسی کیلئے اپنے تئیں کوشش کر سکوں، عوام کو یہ اعتماد دلا سکوں کہ ہاں وکیل بہترین لوگ ہیں، وکالت بہترین پیشہ/شعبہ ہے، وکیلوں کے بارے میں جو بات معاشرے میں عام ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں وغیرہ وغیرہ۔
مذکورہ بالا باتیں اس شخص کیلئے واقعی مشکل تھیں کہ جس کے خاندان کا کوئی شخص بھی وکیل نہیں بنا، جس کے والدین نے اسے مولوی بنانے کیلئے بھیجا تھا، جس کے معاشرے میں وکیل کو بہرحال اچھا نہیں سمجھا جاتا، تو ایسے شخص نے دانستہ طور پر مشکل فیصلہ لیا اور آج مطمئین ہے کہ اس کا فیصلہ بہت ہی اچھا تھا۔
میرا یقین ہے کہ میرے 13 سالہ دورانیہ وکالت میں میرا کوئی ایک بھی موکل آپکو ایسا نہیں ملے گا جس کو یہ شکایت ہو گی کہ میرے وکیل نے مجھے غلط مشورہ دیا، مجھے دھوکہ دیا، میرے حقوق کا تحفظ نہیں کیا، پیشہ ورانہ بددیانتی، بدعہدی کا مرتکب ہوا، فیس غبن کر کے کیس راستے میں چھوڑا یا اس طرح کا کوئی اور الزام۔ اور الحمدللہ یہی میرے اس ارادے کی اب تک کی جیت ہے۔
یاد رہے فوجداری وکالت میں قتل مقدمات میں ملزمان کی بریت کے فیصلے، دہشتگردی عدالت سے بریت کے فیصلے، ہائیکورٹ سے آئینی پٹیشنز، دیوانی مقدمات اور عائلی مقدمات کے ساتھ ساتھ فیڈرل سروس ٹربیونل میں سروس لاء کے مقدمات یکسو کروانے کے مواقع میسر آئے ہیں اور اس وقت تک 90 فیصد مقدمات کے فیصلہ جات اپنے موکلین کے حق میں کروانے کی توفیق میسر آئی۔
اس سارے عرصے میں متعدد مقامات ایسے آئے کہ جب وکالت کو ترک کرنے کا بارہا خیال آیا لیکن میرے ایک دیرینہ دوست لالہ دلاور خان کے ایک جملہ نے ہمیشہ یہ خیال ترک کرنے کا حوصلہ دیا "کہ مشکل حالات آئیں گے لیکن وکالت مت چھوڑنا"۔ سو لالا آپ کا بھی ہمیشہ کیلئے شکریہ۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم وکالت کے اس حساس میدان میں انسانیت، انصاف، عدل اور اقدار کیلئے اپنا مثبت ادا کر پائیں۔
واپس کریں