
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکان کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ کارروائی ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انہوں نے منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکان کو کم قرار دیا تھا۔
اس سے قبل پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کئی ماہ سے کوئی لڑائی نہیں کر رہا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جزیرہ قشم پر امریکی حملے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کا اشارہ نہیں ہیں۔
ایک دوسرے امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ حملے ایرانی جانب سے امریکی تنصیبات اور اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کے جواب میں کیے گئے۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے بھی حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ایران کی جانب سے ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کی گئیں۔
امریکی حکام کے بیانات کے مطابق حملوں کا مقصد فوری خطرات کا جواب دینا تھا، تاہم جزیرہ قشم پر ہونے والے حملوں کی مکمل تفصیلات اور ممکنہ نقصانات سے متعلق معلومات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
واپس کریں