خالد خان۔ کالم نگار
اگر ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے تو پھر ہمیں تمام وابستگیوں، سیاسی مصلحتوں اور مفادات سے بالاتر ہو کر اس کی درست تشخیص اور علاج تلاش کرنا ہوگا۔ ایک دوسری بات بھی فرض کر لیتے ہیں کہ ریاست واقعی خلوصِ نیت کے ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان دو مفروضوں کے بعد مقتدرہ کو اس مریض کی طرح ڈاکٹر کا سر نہیں پھاڑنا چاہیے جس نے اسے کینسر کی تشخیص بتائی ہو، بلکہ اس کے مشورے کے مطابق علاج کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ ایک آخری مفروضہ بھی قائم کر لیتے ہیں کہ راقم الحروف واقعی محب وطن ہے اور یہ سب کچھ نیک نیتی سے لکھ رہا ہے۔
دنیا میں ذہین قومیں دوسروں کے تجربات سے سیکھتی ہیں، جبکہ نالائق اقوام ہر تجربہ خود کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ وہ اس کے باوجود ذہین نہیں بنتیں بلکہ دوسروں کی غلطیوں اور اپنی حماقتوں کی تجربہ گاہ بن جاتی ہیں۔
پاکستان کی ریاستی تاریخ میں مذہبی قوتوں کے سیاسی استعمال کی ایک طویل داستان موجود ہے۔ 1977ء میں قومی اتحاد، 1988ء میں اسلامی جمہوری اتحاد اور 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے قیام اور سیاسی کردار کو اسی تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان تینوں اتحادوں کے پس منظر اور تشکیل کے طریقے مختلف تھے، لیکن ان کے ذریعے مذہبی سیاسی قوتیں قومی سیاست میں ایک بڑی اجتماعی طاقت بن کر سامنے آئیں۔ آئی جے آئی کے قیام میں آئی ایس آئی کا کردار بعد میں سپریم کورٹ کے اصغر خان کیس میں بھی ثابت ہوا۔ متحدہ مجلس عمل کے معاملے میں مشرف دور کی فوجی سیاسی انجینئرنگ اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت نے اس اتحاد کے سیاسی عروج میں اہم کردار ادا کیا۔
افغان جہاد میں جماعت اسلامی کا کردار بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ اس دور میں ریاست نے مذہبی نظریات، تنظیمی نیٹ ورکس اور جہادی گروہوں کو اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ افغان جنگ محض سرحد پار ایک جنگ نہیں تھی بلکہ اس کے اثرات پاکستان کے سماجی، ثقافتی، تعلیمی اور سیاسی ڈھانچے تک پھیلے۔
مقتدرہ کی ایک بری عادت یہ بھی رہی ہے کہ وہ اپنے ہر عمل کے لیے جواز تلاش کرتی ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ بہادروں کی طرح اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا جائے۔ جب تک ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف اور اصلاح نہیں کریں گے، کل کے محب وطن تجزیہ کاروں کی طرح آج کے دردمند اہلِ فکر بھی غدار قرار پائیں گے اور ہم تاریخ کے ہر نئے موڑ پر وہی غلطیاں دہراتے رہیں گے۔
مان لیجیے کہ آپ نے ماضی میں امریکی مفادات کے لیے جنگیں لڑیں، پراکسیز بنائیں اور ایسے تزویراتی فیصلے کیے جنہوں نے پاکستان کو ایک طویل نظریاتی اور سماجی بحران میں دھکیل دیا۔ ایک مہذب، ثقافتی طور پر مالا مال اور نسبتاً معتدل معاشرے میں شدت پسندی کے بیج بوئے گئے۔ فنونِ لطیفہ، ادبِ عالیہ، ثقافتی سرگرمیوں، جمہوریت اور ترقی پسند و معتدل اذہان کے مقابلے میں ایک خود ساختہ مذہبی بیانیے کو ریاستی سرپرستی حاصل ہوئی۔ منشیات اور کلاشنکوف کلچر کو فروغ ملا، مدارس کے وسیع نیٹ ورکس قائم ہوئے، فرقہ واریت کو ہوا ملی، مذہبی گروہوں کو سیاسی اور سماجی طاقت دی گئی اور عام لوگوں میں سے ایسے افراد کو قومی سطح پر طاقتور بنایا گیا جو بعد میں اپنے اپنے حلقوں میں رول ماڈل بن گئے۔
جہادی گروہوں کی تشکیل، مذہبی سیاسی جماعتوں کا استعمال اور مختلف مذہبی جتھوں کی سرپرستی ایک ایسے سلسلے کی کڑیاں تھیں جس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ مدارس، مذہبی جماعتوں اور مسلح تنظیموں کے بعض فکری، تنظیمی اور تاریخی روابط سے انکار ممکن نہیں۔ فرقہ وارانہ جنگجو تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کی افزائش کے اسباب کو بھی اسی تاریخی تناظر میں سمجھنا ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ریاست واقعی اس ماضی سے نکلنا چاہتی ہے تو کیا صرف چند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کافی ہوں گی؟
پاکستان قومی اتحاد، آئی جے آئی اور متحدہ مجلس عمل کے ادوار میں مذہبی قوتوں کو مختلف سیاسی مقاصد کے لیے مجتمع کیا گیا۔ اب صورتِ حال میں ایک بنیادی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ ریاست اگر ان سابقہ اثاثوں سے جان چھڑانا چاہتی ہے تو یہ قوتیں بھی اپنی سیاسی بقا اور مشترکہ مفادات کے لیے خود ایک چھتری تلے جمع ہو سکتی ہیں۔ ماضی میں ریاست انہیں اپنے مقاصد کے لیے اکٹھا کرتی تھی، اب ممکن ہے کہ وہ اپنی بقا کے لیے خود اکٹھی ہو جائیں۔
جماعت اسلامی کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت کا تازہ اعلان اسی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ اسے محض ایک جماعت کی دوسری جماعت کے ساتھ سیاسی حمایت سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا مختلف مذہبی قوتیں اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر ایک وسیع تر سیاسی محاذ بنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کو اس کے سیاسی اور آئینی مضمرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔
مذہبی قوتوں اور ریاست کے درمیان جس تیزی سے فاصلے بڑھ رہے ہیں، آنے والے دنوں میں ان مذہبی قوتوں کے درمیان زیادہ وسیع سیاسی ہم آہنگی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ انہیں خطرے کی شدت کا مکمل ادراک ہے اور جب انہیں محسوس ہوگا کہ ریاست اب ماضی کی طرح ان کی سرپرستی کے لیے تیار نہیں تو ان کے مشترکہ مفادات انہیں ایک پلیٹ فارم پر لا سکتے ہیں۔
یہاں ریاست کے سامنے ایک بڑا فیصلہ ہے۔ کیا وہ ماضی کی طرح وقتی مفادات کے لیے مذہبی قوتوں سے سمجھوتے کرتی رہے گی یا ایک مستقل اور واضح قومی پالیسی اختیار کرے گی؟ اگر فیصلہ ہو چکا ہے کہ اب ان تزویراتی اثاثوں کو دفن کرنا ہے تو پھر اس فیصلے کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے اور یہ کوئی آسان معرکہ نہیں ہوگا۔ اگر ریاست پوری تیاری کے بغیر میدان میں اتری تو نیم دلانہ کاروائیاں زیادہ نقصان دہ ثابت ہونگی۔ ادھوری کارروائیاں، وقتی سمجھوتے اور غیر واضح اہداف نہ صرف ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ مخالف قوتوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع بھی دیں گے۔
لگتا ہے کہ فوج اور ریاست اب پیچھے ہٹنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ بین الاقوامی حالات نے بھی پاکستان کے لیے بعض نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور ریاست انہیں ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس معرکے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں؟
ابھی تک ریاست کی توجہ زیادہ تر طاقت کے استعمال پر دکھائی دیتی ہے۔ نظریاتی جنگ، سماجی اصلاح اور فکری متبادل کی تیاری پر وہ سنجیدگی نظر نہیں آتی جو اس بڑے مقصد کے لیے ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ اپنی غلط پالیسیوں کا رخ تبدیل کیجیے۔ جتنی شدت سے معاشرے کی رگوں میں انتہا پسندی کا زہر اتارا گیا، اس سے کہیں زیادہ محنت اور تسلسل کے ساتھ اس کا تریاق فراہم کرنا ہوگا۔
فنونِ لطیفہ، ادبِ عالیہ، آرٹ، ثقافت، آزاد فکر اور تحقیق کو فروغ دیجیے۔ معاشرے سے گھٹن ختم کیجیے۔ معتدل، ترقی پسند اور اہلِ فکر لوگوں کو قومی زندگی میں آگے لائیے۔ حقیقی جمہوریت قائم کیجیے۔ تعلیمی اداروں، مدارس اور سماجی تنظیموں میں علم، برداشت اور تنقیدی شعور کو فروغ دیجیے۔ افغان جنگ کے دوران ذہن سازی کے لیے جو نرسریاں تیار کی گئی تھیں، ان کی جگہ علم، تحقیق، تخلیق اور انسان دوستی کی نرسریاں قائم کیجیے۔
کیا ریاست ایک روشن پاکستان کے لیے ایک بڑی جنگ لڑنے کو تیار ہے؟ یہ جنگ کسی مذہب، مسلک یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ انتہا پسندی، تشدد، جہالت، فکری غلامی اور اس دوہرے معیار کے خلاف ہونی چاہیے جس نے ہمارے معاشرے کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔
اگر ریاست یہ جنگ آئین، قانون، جمہوریت اور مکمل قومی حکمت عملی کے ساتھ لڑتی ہے تو اس کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر مذہبی انتہا پسند قوتیں سیاسی اور نظریاتی غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ ایک نئے شدت پسند بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
قوم ایک پرامن، روشن خیال اور مستحکم پاکستان چاہتی ہے۔ اسے ریاست کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے ایک واضح مقصد، منصفانہ طرزِ عمل اور قابلِ اعتماد حکمت عملی درکار ہے۔
اب دوہرا معیار نہیں چل سکتا۔ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے واقعی سنجیدہ ہے یا ماضی کی طرح اپنے مفادات کے مطابق کبھی اسے استعمال کرے گی اور کبھی اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرے گی۔
ڈبل سٹینڈرڈ کا زمانہ گزر چکا ہے۔
واپس کریں