دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مولانا کی جماعت بھی گالم گلوچ پر اتر آئی؟ خالد خان
No image ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستگی کے پہلے ہی دن مائیک پر قرآن مجید کی سورۃ البقرہ کی آیت 83 کا ایک حصہ پڑھا: ’’وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا‘‘، جس کا ترجمہ ہے کہ ’’لوگوں سے اچھی بات کہو۔‘‘ ہم تو ڈھول باجوں کے درمیان بیٹھ کر بھی اس حکم پر پورے خلوص کے ساتھ عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کیا ہوا مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت کو کہ سیاسی اختلافات کو دلیل کے بجائے گالم گلوچ اور شخصی تضحیک میں تبدیل کردیا؟
سیانے کہتے ہیں کہ جہاں دلیل ختم ہوتی ہے، وہاں سے گالیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عالم فاضل مولانا صاحب اور ان کے رفقا کے پاس دلیل نہیں ہے یا سیاسی اختلاف نے انہیں اس حد تک مشتعل کردیا ہے کہ وہ اپنے ہی علمی، اخلاقی اور جمہوری تشخص کو فراموش کر بیٹھے ہیں؟
وفاقی وزرا کے ساتھ مولانا کی مخالفت اور مخاصمت سیاسی دائرے سے نکل کر ذاتی تضحیک کی حدود میں داخل ہوچکی ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزرا بھی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں۔ اگر کسی اور کام میں اپنی کارکردگی ثابت نہ کرسکے ہوں تو کم از کم گالی بریگیڈ کے طور پر اپنا رزق حلال ضرور کر رہے ہیں۔
جمہوریت نام ہے برداشت، صبر و تحمل، رواداری اور دلیل سے بات کرنے کا۔ سیاست کا تقاضا ہے کہ انہی اوصاف کو تدبر کے ساتھ اپنے قول و فعل کا حصہ بنایا جائے۔
شرفا کو عمران خان اور ان کی پاکستان تحریک انصاف سے شکوہ تھا کہ اس جماعت نے پاکستان کی سیاست میں بدتہذیبی اور گالم گلوچ کے کلچر کو فروغ دیا۔ اس رویے کی ابتدا کی بات اس لیے نہیں کی کہ مختلف ادوار میں حصہ بقدر جثہ تقریباً ہر جماعت اور اس کے قائدین نے بدتہذیبی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ کبھی جہازوں سے بے نظیر بھٹو کی نازیبا تصاویر پھینک کر سیاسی کردار کشی کی گئی، کبھی سیتا وائٹ کی نجی زندگی کو سیاسی تضحیک کا موضوع بنایا گیا اور کبھی کسی خاتون سیاست دان کو پیلی ٹیکسی اور ٹریکٹر ٹرالی جیسے توہین آمیز القابات سے نوازا گیا۔
لیکن مولانا فضل الرحمٰن، جو ایک جمہوری، سیاسی، عالم اور مدبر سیاست دان کی حیثیت سے پہچانے جاتے رہے ہیں، کس طرف نکل پڑے ہیں؟ کیا سیاسی اختلاف میں اخلاقی حدود کی پابندی صرف دوسروں کے لیے ضروری ہے؟
مولانا اور وفاقی حکومت دونوں اس بدتہذیبی کے ذمہ دار ہیں۔ کسی ایک فریق کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مولانا کے جتنے بھی سیاسی شکوے، تحفظات یا الزامات ہیں، انہیں دلیل اور شواہد کے ساتھ عوام کے سامنے رکھیں۔ حکومت بھی اسی شائستگی سے جواب دے۔ دونوں فریق اپنے اپنے چارج شیٹس اور صفائیاں اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر پیش کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے گالی، تضحیک اور کردار کشی کی کوئی ضرورت نہیں۔
حکومت بھی دل گردے سے کام لے۔ اگر بقول حکومت مفتی محمود مرکز میں غیر قانونی تجاوزات ثابت شدہ ہیں تو بلا تاخیر قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ لیکن اس معاملے کو سیاسی انتقام یا شخصی تضحیک کا ذریعہ بنانے کے بجائے قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جائے۔ مولانا بھی اپنی انا سے نکل کر قانون کے احترام میں حکومتی کارروائی قبول کریں۔ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، چاہے معاملہ کسی عام شہری کا ہو یا کسی بڑے سیاسی رہنما کا۔
اسی طرح اگر حکومتی حلقوں کے دعوے کے مطابق مولانا ڈیرہ اسماعیل خان میں بے نامی سرکاری جائیدادوں سے مستفید ہوئے ہیں تو حکومت ثبوت پیش کرے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ الزامات کو سیاسی جلسوں، پریس کانفرنسوں اور ذاتی حملوں کا موضوع بنانے کے بجائے قانونی فورمز پر ثابت کیا جائے۔ کسی کی پگڑی اچھالنے سے نہ الزام ثابت ہوتا ہے اور نہ انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔
حکومت اور مولانا دونوں پاکستان کے سیاسی مستقبل کے جمہوری اور اخلاقی کلچر میں بھرپور گند گھول رہے ہیں۔ ایک طرف مولانا جارحانہ موڈ میں ریاست کو ڈنکے کی چوٹ پر للکار رہے ہیں تو دوسری طرف جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سینیٹ اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے چلنے کے انداز کو ’’شی میل‘‘ سے تشبیہ دی۔ یہ کہاں کی اخلاقیات ہیں؟ یہ کیسی زبان ہے اور ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ ہماری نئی نسل سیاست سے دلیل، برداشت اور شعور سیکھے گی یا مخالفین کی تضحیک اور تمسخر کو اپنا سیاسی ہتھیار بنائے گی؟
سیاسیات اور ذاتیات کے درمیان ایک باریک سی لکیر ہے، جس کا احترام ہر کسی پر لازم ہے۔ سیاسی اختلاف کیجیے، تنقید کیجیے، الزامات لگائیے، ثبوت مانگیے اور جواب دیجیے، لیکن کسی کی ذات، جنس یا نجی زندگی کو تضحیک کا نشانہ نہ بنائیے۔
سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، گالم گلوچ اس کی توہین۔
واپس کریں