دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران امریکہ ممکنہ جنگ ۔ احتشام الحق شامی
No image عالمی میڈیا کے مطابق ابھی فوری طور پر مکمل نئی جنگ کا اعلان نہیں ہوا مگر صورتحال بہت کشیدہ ہے اور موجودہ تنازعے کے دوبارہ شدید بھڑکنے کا خطرہ موجود ہے۔
فروری 2026 سے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی آپریشن Epic Fury جاری ہے، جو کئی مہینوں سے چل رہی ہے لیکن حالیہ ہفتوں میں بڑے پیمانے پر حملوں میں کچھ کمی آئی ہے، مگر دونوں اطراف سے دھمکیاں، تیاریاں اور سفارتی جمود جاری ہے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ another little Epic Fury کر سکتا ہے اور وہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ ڈیل کریں یا finish them off۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکی مڈ ٹرم الیکشن 3 نومبر 2026 سے پہلے ایران پر بڑے جنگی حملے نہیں ہوں گے، مگر الیکشن کے بعد آپشنز کھلے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکہ نے عبوری ڈیل ناکام بنائی اور کوئی بھی محدود حملہ کئی گنا زیادہ شدید جواب دے گا۔ ایرانی قیادت اور فوجی افسران نے خلیج میں امریکی فوجی موجودگی پر سخت تنبیہ کی ہے۔
اسرائیل کے انتخابات (آج27 اکتوبر) اور امریکی مڈ ٹرمز قریب ہیں، اس لیے عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی بڑی کارروائی کا امکان الیکشن کے بعد زیادہ ہے۔
آبنائے ہرمز پر تناؤ، تیل کی بلند قیمتیں اور دونوں طرف کی فوجی تیاریاں جاری ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں امریکی افواج کی مزید تعیناتی اور حملوں کے منصوبوں کا ذکر ہے۔
عالمی اہم میڈیا الجزیرہ، سی بی ایس، گلف نیوز، دی بوسٹن رپورٹ وغیرہ اس بات پر متفق ہے کہ مکمل جنگ پہلے سے موجود ہے، مگر فی الحال شدید مرحلے میں نہیں جبکہ سفارتی کوششیں پاکستان، قطر وغیرہ کے ذریعے جاری ہیں مگر کامیابی نہیں مل رہی۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر مذاکرات ناکام رہے تو الیکشن کے بعد تنازعہ دوبارہ شدید ہو سکتا ہے، جو خطے اور عالمی معیشت پر بڑا اثر ڈالے گا۔
واپس کریں