ریاست بمقابلہ مولانا: کیا صیاد خود اپنے دام میں آگیا؟ خالد خان

میں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اس موضوع پر لکھوں یا نہیں، لیکن ایک دوست کے تبصرے نے میری الجھن دور کر دی۔ تخت بھائی کے معروف صحافی عزت محمد خپلواک نے میری ایک تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ تجاوزات کی آڑ میں شاید ریاست خیبرپختونخوا کی سیاسی اور سماجی راکھ میں دبی چنگاریاں تلاش کرنا چاہتی تھی۔ مقصد یہ جانچنا تھا کہ سیاسی جماعتوں اور عوام میں مزاحمت کی کتنی توانائی باقی ہے۔ لانگ مارچ میں عوام کی عدم دلچسپی اور گورنر راج و ایمرجنسی پر بظاہر چھائی خاموشی ریاست کے لیے اطمینان بخش ہو سکتی تھی، لیکن کیا یہ خاموشی واقعی بے بسی تھی یا کسی بڑے ردعمل سے پہلے کا سکوت؟
خپلواک کے مطابق مفتی محمود مرکز کے بعض متنازع حصوں کو مسمار کرنے کی کوشش پر مولانا فضل الرحمٰن کھل کر سامنے آگئے۔ انہوں نے حکومت کو للکارتے ہوئے چیلنج دیا کہ اگر ہمت ہے تو مرکز کے قریب آکر دکھائے۔ جماعت کے رضاکاروں نے پہرہ داری بھی شروع کر دی۔ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد فی الحال کارروائی رک گئی۔ اس پیش رفت نے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کو ایک نئے سیاسی سوال سے جوڑ دیا کہ کیا حکومت نے کارروائی کے ممکنہ ردعمل کا درست اندازہ لگایا تھا؟
بڑے بحری جہاز گہرے پانیوں میں سفر کرتے ہوئے سمندر کی گہرائی جس عمل کے ذریعے ناپتے ہیں، اسے تکنیکی زبان میں ’’ساؤنڈنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ میرا شبہ ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی بھی گدلے سیاسی پانیوں کی گہرائی ناپنے کا ذریعہ تھی۔ لیکن اگر یہ واقعی طاقت اور مزاحمت کی آزمائش تھی تو مفتی محمود مرکز کے معاملے نے ایک ایسا جواب دیا ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن کی قوت کو صرف انتخابی نشستوں یا جلسوں کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ان کے پاس ایک منظم مذہبی جماعت، دیرینہ کارکنوں کا نیٹ ورک، مساجد اور مدارس سے جڑا سماجی ڈھانچہ اور مذہبی وابستگی سے پیدا ہونے والی اثرپذیری موجود ہے۔ ایسے حلقوں میں قیادت کے ایک فیصلے پر غیر معمولی قربانی دینے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کی مزاحمت کو عام سیاسی احتجاج سمجھنا غلط اندازہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مولانا کی سیاسی بصیرت، تجربہ، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طویل سیاسی تعامل اور طاقت کے مراکز کی نبض شناسی بھی ان کے کردار کو اہم بناتی ہے۔ وہ ماضی میں زمین گرم کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور ریاستی طاقت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بازوں ہمارے آزمائے ہوئے ہیں۔ حکومتی حلقوں اور بعض وفاقی وزرا کی طرف سے یہ الزام بھی سامنے آتا رہا ہے کہ اقتدار میں حصہ ملنے پر ان کا احتجاج ختم ہو جائے گا۔ لیکن میری ذاتی رائے میں معاملہ صرف اقتدار میں شراکت کا نہیں۔ مولانا یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ وقتی مفاہمت کے نتیجے میں اگر ان کی عوامی ساکھ اور مزاحمتی شناخت متاثر ہوئی تو اس کا ازالہ آسان نہیں ہوگا۔ ریاست کے ساتھ کشمکش ان کی سیاست کا ایک اہم حوالہ ہے، اور اس مرحلے پر پسپائی ان کے لیے سیاسی طور پر مہنگی پڑ سکتی ہے۔
اس صورتِ حال کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی اور دوسری جماعتوں کے کارکنوں کی مشکلات، عام شہریوں کی بے اطمینانی، کارروائیوں سے متاثرہ کاروباری طبقے کی شکایات اور بارہ اضلاع میں ممکنہ فوجی آپریشن کا ماحول پہلے ہی اضطراب پیدا کر چکا ہے۔ اگر یہ ناراضی بڑھتی ہے تو مولانا کو اپنی جماعت سے باہر بھی ہمدردی مل سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ تمام لوگ ان کے نظریے سے اتفاق کریں؛ بعض اوقات مختلف شکایات ایک مشترکہ سیاسی مزاحمت کو جنم دے دیتی ہیں۔
افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کا معاملہ اس منظرنامے کو مزید حساس بناتا ہے۔ دونوں کے پاکستان سے متعلق اپنے مفادات اور ریاست کے ساتھ تنازعات ہیں۔ مذہبی و نظریاتی روابط اور تاریخی تعلقات کے باعث یہ امکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مولانا اور ریاست کے درمیان شدید تصادم کی صورت میں یہ تنظیمیں بھی صورتِ حال کو اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھیں۔ اگر انہیں ریاست کی کامیابی اپنے لیے خطرہ محسوس ہوئی تو وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی ردعمل پر ضرور غور کر سکتی ہیں۔ میرا خدشہ یہ ہے کہ ریاست مولانا کی سیاسی قوت اور ان کے پیچھے موجود سماجی و نظریاتی نیٹ ورک کی گہرائی کا درست اندازہ لگانے میں غلطی کر رہی ہے۔ لال مسجد اور تحریک لبیک پاکستان کے معاملات کے بعد بھی ہر نئے تنازع کو سابقہ تجربات کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ مولانا کا معاملہ مختلف سیاسی، تنظیمی اور سماجی عوامل کا مجموعہ ہے۔ اگر ریاست نے انہیں معمول کا سیاسی حریف سمجھ کر دباؤ بڑھایا اور مولانا نے اسے اپنی جماعت کی بقا اور سیاسی شناخت کا مسئلہ بنا لیا تو دونوں فریق ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ سکتے ہیں جس کی قیمت صرف انہیں نہیں، پورے صوبے اور ملک کو ادا کرنا پڑے گی۔
میرا اندازہ ہے کہ مفتی محمود مرکز کا معاملہ محض تجاوزات کی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر ریاست نے مولانا کی مزاحمت کی قوت کم ناپی اور مولانا نے پیچھے ہٹنے کو اپنی سیاسی موت سمجھا تو آنے والے دن ایک بڑے ٹکراؤ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ یہ تصادم ناگزیر نہیں، مگر اس کے امکانات کو نظرانداز کرنا بھی سیاسی بصیرت نہیں۔ بعض اوقات ریاستیں اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مخالف کی قوت نہیں، اپنے فیصلے کے نتائج ناپنے میں غلطی کر بیٹھتی ہیں۔
واپس کریں