میر حسنؔ
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ کام سے واپس آیا تو کھانا میز پر رکھا تھا۔ بیوی نے کھانا گرم کرتے ہوئے پوچھا، ’’آپ نے اس مسئلے پر کوئی فیصلہ کیا؟‘‘اس نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا، ’’ابھی نہیں، دیکھتے ہیں۔‘‘
’’لیکن کب تک؟ دو ہفتے ہو گئے ہیں، آپ ہر بار یہی کہتے ہیں۔‘‘
وہ خاموش ہو گیا۔ بیوی نے دوبارہ کچھ کہنا چاہا تو اس نے موبائل اٹھایا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔
مسئلہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ حل نہ ہو سکتا، مگر اب اس میں ایک اور مسئلہ شامل ہو چکا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے۔
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارے بہت سے رشتے کسی بڑی غلطی سے نہیں، انہی چھوٹی چھوٹی ضدوں سے کمزور ہوتے ہیں۔ ہم اپنی بات پر قائم رہنے کو خودداری سمجھ لیتے ہیں، چاہے سامنے والے کی بات میں کتنی ہی سچائی کیوں نہ ہو۔
میں نے کہیں پڑھا تھا:
’’مرد فیصلہ کرتے اچھے لگتے ہیں، مرد لڑائیاں ختم کرتے اچھے لگتے ہیں، مرد مضبوط اچھے لگتے ہیں، مرد عورتوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے اچھے لگتے ہیں، مرد مرد ہی اچھے لگتے ہیں۔‘‘
پڑھ کر خیال آیا کہ بات تو خوبصورت ہے، مگر کیا ہم واقعی ان الفاظ کا مطلب سمجھتے ہیں؟
مرد کے فیصلے کی خوبصورتی اس کے حکم میں نہیں، اس کی ذمہ داری میں ہوتی ہے۔
فرض کیجیے ایک شخص کو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ملازمت ختم ہونے والی ہے۔ گھر کا کرایہ دینا ہے، بچوں کی فیس باقی ہے، والدین کی دوائیں بھی لانی ہیں۔ وہ پریشان ہے، مگر کسی سے کچھ نہیں کہتا۔ گھر میں سوال ہوتا ہے تو غصے میں جواب دیتا ہے۔ پھر ایک دن اپنی ساری پریشانی گھر والوں پر نکال دیتا ہے۔
دوسری طرف ایک شخص انہی حالات میں اپنی بیوی کو اعتماد میں لیتا ہے۔ اسے بتاتا ہے کہ حالات مشکل ہیں، کچھ اخراجات کم کرنے ہوں گے اور شاید چند مہینے زیادہ محنت کرنی پڑے۔
دونوں کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک اپنی پریشانی کو دیوار بنا لیتا ہے اور دوسرا اسے مل کر حل کرنے والا مسئلہ سمجھتا ہے۔
یہاں مجھے مرد کی اصل ذمہ داری نظر آتی ہے۔ اسے ہر مسئلے کا حل معلوم ہونا ضروری نہیں، مگر مسئلے سے بھاگنے کے بجائے اس کا سامنا کرنا آنا چاہیے۔ کبھی اسے فیصلہ کرنا ہوگا، کبھی کسی سمجھ دار شخص سے مشورہ لینا ہوگا اور کبھی اپنی غلطی تسلیم کر کے دوبارہ آغاز کرنا ہوگا۔
ہماری معاشرت میں اکثر مرد سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ کبھی کمزور نہ پڑے۔ وہ کمانے والا ہو، حفاظت کرنے والا ہو، ہر مشکل میں راستہ نکالے اور اپنی پریشانی کسی پر ظاہر نہ کرے۔
مگر مرد بھی انسان ہے۔ اسے بھی خوف آتا ہے۔ وہ بھی کبھی تھک جاتا ہے۔ بعض دن ایسے ہوتے ہیں جب اسے خود سمجھ نہیں آتی کہ آگے کیا کرنا چاہیے۔
ایسے وقت میں اپنی کیفیت بتا دینا بے بسی نہیں۔ اصل مشکل تو یہ ہے کہ آدمی اندر سے پریشان ہو اور باہر سے اتنا سخت ہو جائے کہ اس کے اپنے بھی اس کے قریب آنے سے گھبرانے لگیں۔
مضبوطی کا مطلب پتھر ہو جانا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
’’اصل طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث: 6114 | راوی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
اس فرمان میں میرے لیے ایک بہت اہم سبق ہے۔ غصہ تو ہر کسی کو آ سکتا ہے، مگر اس لمحے انسان کیا کرتا ہے، اس سے اس کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔ اختلاف کے دوران کسی کی عزت رکھ لینا، تلخ جواب دینے کی طاقت ہوتے ہوئے بھی اپنے الفاظ کا خیال کرنا، یہ سب آسان نہیں ہوتا۔
لیکن بات صرف غصے کی نہیں۔
کچھ لوگ غصہ نہیں کرتے، بس بولنا بند کر دیتے ہیں۔ دنوں ناراض رہتے ہیں، دل میں شکوے جمع کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرا خود ان کے دل کی بات سمجھ لے۔
کسی سے بات نہ کرنا کبھی وقتی ضرورت ہو سکتی ہے۔ انسان کو اپنے جذبات سنبھالنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ مگر جان بوجھ کر کسی کو بے چین رکھنا، معافی منگوانے کے لیے انتظار کروانا اور پھر اس انتظار سے اپنی اہمیت محسوس کرنا، رشتے کو کمزور کر سکتا ہے۔
کبھی سوچا ہے، ہم اپنے کسی دوست سے ناراض ہوں تو اسے منانے کے لیے کتنی کوشش کرتے ہیں، لیکن گھر میں اپنے ہی عزیز سے بات شروع کرنا مشکل کیوں لگتا ہے؟
شاید اس لیے کہ وہاں ہمیں محبت سے زیادہ اپنی انا کے ہار جانے کا ڈر ہوتا ہے۔
حالانکہ پہل کرنے کا مطلب ہمیشہ قصوروار ہونا نہیں۔ کبھی صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ہے، ’’ہم دونوں ناراض ہیں، مگر اس طرح کب تک رہیں گے؟‘‘
ہاں، ہر اختلاف میں ایک ہی شخص کو جھکنا پڑے تو یہ بھی انصاف نہیں۔ رشتہ دونوں طرف سے سنبھالا جاتا ہے۔ صلح کے لیے احترام ضروری ہے، اپنی عزت اور جائز حق قربان کرنا نہیں۔ جہاں ظلم یا تشدد ہو، وہاں خاموشی سے برداشت کرنے کے بجائے اپنی حفاظت اور مدد کو اہمیت دینی چاہیے۔
ایک اور بات ہے جس پر ہم کم غور کرتے ہیں۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ مرد عورتوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے اچھے لگتے ہیں۔ مگر آسانی کا مطلب کیا ہے؟
کیا صرف گھر کا خرچ دے دینا کافی ہے؟
رزق کمانا اور گھر کی ضروریات پوری کرنا یقیناً بڑی ذمہ داری ہے۔ بعض مرد اسی کوشش میں اپنی جوانی کے بہترین سال گزار دیتے ہیں۔ ان کی محنت کی قدر ہونی چاہیے۔ مگر گھر میں موجود عورت کی محنت، پریشانی اور تھکن بھی اتنی ہی حقیقی ہوتی ہے، چاہے اس کی کوئی تنخواہ نہ ہو۔
کبھی عورت کو کسی بڑے تحفے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے صرف اتنا چاہیے ہوتا ہے کہ اس کی بات غور سے سنی جائے، اس کی کوشش کی قدر ہو اور کسی مشکل وقت میں وہ خود کو اکیلا محسوس نہ کرے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہلِ خانہ کی خدمت میں مشغول رہتے تھے، اور نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث: 676 | روایت: حضرت الاسود، بحوالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
اس روایت میں کتنی سادہ اور اہم بات ہے۔ گھر والوں کا ہاتھ بٹانے سے مرد کی عزت کم نہیں ہوتی۔ کسی کی مشکل آسان کرنا احسان جتانے کا موقع نہیں، محبت اور ذمہ داری نبھانے کا ایک طریقہ بھی ہے۔
عورت کو اپنے فیصلوں میں شریک کرنا، اس کی رائے سننا، اس پر بے بنیاد شک نہ کرنا اور اسے احترام دینا بھی اسی اچھے برتاؤ کا حصہ ہے۔ اسی طرح مرد بھی اپنے گھر والوں سے محبت، قدر اور احترام کا حق رکھتا ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ ہم کبھی کبھی مردانگی کو دوسروں پر اختیار رکھنے سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ اپنی ذات پر اختیار رکھنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
ایک آدمی باہر سو لوگوں کے سامنے پُراعتماد ہو سکتا ہے، بڑے بڑے کاروباری فیصلے کر سکتا ہے، مگر اپنے بیٹے سے یہ کہنے کی ہمت نہ رکھتا ہو کہ کل اس نے اسے بلاوجہ ڈانٹا تھا۔
ایک شوہر اپنی بیوی کے لیے بہت کچھ خرید سکتا ہے، مگر اسے یہ تسلیم کرنا مشکل لگتا ہو کہ کسی معاملے میں اس کی بیوی کی رائے درست تھی۔
ایک بھائی اپنی بہن کی حفاظت کا دعویٰ کرتا ہو، مگر اس کی بات سنے بغیر اس کی زندگی کے فیصلے بھی خود کرنا چاہتا ہو۔
یہ تضاد عجیب نہیں لگتا؟
ہم اپنے پیاروں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، مگر کبھی انہیں اپنی ہی ناراضی، سختی اور فیصلوں سے پریشان کر دیتے ہیں۔
مرد کے کردار میں ہمت ہونی چاہیے، مگر ہمت کے ساتھ انصاف بھی۔ خودداری ہونی چاہیے، مگر خودداری اتنی سخت نہ ہو کہ انسان سچ تسلیم ہی نہ کر سکے۔ ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے، مگر اس احساس کے نام پر دوسروں کی آواز دبانا درست نہیں۔
اس رات جب وہ شخص دوسرے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا تھا، تو کچھ دیر بعد اس کی بیوی بھی خاموشی سے سو گئی۔
صبح اس نے دیکھا کہ میز پر بجلی کا بل، بچوں کی فیس کی پرچی اور چند ضروری اخراجات لکھے ہوئے ہیں۔ ساتھ ایک چھوٹا سا جملہ تھا:
’’میں اکیلے فیصلہ نہیں کرنا چاہتی، آپ کے ساتھ بیٹھ کر حل نکالنا چاہتی ہوں۔‘‘
وہ کافی دیر کاغذ کو دیکھتا رہا۔
اسے پہلی بار خیال آیا کہ شاید بیوی اس سے کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ وہ صرف یہ چاہتی تھی کہ جس زندگی کی ذمہ داری دونوں پر ہے، اس کی پریشانی بھی دونوں مل کر اٹھائیں۔
شام کو وہ گھر آیا تو کھانا کھانے سے پہلے اس نے وہی کاغذ میز پر رکھ دیا۔
’’آج اس پر بات کرتے ہیں۔‘‘
مسئلہ اس دن بھی مکمل حل نہیں ہوا۔ پیسوں کی کمی اپنی جگہ تھی، پریشانیاں بھی باقی تھیں۔ لیکن اس بار دونوں ایک دوسرے کے سامنے نہیں، ایک مسئلے کے سامنے بیٹھے تھے۔
اور شاید مردانگی کے بارے میں میری سوچ بھی اسی ایک منظر پر آ کر ٹھہرتی ہے۔
مرد اچھے فیصلے کرتے اچھے لگتے ہیں، مگر انہیں ہر فیصلہ اکیلے کرنا ضروری نہیں۔ مرد مضبوط اچھے لگتے ہیں، مگر انہیں ہر وقت مضبوط نظر آنا ضروری نہیں۔
بس ان کے کردار میں اتنی سچائی ضرور ہونی چاہیے کہ ان کے اپنے لوگ ان سے ڈرنے کے بجائے ان پر بھروسا کر سکیں۔
کیونکہ زندگی میں انسان کے بہت سے فیصلوں کو دنیا سراہتی ہے، مگر ایک فیصلہ ایسا بھی ہوتا ہے جس کا گواہ شاید کوئی نہیں بنتا:
جب آدمی اپنی انا کو بچانے اور اپنے رشتے کو سنبھالنے میں سے کسی ایک کو چنتا ہے۔
علامہ اقبالؒ نے ایک رہنما کی خوبیوں کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
علامہ محمد اقبالؒ، بالِ جبریل
اور شاید یہی ایک مرد کے کردار کا سب سے خوبصورت معیار بھی ہے کہ اس کی سوچ بلند ہو، اس کے الفاظ دل نہ توڑیں اور اس کے دل میں دوسروں کا درد محسوس کرنے کی صلاحیت زندہ رہے۔
کیونکہ مرد کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس کے سامنے کتنے لوگ جھکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر کتنے لوگ خود کو باعزت اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
واپس کریں