
(پشاور) تجزیہ خالد خان
پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام 30 نومبر 1967ء کو محض ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہیں ہوا تھا بلکہ یہ پاکستان کی سیاست میں ایک نئے نظریاتی عہد کا اعلان تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، کے چار بنیادی اصولوں کے ساتھ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا۔ اس منشور نے مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں اور محروم طبقات کو یہ امید دلائی کہ اقتدار اور وسائل پر چند خاندانوں کی اجارہ داری ختم کرکے عام آدمی کو اس کا حق دیا جائے گا۔
لیکن تقریباً چھ دہائیوں پر محیط پیپلز پارٹی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا پارٹی اپنی عملی سیاست میں اپنے بانی کے نظریے اور منشور کے ساتھ وفادار رہی، یا اقتدار کی ضرورتوں نے رفتہ رفتہ اس کی نظریاتی شناخت تبدیل کردی؟
ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے ہی اس تضاد کے آثار دکھائی دینے لگے تھے۔ صنعتوں، بینکوں اور بعض دوسرے بڑے شعبوں کو قومی تحویل میں لینا سوشلسٹ معیشت کی جانب بڑا قدم تھا، لیکن زرعی اصلاحات اس بنیادی نظریاتی وعدے کے مطابق آگے نہ بڑھ سکیں جس کا براہ راست تعلق جاگیردارانہ نظام کے خاتمے سے تھا۔ پارٹی نے ایسے بڑے زمینداروں اور بااثر طبقات کو بھی اپنے سیاسی نظام کا حصہ بنائے رکھا جن کے مفادات اس کے بنیادی طبقاتی نظریے سے متصادم تھے۔ دوسری طرف سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال، اختلاف رائے پر سختی اور 1977ء کے متنازع انتخابات نے جمہوریت کے دعوے کو بھی نقصان پہنچایا۔ یوں عوامی اقتدار کا نعرہ لگانے والی قیادت اپنے اقتدار میں سیاسی برداشت اور جمہوری رویوں کی مثالی تصویر پیش نہ کرسکی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی ایک بڑی تاریخی کامیابی 1973ء کا متفقہ آئین تھا، جس نے وفاقی پارلیمانی نظام کی بنیاد مضبوط کی۔ لیکن ان کی حکومت کے آخری دور میں یہی جمہوری اصول سیاسی مخالفین کے ساتھ طرزِ عمل اور انتخابات کی شفافیت کے سوالات کی زد میں آگئے۔ یہ تضاد پارٹی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
بینظیر بھٹو کے دور میں نظریاتی تبدیلی زیادہ نمایاں ہوئی۔ اپنے والد کی قومیانے کی پالیسی سے ہٹ کر پیپلز پارٹی نے نجی شعبے، نجکاری اور آئی ایم ایف کے معاشی پروگراموں کو قبول کرنا شروع کیا۔ 1988ء میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد آئی ایم ایف کے پروگرام کی توثیق اور بعد کے دور میں نجکاری و نجی بجلی گھروں کی پالیسی اس تبدیلی کی واضح مثالیں ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہر نجکاری یا نجی سرمایہ کاری لازماً غلط تھی، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی نے اپنے بنیادی معاشی نظریے سے اس بڑی تبدیلی پر کارکنوں اور عوام کو اعتماد میں لیا؟ کیا یہ تبدیلی کسی نئے نظریاتی اتفاق رائے کا نتیجہ تھی یا اقتدار اور معاشی مجبوریوں کے تحت اختیار کی گئی؟
2008ء سے 2013ء تک آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے ایک طرف مفاہمت کی سیاست اختیار کی، دوسری طرف اٹھارہویں آئینی ترمیم، ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور صوبائی خودمختاری جیسے اہم اقدامات کیے۔ یہ پارٹی کے قابلِ ذکر کارنامے ہیں اور ان کا اعتراف ضروری ہے۔ پہلی مرتبہ ایک منتخب جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کرکے اقتدار دوسری منتخب حکومت کو منتقل کیا۔ لیکن اسی دور میں بجلی کا بحران، گردشی قرضے، بدانتظامی، کرپشن کے الزامات اور حکومتی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھے۔ عوامی فلاح کے منشور کے مقابلے میں حکومتی نتائج کا جائزہ لیا جائے تو کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
اس کے بعد پارٹی کی قومی سیاست میں پوزیشن مزید تبدیل ہوئی۔ 2013ء اور 2018ء کے انتخابات میں قومی سطح پر اس کا کردار محدود ہوا، لیکن سندھ میں اقتدار برقرار رہا۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: جو جماعت وفاقی سطح پر صوبائی خودمختاری، عوامی حقوق اور جمہوریت کی علمبردار ہے، کیا اس نے سندھ میں تعلیم، صحت، روزگار، بلدیاتی خودمختاری اور بنیادی شہری سہولتوں کے میدان میں اپنے منشور کے مطابق نتائج دیے؟ سندھ میں مسلسل حکمرانی کے باوجود غربت، تعلیمی پسماندگی، صحت کی سہولتوں اور شہری انتظام کے مسائل پارٹی کی کارکردگی کے سنجیدہ سوالات ہیں۔
2022ء میں پی ڈی ایم کی حکومت میں شمولیت اور پھر 2024ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو اقتدار میں لانے اور پارلیمانی حمایت فراہم کرنے کا فیصلہ بھی اسی سیاسی سفر کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی نے 2024ء میں کابینہ میں شامل ہوئے بغیر حکومت کی حمایت کا راستہ اختیار کیا، جبکہ صدر مملکت کا عہدہ اور دیگر آئینی و سیاسی مفادات اس مفاہمت کا حصہ بنے۔ سیاسی استحکام کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس اتحاد نے عوام کو درپیش مہنگائی، بے روزگاری، معاشی ناہمواری اور بنیادی حقوق کے مسائل حل کرنے میں کوئی مؤثر کردار ادا کیا؟ اور کیا پارٹی نے اپنے انتخابی منشور کے وعدوں کو اتحادی سیاست میں بھی اسی اہمیت سے اٹھایا جس کے ساتھ انتخابی مہم میں پیش کیا تھا؟
2024ء کے منشور میں تنخواہیں دوگنی کرنے، غریب خاندانوں کو 300 یونٹ تک مفت بجلی، 30 لاکھ گھر، ملک بھر میں مفت صحت و تعلیم اور کسانوں و مزدوروں کے لیے کارڈز جیسے وعدے شامل تھے۔ ان وعدوں کا عملی نفاذ محض انتخابی تقریروں سے ثابت نہیں ہوتا۔ عوام کو ان کے لیے واضح منصوبہ، مالی وسائل اور قابلِ پیمائش نتائج درکار ہیں۔
پیپلز پارٹی کے نظریاتی انحراف کا دوسرا اور شاید زیادہ بنیادی پہلو خود پارٹی کے اندر جمہوریت کا فقدان ہے۔ جس جماعت نے عوامی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے نام پر سیاست شروع کی، اس کی قیادت مسلسل بھٹو خاندان کے گرد گھومتی رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بینظیر بھٹو، پھر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری۔ بلاول کی قیادت میں نئی نسل کو آگے لانے کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن پارٹی کی قیادت کا خاندانی تسلسل اور فیصلہ سازی میں چند افراد کی بالادستی اندرونی جمہوریت کے بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
پارٹی کے نظریاتی کارکن، جنہوں نے آمریتوں کا سامنا کیا، جیلیں کاٹیں، قربانیاں دیں اور عوام میں پارٹی کا پیغام پہنچایا، ان کے مقابلے میں دولت مند جاگیرداروں، بااثر خاندانوں اور انتخابی کامیابی کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا رجحان بھی قابلِ غور ہے۔ یہ صرف پیپلز پارٹی کا مسئلہ نہیں، لیکن اس جماعت کے لیے یہ تضاد زیادہ سنگین ہے کیونکہ اس کی بنیاد ہی طبقاتی استحصال اور اشرافیہ کی اجارہ داری کے خلاف رکھی گئی تھی۔ اگر نظریاتی کارکن پارٹی میں فیصلہ سازی اور قیادت تک نہیں پہنچ سکتا تو پھر عوامی جمہوریت کا دعویٰ کس بنیاد پر قائم رہے گا؟
پیپلز پارٹی کی تاریخ میں قربانیاں بھی ہیں، جمہوری جدوجہد بھی، آئینی کامیابیاں بھی اور عوامی فلاح کے قابلِ ذکر اقدامات بھی۔ لیکن ان کامیابیوں کو بنیاد بنا کر ہر انحراف کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح سیاسی مجبوری، اتحادی سیاست اور ریاستی دباؤ کو سمجھے بغیر ہر سمجھوتے کو نظریاتی غداری قرار دینا بھی درست نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پارٹی نے کن اصولوں پر سمجھوتہ کیا، کیوں کیا، اس کے بدلے عوام کو کیا ملا اور کیا ان فیصلوں کا کبھی کارکنوں اور ووٹروں کے سامنے جواب دیا گیا؟
سیاسی جماعتوں کی اصل پہچان ان کے قائدین کے نام، انتخابی نشان یا جلسوں کے نعروں سے نہیں بلکہ ان کے منشور، فیصلوں اور عملی کردار سے ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کو بھی اسی میزان پر تولا جانا چاہیے۔ اگر روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دینے والی جماعت کے دور میں عام آدمی بنیادی ضروریات سے محروم رہے، اگر عوامی جمہوریت کی دعویدار جماعت کے اندر قیادت خاندانی وراثت بن جائے اور اگر سوشلزم کا دعویٰ کرنے والی جماعت جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ انتخابی مفادات کی محتاج ہوجائے تو پھر سوال اٹھانا کسی سیاسی مخالفت کا اظہار نہیں بلکہ جمہوری احتساب کا تقاضا ہے۔
منشور اقتدار حاصل کرنے کا وسیلہ نہیں، اقتدار میں رہتے ہوئے اپنے کردار کا احتساب کرنے کا پیمانہ بھی ہوتا ہے۔
واپس کریں