
ملکِ خداداد میں سیاست، وراثت، خباثت، قباحت اور حراست جیسے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، ویسے ہی سینہ بہ سینہ بعض عوامی عاداتِ نیک و بد بھی منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ میں اس کیڑے جتنا بےوقوف نہیں ہوں کہ صبح سویرے سویرے اٹھ کر کسی پرندے کا رزق بنوں اور نہ ہی اس طائرِ لاہوتی کی طرح نتائج سے بےپرواہ ہوں کہ کیڑے کے چکر میں کسی شکاری کے شوق کی سولی پر چڑھوں۔ میں زمانۂ طالب علمی سے اس وقت جاگنے کا عادی ہوں جس وقت باکردار مسلمان قیلولہ فرماتے ہیں۔ اسی دوپہر خیزی کی وجہ سے میرے بہت سے اساتذہ، جو سویرے کلاسز لیتے تھے، اتفاقاً کسی محفل میں ملتے ہیں تو ہم جانبین ایک دوسرے کو قلب ہی قلب میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ نہ کبھی میں نے ان کے درشن کیے تھے اور نہ ہی کبھی انہیں ہمارا دیدار نصیب ہوا تھا۔ پیارے کی دید البتہ اس سے بالکل الٹ معاملہ تھا۔ اس کے بغیر تو ہمارے آدھے دن کی شروعات ہی نہیں ہوتی تھی۔ پیارے ہمارے جامعہ پشاور کے ہاسٹل نمبر 2، جسے رحمن بابا ہاسٹل بھی کہا جاتا تھا، میں صفائی ستھرائی پر مقرر تھے۔ ہمارے ونگ ویٹر آدم خان ہمارا ناشتہ کمرے میں رکھ کر جاتے تھے۔ میرے اٹھنے اور پیارے کے کام سے فراغت کے اوقات یکساں تھے۔ جتنی دیر میں ہم تیار ہو کر آتے، اتنی دیر میں پیارے ناشتہ گرم کر چکے ہوتے اور ہم دونوں مل کر تناول فرماتے۔ پیارے کم گو واقع ہوئے تھے، لہٰذا ناشتے پر زیادہ تر خاموشی رہتی۔ ایک دن اچانک پیارے کا تبادلہ ہوا اور ان کی جگہ دلاور مسیح مقرر ہوئے۔ ہمارا مشترکہ ناشتے کا سلسلہ ایک دن کے لیے بھی نہیں ٹوٹا۔ ہمیں پرانے پی ٹی وی کے ’’انتظار فرمائیے‘‘ کے وقفے کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پیارے نے گویا ہماری جنم کنڈلی دلاور مسیح کو منتقل کی تھی۔ دلاور مسیح یا تو بہت زیادہ باتونی تھے یا پیارے نے اپنی کم گوئی کی کسر پوری کرنے کے لیے کوئی ہدایات دی تھیں، یہ رام جانے یا ہاسٹل نمبر 2 کا بوٹا بوٹا اور جامعہ پشاور کا باغ۔
دلاور مسیح نے پہلے دن ہی چائے کا پہلا گھونٹ لے کر ہمیں نصیحت کی کہ پڑھائی میں کچھ بھی نہیں رکھا ہے اور میرے لیے بہتر یہ ہوگا کہ کوئی کاروبار شروع کروں۔ شراکت پر کاروبار کے لیے اس نے ایک مجرب نسخہ پیش کیا۔ نوالہ توڑتے ہوئے کہا، ’’خالد بھائی، اس شیرپاؤ ہسپتال پر مریضوں کا بڑا رش ہوتا ہے اور ہر مریض کے پاس کم از کم چار تیماردار ہوتے ہیں، جبکہ درجن بھر لوگ روزانہ عیادت کے لیے آتے ہیں۔ یہ سارے لوگ ہسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر قائم نعمت کدے سے پیٹ پوجا کرتے ہیں اور ہاتھ دھونے سے پہلے زور سے رفع حاجت کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اور کیوں نہ کریں کہ جراثیم سے بھرپور کھانا کھاتے ہیں۔ اب خالد بھائی، سوچو۔ رفع حاجت زور سے آئی ہو اور رفع حاجت کے لیے جگہ میسر نہ ہو تو کیا گزرتی ہے انسان پر۔ وہ تو بلیک میں بھی ٹٹی کے لیے ٹوکن لے گا۔ اگر ہم دونوں بھائی مل کر ہسپتال کے آزو بازو میں تین ٹٹیاں بھی بنائیں تو روز ہزاروں کا فائدہ۔ پیسے آپ لگاؤ، تعلقات لڑا کر سرکار سے اجازت لو اور انتظام میں سنبھالوں گا۔ لیکن میری ایک شرط ہے، ابھی سے بتائے دیتا ہوں۔‘‘
میں نے کہا، ’’جی، میں ہمہ تن گوش ہوں۔‘‘
دلاور مسیح نے کہا، ’’ایک تو چھوٹے بڑے پیشاب کا چکر نہیں ہوگا، بس باٹا شوز کی طرح ایک ہی فکسڈ ریٹ ہوگا، اور دوسرا میرا سگا باپ بھی آئے، بغیر ٹوکن کے نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
میں نے کہا، ’’دلاور مسیح، آئیڈیا برا نہیں، مگر ٹٹیوں کے نکاس کے لیے بڑا لمبا نالا بنانا پڑے گا۔ خرچہ بہت زیادہ آئے گا۔‘‘
اگلے دن ناشتے پر دلاور مسیح نے ایک متبادل تجویز دی۔ لیکن اس تجویز سے پہلے اس نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کی بات کی، جو گزشتہ تین نسلوں سے سیاست میں ہے اور ہر اسمبلی میں ان کے گھر سے ایک منتخب رکن بیٹھتا ہے۔ اس نے زور دے کر کہا، ’’پنڈی میں کسی سے بھی پوچھ لو۔‘‘ اس خاندان کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔
’’پتہ ہے، خالد بھائی، اس کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘ دلاور مسیح نے مجھے مخاطب کرکے کہا۔
میں نے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم، آپ ہی بتا دو، دلاور بھائی۔‘‘
دلاور نے میرے علم میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ انگریز سرکار کے زمانے میں ان کے پردادا کی راجہ بازار میں ایک ٹٹی تھی۔ انگریزوں کے جاتے ہی ملاوٹ بڑھی اور ہاضمے کی شکایات عام ہونے لگیں۔ اللہ نے ان کی ٹٹیوں میں بھی برکت دی اور آج پورے پنڈی میں ان کی 35 ٹٹیاں ہیں۔ اس کے بعد دلاور مسیح نے باقاعدہ ان کے منافع کا حساب کتاب کیا، جو لاکھوں روپے روز کا بنتا تھا۔ دلاور مسیح نے کہا، ’’خالد بھائی، ہوشیار لوگ تھے۔ کاروبار میں ترقی کے لیے سیاست میں داخل ہوئے اور سیاست میں آ کر دونوں ہاتھوں سے کمایا۔ سیاست نے دو فائدے دیے۔ کمائی اور اس دھن دولت کا تحفظ۔ ایسے ہوتے ہیں کامیاب لوگ۔ خالد بھائی، قدم بڑھاؤ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ بناؤ تین ٹٹیاں اور بن جاؤ وزیر۔‘‘
اور میں نے ایک مناسب جگہ بھی ڈھونڈی ہے۔ ریتی بازار میں جو گندا نالا ہے، اس کے اوپر ہی تین ٹٹیاں بناتے ہیں۔ صرف کموڈ لگانا ہوگا، گند خود بخود نالے میں جائے گا۔ اور خالد بھائی، زمین کی بھی ضرورت نہیں، بس کارپوریشن والوں سے نالے کے اوپر ٹٹیاں بنانے کی این او سی لو۔ پھر دیکھنا، کم خرچ اور بالانشین کے فیوض۔ اتوار کے اتوار جھنڈے والی گاڑی میں آ کر مجھ سے پیسے لینا۔‘‘
میں نے کہا، ’’دلاور مسیح بھائی، آئیڈیا تو برا نہیں، مگر یہ وزارت تک بذریعہ ٹٹی پہنچنا کچھ عجیب سا لگتا ہے۔‘‘
دلاور نے بڑے دانشمندانہ انداز میں کہا، ’’یار خالد بھائی، ٹٹی ہی تو کرنی ہے یا پارلیمنٹ میں اور یا ریتی بازار میں۔‘‘
واپس کریں