خالد خان۔ کالم نگار
علامہ اقبالؒ کے خواب پر بننے والی اس خوابیدہ مملکت میں جاگتے سوتے خواب دیکھنا ہی واحد قومی مشغلہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خواب بھی اس ملک میں انسانوں کی طرح دو طبقات میں منقسم ہیں۔ غریب کے خواب میں چودھویں کا چاند روٹی جیسا دکھتا ہے اور امیر اسی چاند پر ہنی کے ساتھ مون مناتا ہے۔
میں بھی خواب دیکھتا ہوں، بلکہ کچھ زیادہ ہی دیکھتا ہوں۔ کثرتِ خواب بینی سے ہم علامہ اقبال صاحب تو نہیں بن سکے، البتہ گناہ گار دوستوں کی صلاح ہے کہ کسی حکیم صاحب سے رابطہ کیا جائے کہ یہ ’’خرابیِ پیٹ و معدہ‘‘ کی واضح علامات ہیں۔ البتہ بزعمِ خود میں مبتلا پارسا احباب اسے شیطانی فعل قرار دیتے ہیں۔ خواب وہی ہیں، لیکن تعبیریں الگ الگ۔ اقبال کو خواب نے شاعرِ مشرق بنا دیا، جبکہ ہم جیسے فقیر کو خواب دیکھنے کی عادت نے شعائرِ شیطانی سے فیض یاب کیا، جبکہ نقصِ مقعد کا الزام الگ سے دھر لیا گیا۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم فاقہ زدگی کے باوجود قیلولہ فرما رہے تھے کہ خواب کا نزول ہوا۔ ہمارے قبضے میں عمران خان، طاہرالقادری اور سہیل آفریدی کے کنٹینر سے بھی دوگنا تگنا بڑا ٹرک ہے۔ ہم دلہے کی طرح سجے سجائے ٹرک کی چھجے پر کھڑے ہو کر دائیں بائیں ہاتھ ہلا رہے ہیں، لیکن نہ کوئی بندہ ہے اور نہ بندے کی ذات۔ وہی انسانوں سے ابلتا ہوا شہر جادو نگری، جنات کی بستی اور شہرِ خموشاں لگ رہا تھا۔ ہم نے بھی ہلتے جلتے ہاتھوں کو مخصوص زاویے دے کر کتھک رقص میں بدل دیا۔
ٹرک میں آٹے اور قیمتی معدنیات کی بوریاں بھری ہوئی تھیں، جبکہ تقسیم کے لیے رضاکار بھی موجود تھے۔ ہم نے بذاتِ خود پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک مفلوک الحال انسان نما آدمی اندر سے برآمد ہوا۔ ہمارے رضاکار نے اسے زمرد کی بوری پیش کی اور کہا کہ یہ آپ کے صوبے خیبرپختونخوا کی زمین سے اگلی ہے، اپنا حصہ قبول فرمائیے۔ اس آدمی نے کہا کہ غریبوں کا مذاق اڑانا بہت بڑا پاپ ہے۔ میں نے زمرد کا کیا کرنا ہے؟ مجھے آٹے کا تروڑا چاہیے۔
ہمیں دل ہی دل میں اس کے تقاضے پر افسوس ہوا۔ جس بوری کی قیمت سے وہ غلے سے لدے ہوئے ہزار اونٹ خرید سکتا تھا، اس کا سودا اس نے ایک تروڑے آٹے پر کیا۔ شام تک ہم سے کسی نے بھی زمرد، گارنیٹ، کوارٹز، پکھراج، ایکوامیرین، ٹورملین، یاقوت، نیلم، زبرجد، ایپیڈوٹ، ایکٹینولائٹ، کورنڈم، ایکسینائٹ، کلینوزوئسائٹ، سفین، اسکیپولائٹ، ژینوٹائم اور باسٹنیسائٹ جیسی قیمتی معدنیات نہیں لیں اور ہر ایک نے آٹے کا تقاضا کیا۔
ان تمام احمق لوگوں میں واحد ایک دانا شخص تھا جس نے آٹے کے بدلے یورینیم قبول کیا۔ سنا ہے، یورینیم کی چپاتیاں کھا کر اب وہ تمام بھوکی مخلوق پر حکمرانی کر رہا ہے اور ان کے گھر کی ٹوٹی پھوٹی چیزیں بکوا کر آن لائن مرغن غذائیں منگوا رہا ہے۔ دروغ بر گردنِ راوی کہ ایک چھٹانک یورینیم دور پار کے ایک پنڈ کے چودھری کو فروخت کرکے اپنا جہاز لیا ہے اور ناشتہ، لنچ اور ڈنر روزانہ تین مختلف ممالک میں تناول فرما رہا ہے۔
ہم معدنیات سے بھرے اور آٹے سے خالی ٹرک میں جب واپس آ رہے تھے تو راستے میں ایک کچھوے نے لفٹ مانگی۔ ہم نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرکے اسے نشست پیش کی۔ استفسار پر پتا چلا کہ اس کا خرگوش سے دوڑ کا مقابلہ تھا۔ خرگوش اپنی تیز رفتاری پر نازاں تھا، جس طرح پٹھان اپنی غیرت پر متکبر ہوتے ہیں، اور کچھوے کو حقیر سمجھتا تھا، جیسے ہم پٹھان بعض اقوام کو گالی سمجھتے ہیں۔ اسی زعم میں مبتلا خرگوش نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ ایک جست مار کر وہ کچھوے سے پہلے منزل پر پہنچ جائے گا۔
یقین جانیے، مجھے پہلی مرتبہ ’’خوابِ خرگوش‘‘ کے معنی سمجھ آئے، جب یہ قصہ سننے کے بعد ہم اس مقام پر پہنچے جہاں خرگوش ایک درخت کے سائے میں گہری نیند سویا ہوا تھا۔ ہمارے ٹرک کے ہارن سے وہ جاگ اٹھا۔ مجھے پٹھانوں سے برتر لگا۔ ہم تو صورِ اسرافیل سن کر جاگیں گے، مگر تب قیامت ہوگی۔
میں نے خرگوش سے کہا کہ تمہیں پتا ہے، تم ہمارے پٹھانوں کے کزن ہو، مگر تمہارے نام کی وجہ سے ہم تمہارے ساتھ رشتہ داری چھپا رہے ہیں۔
خرگوش نے حیرت سے کہا کہ ہمارے نام میں کون سا ایسا نقص ہے کہ تم پٹھان شرم محسوس کرتے ہو؟
میں نے کہا کہ خر کا مطلب ہے گدھا اور گوش کا مطلب ہے کان۔ خر، یعنی گدھا، ایک بےوقوف اور بےشرم جانور ہے اور لمبے لمبے کانوں سے بجائے نصیحت سننے کے اپنے کان لپیٹتا ہے۔ تم بھی وہی خصلتیں رکھتے ہو، اس لیے تو ہم انسانوں نے تمہارا یہ نام رکھا ہے۔
خرگوش کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ بولا، ارے بڑے بھائی، کیا ہوا کہ شکلیں نہیں ملتیں، عادتیں اور اطوار تو ایک جیسے ہیں۔ رہی بات کچھوے کے ساتھ دوڑ کی، تو دنیا جانتی ہے کہ ہم بجلی ہیں اور کچھوا سانس سے بھی کم رفتار سے حرکت کرتا ہے۔ ہمارا اور اس کا کیا مقابلہ؟ ہم تو محض دل پشوری کر رہے تھے۔
ہم اتنے زور سے چلائے کہ کھانسی کا دورہ پڑا۔ کھانسی رکی تو میں نے کہا، اے بےوقوف، تم اگر بروقت منزل پر پہنچتے تو تمہیں آٹے کا تروڑا ملتا۔
کچھوے نے فلسفیانہ شکل بناتے ہوئے کہا، اے بےوقوف انسان، اپنے دشمن گندم کو پہچانو۔ اسی گندم نے تمہیں جنت سے نکلوایا اور اسی گندم کے لیے تم دنیا میں بھی ذلیل ہو رہے ہو۔ شکر ہے کہ ہم گھاس کھاتے ہیں، گھاس خور ہیں۔ اور جہاں تک خرگوش برادری کی قومی دولت اور مفادات کی بات ہے، تو وہ ہم تم پٹھانوں سے بہتر کرتے ہیں۔ دیکھو، ہماری گھاس آج بھی محفوظ ہے، اگرچہ تمہارے ایک ہر دل عزیز وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہم گھاس کھائیں گے، لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ تم انسانوں کو بم بارود مرغوب ہیں تو سو کھاتے کھلاتے رہو۔ ہمیں گھاس عزیز ہے، ہم جانیں اور اپنی گھاس کا تحفظ۔
واپس کریں