مفتی محمود مرکز کی ممکنہ مسماری اور ریاستی فیصلوں میں سیاسی بصیرت کا فقدان
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی نگرانی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قائم ہونے والا انتظامی بندوبست اپنے بعض فیصلوں کے باعث نئے مسائل سے دوچار ہو سکتا ہے۔ صوبے کو درپیش بحرانوں، ریاستی ترجیحات اور انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو تجاوزات کے خلاف صوبہ گیر آپریشن اور غیرقانونی رکشوں کے خلاف مجوزہ کارروائی ایسے معاملات ہیں جن کے وقت، تیاری اور ممکنہ سیاسی و معاشی نتائج پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا بنیادی جواز امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے اختلافات کو بنایا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت پر وفاق اور ریاستی اداروں کے ساتھ عدم تعاون، پالیسی اختلافات اور دہشت گردوں کی مبینہ سہولت کاری جیسے الزامات بھی زیرِ بحث رہے۔ صوبائی حکومت کی مبینہ بدانتظامی، کرپشن اور گزشتہ تیرہ برس کے حکومتی نظام پر ریاستی تحفظات بھی اس پس منظر کا حصہ تھے۔ عوام کی توقع تھی کہ اس غیرمعمولی انتظامی مداخلت کے بعد سب سے پہلے انہی مسائل پر ٹھوس اور قابلِ پیمائش پیش رفت دکھائی جائے گی جنہیں اس کا بنیادی جواز بنایا گیا تھا۔
دوسری طرف عوام کو مہنگائی، غربت، بے روزگاری، آٹے، ایل پی جی اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں، بجلی کی طویل بندش اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کا مؤثر تدارک اور عام شہری کی روزمرہ زندگی میں بہتری انتظامی ترجیحات میں نمایاں مقام رکھنے چاہییں۔
گورنر راج کے قیام کے بعد اب تک عوام کے سامنے آنے والی معلومات میں دہشت گردی کے خلاف کسی نئی جامع پالیسی یا نمایاں پیش رفت کی واضح تصویر سامنے نہیں آئی۔ کرک میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی عمران الدین اور ان کے چار ساتھیوں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت، لنڈی کوتل پریس کلب میں نقاب پوش افراد کا داخلہ اور باجوڑ سمیت مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے امن و امان کی صورتِ حال پر سوالات مزید سنگین کر دیے ہیں۔
اسی پس منظر میں بارہ متاثرہ اضلاع کے لیے قائم ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے نائب چیئرمین ملک خان مرجان کی جانب سے افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ قبائلی جرگے کے ذریعے مذاکرات پر زور دینے سے متعلق اطلاعات بھی توجہ طلب ہیں۔ ناقدین اس مؤقف کو پی ٹی آئی کی سابقہ پالیسی سے قریب سمجھتے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر سابقہ صوبائی حکومت کی امن و امان کی پالیسی پر اعتراضات گورنر راج کے جواز کا حصہ تھے تو نئے انتظامی بندوبست نے دہشت گردی کے تدارک کے لیے کون سی واضح حکمتِ عملی اختیار کی ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟
اس صورتِ حال میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے تجاوزات کے خلاف صوبہ گیر کارروائی کا اعلان ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ 20 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پشاور رنگ روڈ پر گڑھی قمر دین اور ٹول پلازہ کے قریب 120 سے زیادہ دکانیں، مارکیٹیں اور دوسری تعمیرات مسمار کی جا چکی تھیں۔ انتظامیہ کے مطابق کارروائی کا مقصد سرکاری زمین واگزار کرانا، سڑکوں کی چوڑائی بحال کرنا اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانا ہے۔ تاہم دستیاب معلومات سے صوبے بھر میں مسمار کی گئی تعمیرات، متاثرہ کاروباروں اور مالی نقصانات کا مکمل مستند حساب سامنے نہیں آتا۔
سرکاری زمین واگزار کرانا اور قانون کی عمل داری قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن کسی آپریشن کی کامیابی صرف مسمار کی جانے والی تعمیرات کی تعداد سے نہیں ناپی جا سکتی۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ متعلقہ سرکاری اداروں نے غیرقانونی تعمیرات کو قائم ہونے سے روکنے کے لیے گزشتہ برسوں میں کیا اقدامات کیے۔ اگر سرکاری اہلکاروں کی غفلت یا ملی بھگت سے تجاوزات قائم ہوئیں تو ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ برسوں سے قائم کاروباروں کی مسماری سے لوگوں کی جمع پونجی، روزگار اور خاندانوں کے معاشی سہارے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر انتظامی غفلت کے باعث یہ صورتِ حال پیدا ہوئی تو اس کی تمام قیمت عام شہریوں سے وصول کرنا بھی جواب طلب معاملہ ہے۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی کی قانونی حیثیت کے ساتھ اس کے وقت اور ترجیحات پر غور بھی ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، امن مذاکرات کے متنازع تصورات اور گورنر راج کے سیاسی اثرات کے باعث حساس صورتِ حال سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں وسیع پیمانے پر مسماری، خصوصاً مذہبی اور سیاسی اہمیت کے حامل مقامات پر کارروائی، انتظامیہ کے لیے ایک نیا محاذ کھول سکتی ہے۔
اس معاملے کا سب سے حساس پہلو پشاور رنگ روڈ پر واقع مفتی محمود مرکز کی ممکنہ مسماری ہے، جو جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سیکریٹریٹ کے طور پر معروف اور مولانا فضل الرحمٰن کے مرحوم والد مفتی محمود کے نام سے منسوب ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق مرکز کے ایک حصے کو مبینہ تجاوزات میں شامل قرار دیتے ہوئے مسماری کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں نوٹس کی اصل عبارت، متعلقہ زمین کی قانونی حیثیت اور انتظامیہ کے حتمی فیصلے کی تصدیق ضروری ہے، کیونکہ نوٹس جاری ہونا اور مسماری کا حتمی حکم صادر ہونا دو الگ باتیں ہیں۔
عام مسلمان مسجد کو خدا کا گھر سمجھتا ہے اور اس کے تقدس کے معاملے میں غیرمعمولی حساسیت رکھتا ہے۔ مفتی محمود مرکز مسجد نہیں، لیکن اس کی نسبت ایسے مذہبی و سیاسی رہنما سے ہے جنہیں جمعیت علمائے اسلام کے کارکن اور مذہبی حلقے انتہائی عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی اپنے حلقۂ عقیدت میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ اس لیے معاملہ محض ایک عمارت یا زمین کا نہیں؛ اس کے ساتھ مذہبی و سیاسی شناخت، تاریخی وابستگی اور کارکنوں کے جذبات بھی جڑے ہوئے ہیں۔
مرکز سے وابستہ مدارس کے نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور عقیدت مندوں کا ممکنہ ردِعمل کسی عام تجارتی عمارت کے معاملے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اگر وہ ممکنہ مسماری کو اپنی مذہبی و سیاسی وابستگی کی توہین سمجھیں تو احتجاج اور مزاحمت کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان تصادم پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
اگر احتجاج کے دوران مزاحمت ہو، انتظامیہ طاقت استعمال کرے اور معاملہ فائرنگ یا براہِ راست تصادم تک پہنچ جائے تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ خونریزی احتجاج میں شدت، مذہبی جذبات میں اشتعال اور سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ یوں ایک انتظامی کارروائی بڑے سیاسی اور امن و امان کے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ نتیجہ ناگزیر نہیں، لیکن اس کے امکان کو نظرانداز کرنا بھی دانش مندی نہیں ہوگی۔
اسی لیے ضروری ہے کہ کسی حتمی کارروائی سے پہلے قانونی حیثیت کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے، متعلقہ فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور جہاں قانون اجازت دیتا ہو وہاں مذاکرات اور قانونی متبادل پر غور کیا جائے۔ قانون کی عمل داری اور انسانی جانوں کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ سیاسی بصیرت کا تقاضا یہی ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے غیرضروری تصادم سے بچنے کی پوری کوشش کی جائے۔
اسی انتظامی مہم کے ساتھ غیرقانونی رکشوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ 23 اکتوبر کو پشاور میں ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق اجلاس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی کو بتایا گیا کہ شہر میں ایک لاکھ سے زیادہ رکشے چل رہے ہیں، جبکہ تقریباً 23 ہزار رجسٹرڈ ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ رکشوں کی رجسٹریشن 2016 سے نہیں ہو رہی، جبکہ رجسٹریشن محکمہ ایکسائز اور روٹ پرمٹ جاری کرنا محکمہ ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری ہے۔ گورنر نے متعلقہ محکموں کو رجسٹریشن اور روٹ پرمٹ کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔
رکشہ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی گلبر خان کے مطابق رکشہ مالکان برسوں سے ایکسائز کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن رجسٹریشن کا نظام بند ہونے کے باعث انہیں دستاویزات مکمل کرنے کا مؤثر طریقۂ کار فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بیشتر رکشہ ڈرائیور غریب اور دیہاڑی دار ہیں، جو روزانہ تقریباً 1,500 سے 2,000 روپے کما کر اپنے خاندانوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے رجسٹریشن بحال کی جائے، روٹ پرمٹ کا نظام بنایا جائے اور مالکان کو دستاویزات مکمل کرنے کے لیے کم از کم تین ماہ کی مہلت دی جائے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ رجسٹریشن کا راستہ کھولے بغیر رکشے ضبط کیے گئے تو یونیورسٹی روڈ، جی ٹی روڈ اور متعلقہ سرکاری دفاتر کے سامنے احتجاج اور دھرنے دیے جا سکتے ہیں۔
یہاں بھی بنیادی سوال سرکاری ذمہ داری کا ہے۔ اگر رجسٹریشن کا نظام واقعی 2016 سے بند ہے تو متعلقہ محکموں نے اس دوران متبادل طریقۂ کار کیوں فراہم نہیں کیا؟ شہریوں کو رجسٹریشن اور روٹ پرمٹ کے حصول کا قابلِ عمل راستہ نہ دیا جائے اور بعد میں انہی دستاویزات کی عدم موجودگی پر ان کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیا جائے تو یہ محض ٹریفک مینجمنٹ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انتظامی جواب دہی اور معاشی انصاف کا سوال بن جاتا ہے۔
پشاور میں ٹریفک کا دباؤ اور غیرمنظم رکشوں کی آمدورفت حقیقی مسائل ہو سکتے ہیں۔ ان کے حل کے لیے قانون کی عمل داری ضروری ہے، لیکن رجسٹریشن کے نظام کی مبینہ بندش اور روٹ پرمٹ کے مؤثر طریقۂ کار کی عدم موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو پہلے قواعد واضح کرنے، رجسٹریشن بحال کرنے، دستاویزات کی تکمیل کے لیے مناسب مہلت دینے اور شہریوں کو قابلِ عمل طریقۂ کار فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد قانون کے مطابق یکساں کارروائی کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر غریب ڈرائیوروں کے روزگار کو نقصان پہنچنے اور احتجاج کے باعث ٹریفک کی صورتِ حال مزید خراب ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔
تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، مفتی محمود مرکز کی ممکنہ مسماری اور غیرقانونی رکشوں کے خلاف مجوزہ اقدامات بظاہر الگ معاملات ہیں، لیکن ان سب میں ایک مشترک سوال موجود ہے: کیا انتظامیہ مسائل کی بنیادی وجوہات دور کر رہی ہے یا ایسی کارروائیاں کر رہی ہے جن سے نئے تنازعات پیدا ہونے کا خطرہ ہے؟ سرکاری زمین پر قبضہ ختم کرنا، ٹریفک منظم کرنا اور قانون کی عمل داری قائم کرنا ریاستی ذمہ داریاں ہیں۔ تاہم ان مقاصد کے حصول کے لیے انتظامی تیاری، سرکاری اہلکاروں کی جواب دہی، متاثرہ افراد کے مسائل اور ممکنہ ردِعمل کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کا بنیادی جواز دہشت گردی کا تدارک، امن و امان کی بحالی، حکومتی بدانتظامی کی اصلاح اور قانون کی عمل داری قائم کرنا بتایا گیا تھا۔ عوام کو سب سے پہلے انہی محاذوں پر ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج دکھائی دینے چاہییں۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی اور ٹریفک کی بہتری اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بحالی کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اگر انتظامیہ کی توجہ مسماری، رکشوں کی پکڑ دھکڑ اور ممکنہ تصادم پر مرکوز ہو جائے، جبکہ دہشت گردی اور عوام کے بنیادی مسائل بدستور موجود رہیں، تو نئے انتظامی بندوبست کی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی، معاشی مشکلات اور سیاسی کشیدگی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ مفتی محمود مرکز کی ممکنہ مسماری مذہبی و سیاسی جذبات کے باعث تصادم کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ رجسٹریشن کے قابلِ عمل نظام کے بغیر رکشوں کے خلاف سخت کارروائی ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو متاثر کرنے اور احتجاج کا سبب بن سکتی ہے۔ ریاستی بلوغت کا تقاضا یہ ہے کہ قانون کی عمل داری کے ساتھ سیاسی بصیرت، انتظامی جواب دہی اور انسانی جانوں کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔
ریاست کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کسی عمارت کو مسمار کر سکتی ہے یا کسی گاڑی کو سڑک سے ہٹا سکتی ہے؛ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ قانون نافذ کرتے ہوئے مسائل کی بنیادی وجوہات دور کرے، اپنی انتظامی ناکامیوں کی ذمہ داری متعین کرے، غیرضروری محاذ آرائی سے بچے اور عوام کو امن، روزگار اور بہتر زندگی کی صورت میں قابلِ پیمائش نتائج دے۔ غیرمعمولی انتظامی اختیارات اسی وقت عوامی اعتماد میں تبدیل ہو سکتے ہیں جب ان کا استعمال واضح ترجیحات، منصفانہ طریقۂ کار اور دوراندیش فیصلوں کے ساتھ کیا جائے۔ ورنہ مسائل حل کرنے کے لیے قائم کیا گیا انتظامی بندوبست خود نئے بحرانوں کا سبب بن سکتا ہے۔
واپس کریں