خالد خان۔ کالم نگار
جب قانون اور اس کا اطلاق ہر کسی پر یکساں نہ ہو تو جہاں وہ اخلاقی جواز کھو دیتا ہے، وہاں اس کی افادیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ سرکاری زمینوں پر قبضہ، تجاوزات اور بعض مثالوں میں اس پر قبضہ گیری کے لیے مساجد و مدارس کی تعمیر کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا میں جب جب بھی تباہ کن سیلاب آئے ہیں تو پانی کے راستوں میں طاقتور لوگ اور حکومت تعمیرات کرنے میں یکساں قصوروار ٹھہرے ہیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ سرکار نے تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز، دینداروں نے مساجد و مدارس، طاقتور کاروباری طبقے نے ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور عام لوگوں نے برساتی ندی نالوں پر تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ دیہاتوں اور شہروں میں یہی عام روش ہے۔ ایسی زمینوں کی واگزاری اور تعمیرات گرانا بالکل قانونی اور ضروری ہے۔ مگر یہ اتنا سیدھا اور آسان معاملہ بھی نہیں ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس کا جائزہ ضروری ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی اور مرکزی حکومتیں رہی ہیں۔ پارٹی کے گورنر بھی تعینات رہے ہیں۔ کیا پیپلز پارٹی کے دور میں ناجائز قبضے نہیں ہوئے ہیں؟ کیا مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت میں یہی عمل کثرت کے ساتھ دہرایا نہیں گیا ہے؟ کون سی ایسی سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے دورِ اقتدار میں اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھوئے ہو؟ یہ مسئلہ ہی سیاسی جماعتوں کا پیدا کردہ ہے۔ دیر آید درست آید، گورنر فیصل کریم کنڈی نے تجاوزات کے خلاف عملی اقدامات کا آغاز کر دیا، اگرچہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں ہے بلکہ اوپر سے جاری کردہ احکامات ہیں۔ یہاں بنیادی طور پر پہلا اور شدید سوال یہ ہے کہ قانونی اور غیر قانونی قبضوں کی تعریف اور تشریح کیا ہے؟ وہ جائیدادیں تو یقیناً غیر قانونی ہیں جو نہ تو قابضین کی پدری جائیدادیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس ملکیتی کاغذات اور تعمیرات کے قانونی اجازت نامے ہیں۔ ایسے تمام افراد اور جائیدادوں کے خلاف بلاتفریق تیز ترین کارروائیاں ہونی چاہییں۔ مگر ان جائیدادوں کے بارے میں کیا پالیسی ہے کہ جن کے پاس انتقالات اور تعمیرات کے اجازت نامے موجود ہیں اور جو عشروں سے قائم ہیں۔ وہ برابر ٹیکس بھی دیتے رہے ہیں اور سرکار کی تمام تر سہولتوں بشمول بجلی، گیس، پانی اور ٹیلی فون سے مستفید رہے ہیں۔ پٹرول پمپس، سی این جی سٹیشنز، ہوٹلز، شادی ہال اور اس نوع کے دیگر کاروباروں کے لیے مختلف محکموں سے اجازتیں لی گئی ہیں، نقشے پاس کروائے گئے ہیں اور حتیٰ کہ قومی شیڈولڈ بینکوں سے کاروباری قرضے تک لیے گئے ہیں۔ ان تمام کاروباروں کو ریاست کیسے غیر قانونی قرار دے سکتی ہے؟ اگر یہ غیر قانونی ہیں تو سب سے پہلے تو ان تمام سیاسی حکومتوں کے خلاف سخت ترین کارروائیاں ہونی چاہییں اور اس کے ساتھ ساتھ ان تمام سرکاری محکموں، وزارتوں، اداروں اور اہلکاروں کے خلاف، خواہ وہ ریٹائرڈ، حاضر سروس، زندہ یا مردہ ہوں، عبرتناک کارروائیاں ہونی چاہییں جنہوں نے سہولت کاری اور چشم پوشی کی۔ جن لوگوں کا ناجائز نقصان ہوا ہے، ان سے معافی مانگنی چاہیے اور ان کے نقصانات کی تلافی ہونی چاہیے۔ اسی تناظر میں جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن کے مفتی محمود مرکز کا جائزہ لیتے ہیں۔ حکومت نے باقاعدہ نوٹس جاری کرکے اور نشانات لگا کر مرکز کے بعض حصوں کی بطور تجاوزات نشاندہی کی۔ مولانا ڈٹ گئے۔ کھلم کھلا چیلنج دیا کہ ہمت ہے تو ہاتھ لگا کر دکھاو۔ جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لو اور باقاعدہ رضاکار دستے مرکز میں تعینات کر دیے گئے۔ پارٹی کے اہم رہنماؤں نے واضح بیانات داغے اور اراکینِ پارلیمان نے ڈیوٹیاں سنبھال لیں۔ رات گئے اطلاعات آئیں کہ انتظامیہ اور جے یو آئی کے مذاکرات کے نتیجے میں مفتی محمود مرکز کے خلاف کارروائی روک دی گئی۔ کیوں؟ اگر مفتی محمود مرکز قانونی تھا تو حکومت نے اسے گرانے کا حکم کیوں صادر کیا؟ اور اگر مفتی محمود مرکز غیر قانونی تھا تو اسے مولانا کے دھمکانے پر استثنا کیوں دیا گیا؟ اور اسی قانون کے مطابق عام شہریوں سے کیوں ایسا سلوک نہیں روا رکھا گیا جو مولانا کے ساتھ کیا گیا؟ کیا حکومت جھوٹی ہے؟ کیا حکومت کمزور ہے؟ کیا مولانا کی چڑھائی نے گورنر کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا؟ کیا حکومت حق پر ہے مگر ڈرپوک ہے؟ ان سب میں تو کوئی ایک بات درست ہوگی؟ وہ درست بات کون سی ہے؟ عوام کا حق اور حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ سچ سامنے لے آئے۔ وقتی مصلحت تو نہیں مانی جا سکتی کیونکہ مصلحت کا تقاضا تھا کہ یہ بے وقت کی راگ ابھی نہ چھیڑی جاتی۔ امن و امان اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ طرزِ حکمرانی کو اندازِ خدمت میں تبدیل کرنا چاہیے تھا۔ عوام کے بنیادی مسائل کی طرف متوجہ ہو کر ریلیف دینی چاہیے تھی۔ گزشتہ 13 سال کی کرپشن کو بے نقاب کرکے بے رحمانہ احتساب کیا جاتا اور حکومت پر گرفت مضبوط ہونے اور کارکردگی دکھانے کے بعد پھر تجاوزات اور دیگر مسائل کے حل کی طرف پیش رفت ہوتی۔ گورنر اور نظام دونوں نے خود کو بند گلی میں لا کر کھڑا کر دیا۔ پہلے ہی مرحلے پر شکست قبول کرکے پسپائی اختیار کی گئی۔ ایسی کمزور حکمرانی آنے والے دنوں میں اصلاحاتی ایجنڈے کی ناکامی کی بنیاد رکھ چکی ہے۔
واپس کریں