دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دہشت گردی کا علاج یا جمہوریت کی معطلی؟ خالد خان
No image خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور قبائلی اضلاع کے لیے ایک نامزد کونسل کے قیام پر بحث ہو رہی ہے۔ کوئی کونسل میں شامل افراد پر اعتراض کر رہا ہے، کوئی ملکان کی نمائندگی پر سوال اٹھا رہا ہے، کوئی پی ٹی آئی کی حکومت کو ہٹانے کے طریقۂ کار پر بات کر رہا ہے اور کوئی اسے پرانے قبائلی نظام کی بحالی کی کوشش قرار دے رہا ہے۔ یہ تمام سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن میرے نزدیک اس پورے معاملے کا سب سے بنیادی اور سنگین پہلو ابھی بحث کے مرکز میں نہیں آیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کی وجوہات کیا ہیں، ان وجوہات کو پیدا کرنے میں ریاستی پالیسیوں کا کیا کردار رہا ہے اور صوبے کے جمہوری اختیار کو وفاق کے ہاتھ میں دینے سے ان مسائل کا حل کیسے نکلے گا؟
سب سے پہلے ایک بات واضح ہونی چاہیے۔ کسی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا، اس کا احتساب کرنا اور اس کی ناکامیوں کی نشاندہی کرنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اگر خیبر پختونخوا میں برسوں سے حکومت کرنے والی پی ٹی آئی امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار اور انتظامی امور میں ناکام رہی ہے تو اس کا حساب ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ایک معاملہ ہے اور صوبے کے جمہوری اختیار کو محدود کرکے اس کے سیاسی و انتظامی مستقبل کے فیصلے وفاق کے ہاتھ میں دے دینا دوسرا معاملہ ہے۔ ان دونوں کو ایک سمجھنا درست نہیں۔
فرض کریں کہ کسی حکومت کو ہٹانے کا طریقۂ کار قانونی طور پر درست بھی ہو، تب بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ اس کے بعد قائم ہونے والے انتظامی بندوبست کا مینڈیٹ کیا ہے؟ کیا اس کا مقصد صرف امن و امان کی بحالی ہے یا صوبے کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لانا بھی ہے؟ کیا صوبائی اسمبلی اپنا آئینی کردار ادا کرتی رہے گی؟ کیا اسی اسمبلی کے ذریعے نئی حکومت قائم ہوگی؟ اگر اسمبلی تحلیل کی جائے گی تو نئے انتخابات کب ہوں گے؟ اور اگر صوبے کو غیر معینہ مدت تک وفاقی انتظام کے تحت چلانے کا کوئی ارادہ نہیں تو جمہوریت کی طرف واپسی کا واضح منصوبہ کیا ہے؟
ان سوالات کے جواب محض یہ کہہ کر نہیں دیے جا سکتے کہ حالات غیر معمولی ہیں اور غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ غیر معمولی حالات میں بھی آئین، قانون اور عوام کے سیاسی حقوق کی اہمیت ختم نہیں ہو جاتی۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کوئی مستقل طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ آئین کے تحت مخصوص حالات کے لیے مقرر کردہ غیر معمولی انتظام ہے۔ اس کے اختیارات، مدت اور حدود کا تعین آئین اور متعلقہ قانونی حکم نامے کے مطابق ہونا چاہیے۔
لیکن میرے نزدیک اس بحث کا سب سے اہم پہلو دہشت گردی کی وجوہات ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوال اٹھایا ہے کہ قبائلی اضلاع میں مسلح گروہوں کے مراکز کیسے قائم ہوئے، انہیں وسائل اور پناہ گاہیں کیسے ملیں اور وہ اتنے طاقت ور کیسے بنے کہ آج ریاست کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکے ہیں؟
پاکستان کی افغانستان سے متعلق ماضی کی پالیسیوں کا تاریخی ریکارڈ موجود ہے۔ سوویت مداخلت کے خلاف افغان مجاہدین کی حمایت، افغانستان میں اپنے تزویراتی مفادات کے حصول کی کوششیں، بعد کے ادوار میں طالبان کے ساتھ روابط اور مختلف مسلح گروہوں کے بارے میں ریاستی پالیسیوں میں فرق، یہ سب ایسے معاملات ہیں جن کا جائزہ لیے بغیر خطے میں عسکریت پسندی کی پوری کہانی نہیں سمجھی جا سکتی۔ مختلف ادوار میں ریاست نے بعض مسلح گروہوں کو اپنے علاقائی مفادات کے لیے مفید سمجھا، جبکہ بعض دوسرے گروہوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ اس امتیازی طرزِ عمل کے نتائج بھی سامنے آئے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر دہشت گرد تنظیم ریاست کی پیدا کردہ ہے یا آج ہونے والا ہر حملہ کسی ریاستی منصوبے کا نتیجہ ہے۔ مسلح تنظیموں کے اپنے مفادات، نظریات، حکمت عملیاں اور سرحد پار روابط بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سوال بھی اتنا ہی جائز ہے کہ ماضی میں جن گروہوں کو کسی تزویراتی مقصد کے لیے جگہ یا حمایت ملی، ان کے پھیلاؤ اور بعد میں پیدا ہونے والے خطرات کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟
کیا ریاستی پالیسیوں کا احتساب صرف اس وقت ہوگا جب ان کے نتائج کسی دوسری حکومت کے دور میں سامنے آئیں گے؟ کیا ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کیے بغیر ان کے اثرات ختم کیے جا سکتے ہیں؟ اور کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری نہیں کہ ریاست ان تمام پالیسیوں کا جائزہ لے جنہوں نے عسکریت پسندی کو فروغ دینے یا اسے برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ دہشت گردی محض کسی ایک صوبائی حکومت کی کارکردگی کا نام نہیں۔ بلوچستان میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کے باوجود دہشت گردی کا مسئلہ موجود ہے۔ پنجاب اور سندھ میں بھی حکومتوں کی انتظامی قوت کے باوجود منظم جرائم اور کچے کے ڈاکوؤں جیسے مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اگرچہ ان مسائل کی نوعیت اور اسباب ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن یہ مثالیں ضرور بتاتی ہیں کہ حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی یا اختیارات کو مرکز میں مرتکز کرنا بذاتِ خود امن کی ضمانت نہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، پولیس اور عدالتی نظام، سرحدی انتظام، مالی وسائل کی نگرانی اور مسلح گروہوں کے خلاف مستقل کارروائیاں ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ ان محرومیوں، سیاسی تنازعات اور سماجی حالات کو بھی سمجھنا ہوگا جن سے عسکریت پسند فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ریاست صرف طاقت کے استعمال پر انحصار کرے اور اپنی پالیسیوں کے نتائج کا جائزہ نہ لے تو مسئلہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بنیادی اسباب برقرار رہ سکتے ہیں۔
قبائلی اضلاع کی صورت حال میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے۔ ان علاقوں کے عوام نے انتخابات میں اپنے نمائندے منتخب کیے، پاکستان کے آئینی نظام میں شمولیت اختیار کی اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے ذریعے ایک نئے سیاسی و انتظامی دور کی امید باندھی۔ انضمام کے بعد تعلیم، صحت، پولیس، عدالتوں، مقامی حکومتوں اور بنیادی شہری حقوق کے نظام کو مؤثر بنانا ریاست کی ذمہ داری تھی۔ اگر ان شعبوں میں مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی تو اس ناکامی کا جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن کیا اس کا حل یہ ہے کہ عوامی نمائندگی کو محدود کرکے ایک نامزد کونسل کے ذریعے ان علاقوں کا مستقبل طے کیا جائے؟
اس کونسل میں کون شامل ہے، کون شامل نہیں اور کن طبقات کو نمائندگی نہیں ملی، یہ سب اہم سوالات ہیں۔ مگر ان سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ اس کونسل کو اختیار کس نے دیا، اس کے اختیارات کی آئینی بنیاد کیا ہے، اس کے فیصلوں پر نگرانی کون کرے گا اور قبائلی عوام کے منتخب نمائندوں کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہوگا۔ اگر اس کا مقصد صرف مشاورت ہے تو اسے صوبے کے جمہوری نظام کا متبادل بنانے کی ضرورت کیا ہے؟ اور اگر اسے وسیع انتظامی اختیارات دیے جا رہے ہیں تو ان کی قانونی حدود اور مدت واضح کیوں نہ ہوں؟
اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال ہے کہ کیا اس غیر معمولی بندوبست کے ذریعے قبائلی اضلاع کی آئینی حیثیت یا صوبے کے ساتھ انضمام کے عملی نتائج میں بنیادی تبدیلی لانے کا ارادہ ہے؟ اگر ایسا کوئی ارادہ نہیں تو حکومت کو اس کی واضح ضمانت دینی چاہیے۔ اگر کوئی تبدیلی زیر غور ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جائے، اس کی آئینی بنیاد بیان کی جائے اور متعلقہ قانونی و جمہوری تقاضے پورے کیے جائیں۔ صوبے کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کے مستقبل سے متعلق فیصلے ان کی مرضی، آئینی حقوق اور منتخب نمائندگی کو نظرانداز کرکے نہ کیے جائیں۔
معدنی وسائل کے معاملے میں بھی شفافیت ضروری ہے۔ اگر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایمرجنسی یا نئے انتظامی بندوبست کے ذریعے صوبے کے وسائل پر اختیار کی نوعیت تبدیل کی جا سکتی ہے تو حکومت کو متعلقہ پالیسی، قانونی دستاویزات اور عملی منصوبہ سامنے رکھنا چاہیے۔ کسی غیر ثابت شدہ الزام کو حقیقت قرار دینا درست نہیں، لیکن ایسے سنجیدہ خدشات کو محض سیاسی بیان کہہ کر نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں۔
پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ ریاستی اداروں، صوبوں اور عوام کے درمیان اعتماد ہے۔ یہ اعتماد اس وقت مضبوط ہوگا جب ریاست اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ لینے کے ساتھ اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری بھی قبول کرے گی۔ اگر ماضی کی پالیسیوں نے عسکریت پسندی کو جگہ دی، اگر بعض گروہوں کے بارے میں غلط فیصلے کیے گئے اور اگر انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں شہری اداروں کو مؤثر بنانے میں کوتاہی ہوئی تو ان تمام معاملات کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی صوبے میں سیاسی اختلاف یا خراب حکمرانی کا علاج مستقل انتظامی مرکزیت نہیں۔ وفاق کی مضبوطی صوبوں کے جمہوری اختیار کو کم کرنے سے نہیں بلکہ آئین کی پابندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اداروں کی جواب دہی اور عوامی اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی قوت ضروری ہے، لیکن اس قوت کو واضح قانونی حدود، سیاسی حکمت اور عوامی حمایت کے ساتھ استعمال کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ہم دہشت گردی کی علامات کا علاج کر رہے ہیں یا اس کی وجوہات تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اگر مسئلے کی جڑیں ماضی کی علاقائی پالیسیوں، مسلح گروہوں کے بارے میں امتیازی رویوں، کمزور شہری اداروں اور سیاسی محرومیوں میں بھی موجود ہیں تو پھر صرف صوبائی حکومت کو ہٹانے اور وفاقی اختیار بڑھانے سے مسئلہ حل ہونے کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے؟
ریاست کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی، ماضی کی پالیسیوں کے نتائج، قبائلی اضلاع کے انضمام پر عمل درآمد اور موجودہ ایمرجنسی کے آئینی جواز و مدت کے بارے میں واضح مؤقف پیش کرے۔ ساتھ ہی صوبے کی منتخب جمہوری حکومت کی بحالی کا قابلِ فہم اور آئینی راستہ بھی عوام کے سامنے رکھے۔
ہم کسی جماعت کے وکیل نہیں اور نہ کسی ادارے کے مخالف محض مخالفت کی خاطر ہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ فیصلے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، ان کے نتائج کیا ہوں گے اور ان کا حساب کون دے گا؟
دہشت گردی کا علاج صرف اختیار کی منتقلی نہیں؛ اس کے اسباب کی درست تشخیص، ماضی کی غلطیوں کا اعتراف، مؤثر شہری اداروں کی تعمیر اور عوام کے آئینی و جمہوری حقوق کا تحفظ ہے۔ بیماری کی وجوہات کو نظرانداز کرکے صرف انتظامی بندوبست بدلنے سے شاید اقتدار کا طریقہ بدل جائے، لیکن امن کی ضمانت نہیں ملتی۔
واپس کریں