دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کل چھاپہ خانہ، آج چیٹ جی پی ٹی! خالد خان
No image ہماری قوم کا ایک عجیب المیہ ہے۔ ہم نئی چیز کو سمجھنے، سیکھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے پہلے اس کا مذاق اڑاتے ہیں، اس کے خلاف دلائل تراشتے ہیں، استعمال کرنے والوں کو طعنے دیتے ہیں اور جب دنیا اس چیز کو اپنا کر آگے نکل جاتی ہے تو ہم بھی خاموشی سے اسے اپنا لیتے ہیں۔ پھر نہ اپنی سابقہ مخالفت یاد رہتی ہے، نہ اس شخص سے معذرت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جسے کبھی اسی چیز کے استعمال پر جاہل، گمراہ یا بے وقعت سمجھا جاتا تھا۔
آج کل مصنوعی ذہانت، بالخصوص چیٹ جی پی ٹی، ہمارے اسی اجتماعی رویّے کا نیا نشانہ ہے۔ صحافت ہو یا تعلیم، کاروبار ہو یا عام زندگی، کسی نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے کوئی تحریر تیار کرلی تو فوراً آواز آتی ہے: ’’اوئے، تیری اپنی کیا حیثیت ہے؟ چیٹ جی پی ٹی سے لکھواتے ہو!‘‘ گویا کسی جدید آلے سے مدد لینا قابلیت کی دلیل نہیں بلکہ نااہلی کا اعتراف ہے۔ گویا انسان کی علمی حیثیت کا تعین اس بات سے ہوگا کہ اس نے کون سا آلہ استعمال کیا، نہ کہ اس نے کیا لکھا، کیا سمجھا، کتنی تحقیق کی اور اس کی بات میں کتنی سچائی ہے۔
ذرا تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھیں تو یہ رویّہ نیا نہیں۔ برصغیر میں جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے ساتھ مذہبی اور سماجی حلقوں میں مختلف نوعیت کے اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض اعتراضات مخصوص فقہی تشریحات پر مبنی تھے، بعض معاشرتی خدشات سے پیدا ہوئے اور بعض نئی چیز کے بارے میں لاعلمی کا نتیجہ تھے۔ ہمارے بعض بزرگوں اور مذہبی پیشواؤں نے بھی نئی ٹیکنالوجی کو قبول کرنے میں تحفظات ظاہر کیے۔ وقت نے مگر عجیب منظر دکھایا کہ جن چیزوں کے بارے میں کبھی سوال اٹھائے گئے، بعد میں وہی چیزیں مذہبی تعلیم، تبلیغ اور فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہونے لگیں۔
چھاپہ خانے ہی کو لے لیجیے۔ طباعت نے علم کو چند لوگوں کے ہاتھوں سے نکال کر عام لوگوں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ برصغیر میں انیسویں صدی کے دوران مطبوعہ کتابوں اور اخبارات کا دائرہ وسیع ہوا اور مسلم علمی حلقوں نے بھی رفتہ رفتہ اس ٹیکنالوجی کو اپنا لیا۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ طباعت نے علما کو اپنے علمی خیالات وسیع پیمانے پر پھیلانے کا موقع دیا اور مذہبی کتابوں کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آج ہمارے ہاں چھاپہ خانوں میں مذہبی کتابیں، رسائل، فتوے اور فرقہ وارانہ لٹریچر بڑی تعداد میں شائع ہوتا ہے۔ مذہبی اختلافات کو ہوا دینے والا مواد بھی اسی مشین سے نکلتا ہے جس نے علم کی اشاعت کے بے شمار امکانات پیدا کیے۔ مسئلہ چھاپہ خانے میں نہیں، اس ذہن میں ہے جو علم کے وسیلے کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جس ٹیکنالوجی سے انسان کی فکری دنیا وسیع ہوسکتی تھی، اسی سے اس کے ذہن کی تنگی بھی لاکھوں لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔
لاؤڈ سپیکر کی تاریخ بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ برصغیر کے بعض علما نے اس کے ذریعے نماز میں امام کی آواز سننے اور اس آواز کی شرعی حیثیت کے بارے میں اعتراضات اٹھائے۔ یہ ایک حقیقی فقہی بحث تھی۔ وقت کے ساتھ لاؤڈ سپیکر مذہبی اجتماعات، مساجد اور تبلیغ کا عام ذریعہ بن گیا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ اسی آلے کا استعمال بعض مقامات پر اس قدر بے احتیاطی سے کیا جاتا ہے کہ بیماروں، بچوں، طلبہ، بزرگوں اور رات کو آرام کرنے والے لوگوں کی نیند تک متاثر ہوتی ہے۔ جس ٹیکنالوجی کے شرعی استعمال پر کبھی بحث ہوتی تھی، آج اس کے معاشرتی استعمال میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔
یہاں اعتراض لاؤڈ سپیکر پر نہیں، اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر ہے۔ لیکن یہی تو اصل بات ہے کہ ٹیکنالوجی کو مسترد کرنے کے بجائے اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنا سیکھنا چاہیے۔ آواز پہنچانے کا آلہ ایجاد ہوا تھا، لوگوں کے آرام اور سکون کو پامال کرنے کا لائسنس نہیں۔
ریلوے کی آمد پر بھی برصغیر کے معاشرے میں طرح طرح کے خدشات پیدا ہوئے۔ نئی سواری نے سفر کے وقت، فاصلے اور معاشرتی میل جول کے تصورات بدل دیے۔ اس دور سے متعلق کئی دلچسپ قصے بھی مشہور ہوئے، جن میں یہ خیال بھی منسوب کیا جاتا ہے کہ انگریز ریل کے ذریعے ہندوستان کی زمین اکھاڑ کر برطانیہ لے جائیں گے۔اصل تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ریلوے جیسے بڑے تکنیکی انقلاب نے پرانے تصورات کو چیلنج کیا، اور اس تبدیلی کے بارے میں خدشات بھی پیدا ہوئے۔
بجلی کے بارے میں بھی مختلف معاشروں میں عجیب و غریب خدشات کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ برصغیر کے حوالے سے یہ قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ بجلی سے انگریز گھروں میں موجود عورتوں کو دیکھ سکیں گے۔ہمیں قصوں کو تاریخ بنانے کی ضرورت نہیں؛ تاریخ میں پہلے ہی اتنا مواد موجود ہے جو انسانی خوف، مزاحمت اور تبدیلی کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔
فوٹوگرافی، گراموفون، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پھر موبائل فون کے بارے میں بھی مختلف ادوار میں مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی اعتراضات سامنے آتے رہے۔ ان تمام معاملات میں ہر اعتراض بے بنیاد نہیں تھا اور نہ تمام علما مخالف تھے۔ لیکن جب کسی نئی ایجاد کے ہر ممکن استعمال کو اس کے غلط استعمال کے برابر سمجھ لیا جائے تو معاشرہ فائدے کے امکانات سے محروم ہونے لگتا ہے۔ ٹیلی ویژن کو فحاشی کا ذریعہ سمجھنے والے بھی موجود تھے، مگر آج یہی ذریعہ تعلیم، مذہبی تبلیغ، علمی مباحث اور معلومات کی فراہمی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ موبائل فون پر اعتراضات کرنے والوں سمیت تقریباً ہر طبقہ اب اسی آلے کے ذریعے اپنی بات دنیا تک پہنچاتا ہے۔
اب آئیے مصنوعی ذہانت کی طرف، جو ہمارے زمانے کی ایک بڑی تکنیکی تبدیلی ہے۔
مصنوعی ذہانت محض ایک مشین نہیں جو انسان کے لیے چند جملے لکھ دے۔ یہ تحقیق، معلومات کی درجہ بندی، زبانوں کے ترجمے، اعدادوشمار کے تجزیے، تدریس، کاروباری منصوبہ بندی، پروگرامنگ اور متعدد دوسرے شعبوں میں مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی اسی وسیع تر تبدیلی کا ایک نمایاں ذریعہ ہے۔ اس سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں، یہ فرضی حوالے بھی پیش کرسکتا ہے اور اس کی تیار کردہ تحریر میں غیر مصدقہ معلومات بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا اس کی ہر بات کو آنکھ بند کرکے قبول کرنا حماقت ہے۔ لیکن اس کی خامیوں کو بنیاد بنا کر اس کے تمام استعمال کو حقارت کی نظر سے دیکھنا بھی دانش مندی نہیں۔
صحافت کی مثال لے لیجیے۔ صحافی کمپیوٹر استعمال کرتا ہے، لغت سے مدد لیتا ہے، کتابوں اور اخبارات سے معلومات جمع کرتا ہے، ساتھیوں سے مشورہ کرتا ہے اور مدیر سے اپنی تحریر کی اصلاح کراتا ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو عموماً اس کی صحافتی حیثیت کے خلاف دلیل نہیں بنایا جاتا۔ پھر مصنوعی ذہانت سے مدد لینے پر ہی اس کی قابلیت کیوں مشکوک ہوجاتی ہے؟ کیا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ خبر درست ہے یا غلط، تجزیہ مضبوط ہے یا کمزور، دلیل منطقی ہے یا بے بنیاد، اور لکھنے والا اپنے مواد کی ذمہ داری قبول کرتا ہے یا نہیں؟
اگر کسی صحافی نے مصنوعی ذہانت سے مدد لے کر غلط خبر شائع کی ہے تو اس کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی طالب علم نے اس کے ذریعے نقل کی ہے تو تعلیمی دیانت کا سوال اٹھنا چاہیے۔ اگر کسی نے جعلی حوالہ یا گمراہ کن مواد تیار کیا ہے تو اسے بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ مگر اگر کسی نے اس سے تحقیق میں مدد لی، معلومات کو منظم کیا، زبان کی اصلاح کی یا اپنے وقت اور محنت کو بہتر انداز میں استعمال کیا تو محض اس بنیاد پر اسے کمتر سمجھنا کس اصول کے تحت درست ہے؟
اصل قابلیت ٹیکنالوجی سے بے نیاز ہونے میں نہیں، اسے سمجھ کر استعمال کرنے میں ہے۔ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی علم، سوال کرنے کی صلاحیت، تنقیدی شعور اور نتائج کو پرکھنے کی تربیت درکار ہے۔ جو شخص اس آلے سے درست سوال پوچھنا، اس کے جواب کی جانچ کرنا اور غلطی کی نشاندہی کرنا جانتا ہے، وہ اس سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اسے سمجھے بغیر رد کردیتا ہے۔
دنیا مصنوعی ذہانت کو تعلیم، صنعت، تحقیق، زراعت، صحت، تجارت اور سرکاری خدمات میں استعمال کرنے کے طریقے تلاش کررہی ہے۔ بڑی معیشتیں اور ادارے اس کے فوائد، خطرات اور حدود پر تحقیق کررہے ہیں۔ پاکستان کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اس تبدیلی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے یا محض دوسروں کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی کے صارفین کی صف میں کھڑا رہنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے تعلیم، تربیت، تحقیق، ڈیجیٹل سہولتوں اور ذمہ دارانہ استعمال کے اصولوں پر سرمایہ کاری ضروری ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی نئی مہارت کو اپنانے والے کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے بعض اوقات اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سیکھ رہا ہے تو اسے طعنہ دینے کے بجائے بہتر استعمال کی تربیت دینی چاہیے۔ اگر وہ غلطی کررہا ہے تو غلطی کی نشان دہی کیجیے۔ اگر اس کا کام کمزور ہے تو دلیل کے ساتھ تنقید کیجیے۔ مگر محض یہ کہہ کر اس کی تضحیک نہ کیجیے کہ اس نے چیٹ جی پی ٹی سے مدد کیوں لی۔
قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھتی ہیں۔ جو معاشرہ نئی چیز کو سمجھے بغیر رد کرتا ہے، وہ نہ صرف اس کے فوائد سے محروم ہوتا ہے بلکہ اپنے لوگوں میں تجربہ کرنے، سوال اٹھانے اور نئی مہارتیں حاصل کرنے کا حوصلہ بھی کم کرتا ہے۔ آج پاکستان کو پہلے ہی تعلیم، تحقیق، پیداوار اور عالمی مسابقت کے میدانوں میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو طعنہ بنا دینا کوئی دانش مندی نہیں۔
ہمیں مصنوعی ذہانت کی اندھی تقلید بھی نہیں کرنی اور اس سے اندھی نفرت بھی نہیں کرنی۔ ہمیں اسے سمجھنا، اس کی جانچ کرنا، اس کی غلطیوں سے بچنا اور اس سے فائدہ اٹھانا سیکھنا ہے۔ اس کے غلط استعمال کو روکنا ہے، مگر درست استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی۔
کل چھاپہ خانہ تھا، آج چیٹ جی پی ٹی ہے۔ کل نئی مشین کے بارے میں خدشات تھے، آج نئی ذہانت کے بارے میں ہیں۔ کل بھی اصل سوال یہ تھا کہ انسان اس ایجاد سے کیا کرتا ہے؛ آج بھی اصل سوال یہی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آج ہمارے پاس تاریخ سے سیکھنے کا موقع بھی ہے اور اپنی غلطیوں کو دہرانے سے بچنے کا علم بھی۔
اگر ہم نے اب بھی نئی ٹیکنالوجی کو سیکھنے کے بجائے اس کا مذاق اڑانا اپنا شعار بنائے رکھا تو دنیا کے پیچھے رہ جانے پر شکایت کرنے کا حق بھی خود ہی کمزور کردیں گے۔ ترقی کرنے والی قومیں نئی ٹیکنالوجی سے سوال ضرور کرتی ہیں، مگر سوال کرنے اور اسے سمجھے بغیر مسترد کردینے میں فرق جانتی ہیں۔ ہمیں بھی یہ فرق سیکھنا ہوگا۔
واپس کریں