ایران کی میزائل اور ڈرون کی پیداواری صلاحیت میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے

ایران کے پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی امریکی اقدام کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر امریکا نے کوئی نیا حملہ کیا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور سخت ہو گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جاری تنازع کے دوران بھی ایران کی میزائل اور ڈرون سازی کا عمل مسلسل جاری رہا جس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی عسکری صلاحیتوں میں کم از کم 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محبی نے متنبہ کیا کہ اگر امریکا نے محدود پیمانے پر بھی کوئی عسکری کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کا ایک شدید اور سنگین بحران جنم لے سکتا ہے۔
امریکا کے ساتھ عسکری کشمکش پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا اس سے قبل بھی اپنی تمام تر عسکری طاقت کے ساتھ اس تنازع میں شامل ہوا تھا لیکن وہ اپنے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا اور اسے سنگین اسٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ خطے میں قائم اکثر امریکی عسکری اڈے اس وقت غیر فعال ہوچکے ہیں، امریکا کے بیشتر آلات اور سازوسامان کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی افواج تھک ہار کر ایرانی ساحلوں اور سرحدوں سے سیکڑوں کلومیٹر پیچھے ہٹ چکی ہیں۔
واپس کریں