دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
میری برطرفی کا حکم
 شرافت رانا ایڈووکیٹ
شرافت رانا ایڈووکیٹ
2001 میں بطور سول جج پہلی پوسٹنگ سرگودہا میں ہوئی تھی ۔بالعموم سول ججز پریکٹس کیے بغیر آتے ہیں اور انہیں کام سیکھنے میں کافی وقت لگتا ہے ۔ میں جج بننے سے پہلے پانچ سال پریکٹیکل وکیل کے طور پر اچھا خاصا تجربہ حاصل کر چکا تھا ۔
پہلے دن سے کام کرنا شروع کر دیا ۔
یہ زمانہ قبل از افتخار چوہدری کا سلسلہ ہے ۔ اس دور میں 20 سال تک سول عدالت میں مقدمہ چلنا ایک معمول ہوا کرتا تھا ۔
چارج لینے کے بعد پہلے ہی دن اپنی عدالت میں زیر سماعت 20 پرانے ترین اور بھاری بھرکم ترین مقدمات کو نکالا جو 1990 کی دہائی کے تھے اور پہلے ہی مہینے میں فیصلہ کر دیا ۔
سرگودھا میں اس وقت معروف وکیل جو بعد ازاں ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے ۔ قابل احترام مسعود جہانگیر کا بول بالا تھا ۔
بلا شبہ مسعود جہانگیر بہت بڑے وکیل تھے ۔ لیکن ظاہر ہے ، فیس کے لیے کوئی بھی کسی بھی طرح کا مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے پہلے دو یا تین مہینوں میں ان کی طرف سے دائر کردہ کچھ مقدمات تعداد یاد نہیں لیکن روٹین میں چونکہ ایسا نہیں ہوتا تھا ، میں پہلی بار کر رہا تھا ۔
آرڈر 7 رول 11 جج کا ایک اختیار ہوتا ہے کہ وہ سمجھے کہ اس مقدمہ کے فیصلہ کرنے کی صورت میں بھی دعویٰ دائر کرنے والے کو کچھ نہیں ملتا تو وہ اسے پہلے دن ہی مسترد کر سکتا ہے ۔
اس کے تحت مسعود جہانگیر صاحب کے آفس کے کافی مقدمات مسترد ہو گئے ۔ فاضل وکیل موصوف جو بعد ازاں قابل احترام جج ہائی کورٹ بھی رہے ۔ ناراض ہو گئے اور انہوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو کہا کہ شرافت رانا کے پاس میرے مقدمات نہ لگائے جائیں ۔
16 سال بعد قابل احترام جسٹس مسعود جہانگیر میرا مقدمہ سننے کے لیے بطور اتھارٹی مقرر کیے گئے ۔
تصور کیجئے کہ انہوں نے میری فائل پڑھے بغیر کسی الزام بغیر کسی شہادت کے صرف اس بات پر میری برطرفی کے حکم سے اتفاق کیا ۔ کہ جب میں سول جج تھا اور وہ وکیل تھے تو انہیں میرے کام کرنے کے انداز نے نقصان پہنچایا تھا ۔
حالانکہ ان کے جو دعاوی میں نے مسترد کیے تھے ۔ وہ سپریم کورٹ تک ان کی جدوجہد لاحاصل ہوئی تھی اور کوئی بھی میرا حکم عدالت اپیل میں ریورس نہیں کیا گیا تھا ۔
تو عدالت میں بطور جج کام کرتے ہوئے بہت سارے دباؤ ہوتے ہیں ۔ عمومی طور پر سول جج حتی کہ سیشن جج صاحبان بھی خوفزدہ ہوتے ہیں کہ کیا پتہ کل کو کوئی وکیل کہاں پہنچ جائے یا اس کا تعلق ہائی کورٹ کے کسی جج کے ساتھ ہو تو وہ کچھ بھی خرابی پیدا کر سکتا ہے ۔ نقصان کر سکتا ہے اور یہ نقصان کیے جاتے ہیں ۔
یاد رہے کہ میری برطرفی کی جس رپورٹ پر قابل احترام جسٹس مسعود جہانگیر نے برطرفی کا حکم لکھا تھا ۔ جب وہ عدالت اپیل یعنی ہائی کورٹ میں پیش ہوئی تو فاضل جج مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے ہائی کورٹ کے وکیل سے پوچھا کہ آخر آفیسر ،جس کو برطرف کیا گیا ہے اس کے خلاف الزام کیا ہے ۔
ہائی کورٹ کے وکیل نے عدالت کے سامنے احترام سے جھک کر کہا کہ سر الزام تو مجھے نہیں مل پایا ۔ آپ کو کیسے ملے گا ۔ اور یوں میری برطرفی کا حکم عدالت نے غیر قانونی قرار دے کر میری بحالی کا حکم 20 اپریل 2018 کو کر دیا تھا ۔ جس پر آج تک بدقسمتی سے عمل درآمد نہیں ہو سکا باقی واقعہ بعد میں لکھوں گا ۔
واپس کریں