مہمان کالم
پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے خود اپنے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ لانگ مارچ سے شروع ہونے والی کشمکش مذاکرات کی ناکامی اور خیبر پختونخوا میںسکیورٹی کی بگڑتی صورت حال تک پہنچ چکی ہے۔گورنر راج کے معاملے نے پی ٹی آئی کو ایک نئے سیاسی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ یہ صورتحال صرف وفاقی حکومت کے فیصلوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس سیاسی حکمت عملی کا عکس بھی ہے جس میں مذاکرات کے مقابلے میں محاذ آرائی کو زیادہ اہمیت دی گئی۔
9 مئی 2023ءکو پی ٹی آئی کی سیاست سڑکوں پر تصادم تک پہنچی تو اس کے بعد عمران خان کی گرفتاری اور جماعت کیلئے مشکلات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ آج حالات مختلف ہیں لیکن سیاسی حکمت عملی میں تصادم کا عنصر نمایاں ہے۔ اس بار معاملہ عمارتوں اور سڑکوں سے آگے بڑھ کر صوبائی اقتدار اور آئینی اختیارات تک پہنچ گیا ہے۔ دونوں واقعات کو یکساں قرار دینا درست نہیں، مگر ایک سبق مشترک ہے جب سیاسی جماعت مذاکرات اور حکمت عملی کے بجائے تصادم کو اپنا بنیادی راستہ بنا لے تو اس کی سیاسی گنجائش محدود ہونے لگتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال اس بحران کا اہم ترین پہلو ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور صوبائی حکومت مطلوبہ تعاون فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ پولیس میں خالی اسامیوں جدید سازوسامان کی کمی اور جنوبی اضلاع میں سیکورٹی وسائل کی قلت جیسے نکات بھی حکومتی مؤقف کا حصہ ہیں۔اس تنازع میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیکورٹی کے مسائل حل کرنےکیلئے کیے گئے اقدامات واقعی بہتری لائیں گے؟ دہشت گردی کیخلاف جنگ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی اسکی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھے۔ اسی طرح وفاقی حکومت پر بھی لازم ہے کہ اسکے تمام اقدامات آئینی تقاضوں کے تابع ہوں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے حوالے سے ایوان میں کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ رابطوں اور ملاقاتوں کے دوران بار بار مؤقف تبدیل کیا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان سے بات کرانے اور پیغام ریکارڈ کرنے سمیت مختلف تجاویز پر پیش رفت ہوئی لیکن جماعت کی جانب سے تحفظات سامنے آتے رہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کو سیاسی حل کے بجائے احتجاج ختم کرانے کیلئے استعمال کیا گیا۔میرےبعض ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے قائدین بشمول سہیل آفریدی کی طرف سے،وفاقی وزیر داخلہ سے ملاقاتوںکیلئےایسے اوقات بھی مانگے جاتے جن میں تصاویر جاری نہ ہوں۔ پس پردہ سہولت حاصل کرنا اور عوامی سطح پر مسلسل محاذ آرائی کا تاثر دینا سیاسی حکمت عملی تو ہو سکتی ہے، مگر اس سے اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ سیاسی قیادت کا امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرے اور عوام کو بتائے کہ اس کی ترجیح تصادم ہے یا حل۔
پی ٹی آئی کیلئے مذاکرات شکست نہیں بلکہ سیاسی ضرورت ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ کہنا کہ سیاسی ماحول بننے پر وہ وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے، ایک ایسا موقع ہے جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تجویز بھی قابلِ غور ہے۔ اگر یہ پیشکش سنجیدہ ہے تو پی ٹی آئی کو اس پر واضح جواب دینا چاہیے۔ صوبے کے مفاد میں سیاسی اختلافات کے باوجود تعاون کرنا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے سامنے اب تین راستے ہیں۔ پہلا گورنر راج اور اختیارات کی منتقلی کے آئینی جواز کو عدالت میں چیلنج کرنا ، لیکن اسکے نتیجے کے بارے میں پیشگی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا راستہ پارلیمانی اور سیاسی مذاکرات ہیں، جہاں جماعت اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے صوبے کیلئےعملی حل تلاش کر سکتی ہے۔ تیسرا راستہ احتجاج کو مزید شدت دینا ہے۔ یہ کارکنوں کے جذبات کو متحرک تو کر سکتا ہے، لیکن اس سے حکومت کو مزید سخت اقدامات کا جواز بھی مل سکتا ہے۔
میرے نزدیک پی ٹی آئی کیلئے بہتر راستہ عدالتی جدوجہد، پارلیمانی دباؤ اور مشروط مذاکرات کا امتزاج ہے۔ اسے دہشت گردی کے خلاف تعاون کی واضح یقین دہانی کرانی چاہیے، جبکہ وفاقی حکومت کو بھی سیاسی اختلاف کو قومی سلامتی کا متبادل بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔ گورنر راج کی آئینی حیثیت، اسکے نفاذ کے طریقہ کار اور صوبائی اسمبلی کے مستقبل جیسے معاملات کو سیاسی نعروں کے بجائے قانون کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔ انتظامی اختیارات کی منتقلی اور اسمبلی کی تحلیل دو الگ معاملات ہیں۔
اس بحران کانقصان وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کو پہنچ سکتا ہے۔ اگر حکومت اختیارات تو اپنے ہاتھ میں لے لے لیکن دہشت گردی پر قابو پانےمیں واضح کامیابی حاصل نہ کر سکے تو اس کے فیصلے پر سوالات مزید بڑھیں گے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی اگر صوبے کے انتظامی مسائل اور سیکورٹی کی ذمہ داری سے صرف سیاسی انتقام کا بیانیہ بنا کر جان چھڑانے کی کوشش کرے گی تو وہ بھی عوام کے سامنے جواب دہ ہوگی۔پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال مشکل ضرور ہے، لیکن اسے جماعت کی سیاسی موت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اسکے پاس اب بھی عدالتی، پارلیمانی اور سیاسی راستے موجود ہیں۔
9 مئی کا سبق یہی تھا کہ سیاسی طاقت کو تصادم میں بدلنے کی قیمت طویل عرصے تک ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ آج پی ٹی آئی کے سامنے ایک اور موقع ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ سیاست میں اصل کامیابی مخالف کو شکست دینا نہیں بلکہ اپنے مینڈیٹ، اداروں اور عوام کے مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر پی ٹی آئی نے مذاکرات اور آئینی جدوجہد کو ترجیح دی تو اس کیلئے سیاسی راستہ اب بھی کھلا ہے۔ اگر اس نے ہر سمجھوتے کو شکست اور ہر اختلاف کو جنگ سمجھا تو ممکن ہے کہ وہ اپنا صوبہ ہی نہیں بلکہ قومی سیاست میں اپنی مؤثر حیثیت بھی مزید کمزور کر دے۔
واپس کریں