دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبر پختونخوا کے معدنی ٹھیکوں کی تحقیقات
No image وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا (کے پی) میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دور میں جاری کیے گئے معدنیات کے ہزاروں لائسنسوں کی شفاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ صوبائی معدنیات خیبر پختونخوا کے عوام کے تھے، ہیں اور رہیں گے لیکن بعض سیاستدانوں کا کے پی ایمرجنسی کو معدنیات سے جوڑنا قابلِ مذمت ہے۔ مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخوا کے حالات کو جانتے ہیں، انہیں نہ صرف دہشت گردی کے حوالے سے موقف واضح کرنا چاہیے بلکہ اِس کے خلاف جنگ میں ساتھ بھی دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا، صوبے میں تعمیر و ترقی کا جامع اور مربوط پروگرام ترتیب دیا جا چکا ہے، پہلے مرحلے میں شدید متاثرہ 12 اضلاع سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا،اِس دوران اِن اضلاع سے مقامی افراد کی کسی بھی قسم کی نقل مکانی نہیں ہوگی۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پہلے بھی جاری تھے، اب مزید تیزی آ رہی ہے، اِن اضلاع میں صوبائی حکومت کی مکمل عملدراری قائم کی جائے گی، پورے صوبے میں تعمیر و ترقی کے نئے سنہری دور کا آغاز ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کی کوششوں کو سبوتاژ نہ کیا جائے، کے پی حکومت نے کرپشن اور جیبیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ اْنہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی کوعمران خان نے اپوزیشن لیڈر بنایا لیکن خود اپوزیشن کی اکثریت چاہتی ہے کہ وہ حزب اختلاف کے لیڈر نہ رہیں، جے یو آئی بھی محمود اچکزئی کی جیت کو فارم 47 کی فتح قرار دے چکی، انہیں اِس حوالے سے پارلیمنٹ میں وضاحت دینی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے لیے حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، اپوزیشن بامعنی اور بامقصد گفتگو کرنا چاہے تو خوش آمدید کہا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے معدنی وسائل اور اِنہیں نکالنے کے لیے دیے جانے والے ہزاروں ٹھیکے گذشتہ کئی دنوں سے زیرِ بحث ہیں۔یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت اور صوبائی اسمبلی کو غیر فعال کر دیا تھا، صوبے بھر میں گورنر راج کے ساتھ ایمرجنسی نافذ کی گئی، گورنر صاحب کے ماتحت مشاورتی کونسل قائم کی گئی جبکہ 12 اضلاع کے لیے ایک خصوصی سیکریٹریٹ قائم کر کے اِسے اپنے ماتحت رکھا۔ معدنی وسائل کے حوالے سے بحث اس وقت شروع ہوئی جب 16 اکتوبر کو ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایاکہ معدنی وسائل سے مالا مال سابقہ قبائلی اضلاع میں گورنر راج نہیں بلکہ ایمرجنسی لگائی گئی ہے جو دراصل قوم کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے، پہلے 2018ء میں سابق قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کر کے پہاڑوں کے نیچے دبے معدنی ذخائر صوبے کی ملکیت بنا دیے گئے اور اب کیا وجہ ہے کہ پورے صوبے میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا۔ اِسی طرح کی گفتگو عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے بھی ایک بیان میں کی کہ سات ہزار ارب روپے کے معدنی وسائل والے 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگا کر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ایک مہم شروع کر دی گئی کہ 12 اضلاع کے ساتھ امتیازی سلوک دراصل ان معدنیات پر قبضے کی کوشش ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اِس دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے دور میں خیبر پختونخوا میں معدنیات نکالنے کے لائسنس تیزی سے بڑھے، عسکری اداروں کا اِس شعبے میں حصہ نہ ہونے کے برابر تھا۔اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی کسی عسکری ادارے کی طرف سے دائر نہیں کی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی آزادی سے لے کر 2010ء تک پورے کے پی میں صرف 482 مائننگ لائسنس جاری ہوئے لیکن پی ٹی آئی کی مسلسل صوبائی حکومتوں کے دوران یہ تعداد 2020ء تک ایک ہزار 762، فروری 2024ء تک تین ہزار 962 اور اب چار ہزار 917 تک پہنچ چکی تھی، یہ لائسنس وفاق نے نہیں بلکہ خود پی ٹی آئی حکومت نے دیے۔ مذکورہ لائسنسوں میں سے چار ہزار 133 آباد اضلاع جبکہ 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں، ایف ڈبلیو او کے پاس صرف ایک لائسنس ہے جو 2015ء میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے ماتحت چلنے والے کے پی کے منرل ڈیپارٹمنٹ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں پائی گئیں جبکہ غیر قانونی کان کنی کی وجہ سے صوبائی خزانے کو آٹھ ارب روپے کا براہِ راست نقصان پہنچا۔ پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت نادہندہ ٹھیکیداروں سے 4.31 ارب روپے اور لیز ہولڈرز سے 81 کروڑ روپے کے واجبات وصول کرنے میں بھی ناکام رہی۔ اِس کے مسائل حل کرنے کے لیے مقامی مِشران اور ملک صاحبان کی مشاورت سے ہر ضلعے سے دو عمائدین چننے اور اِن 24 ارکان پر مشتمل علاقائی ترقی کونسل تشکیل دی جا رہی ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ یہاں سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی روایت بہت عام ہو گئی ہے، جس کا دل کرتا ہے وہ کسی پر بھی انگلی اٹھانا شروع کر دیتا ہے، اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔عین ممکن ہے کہ یہ خبریں ان کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہوں جنہیں کوئی ڈر ہو یا پھر وہ لائسنس کے معاہدوں پر پورا نہ اترتے ہوں۔بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے اب تک واجب الادا اربوں روپے ٹھیکداروں سے واپس نہیں لیے اور اب جب تحقیقات ہوں گی تو واضح ہو جائے گا کہ در حقیقت کس نے فائدہ اٹھایا۔ پی ٹی آئی کے متعلقہ سابق صوبائی وزیر کے مطابق لائسنسوں کی تعداد میں اضافہ صوبے کی آمدن بڑھانے کے لیے کیا جاتا رہا۔ ملک کے ہر صوبے میں معدنی ذخائر موجود ہیں۔ سندھ میں تھر کول فیلڈ کے تحت 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جو ملک کی بجلی کی بڑی ضرورت کو پوری کرتے ہیں۔ پنجاب میں دنیا کی دوسری بڑی کھیوڑا نمک کی کان، چنیوٹ میں لوہے کے وسیع ذخائر جبکہ پوٹھوہار میں تیل اور گیس موجود ہیں جو ملکی سیمنٹ اور تعمیراتی صنعت کو چلاتے ہیں۔ بلوچستان اور گِلگت بلتستان میں بھی بے شمار معدنی ذخائر پائے جاتے ہیں لیکن کسی دوسرے صوبے میں ایسی بحث کبھی سامنے نہیں آئی۔ کے پی کے معدنی ذخائر پر صوبے کے عوام کا مکمل حق ہے، حکومت کو چاہئے کہ مذکورہ کم و بیش پانچ ہزار لائسنسوں کے اجراء سمیت اِن کے لین دین کی شفاف تحقیقات کرائے اور حقائق عوام کے سامنے رکھے۔
واپس کریں