دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غزہ میں صہیونی مظالم جاری، مسلم دنیا خاموش تماشائی کیوں؟
No image غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا اعلان ہوئے مہینے گزر چکے ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہاں خون بہنے کا سلسلہ تھما نہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں چار فلسطینی شہید اور نو زخمی ہوئے۔ وزارت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک ایک ہزار پانچ سو پانچ فلسطینی جان سے جا چکے ہیں اور پانچ ہزار تین سو بتیس زخمی ہوئے ہیں۔ جنگ کے آغاز سے شہداء کی مجموعی تعداد چوہتر ہزار تین سو چھیانوے تک پہنچ چکی ہے۔ ادھر، اقوامِ متحدہ کو ایک بار پھر امدادی کارکنوں کے تحفظ پر زور دینا پڑا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ جنگ بندی کا لفظ تو موجود ہے مگر اس کی روح کہیں کھو چکی ہے۔ جس خطے میں روٹی اور دوا پہنچانے والے ہاتھ بھی محفوظ نہ ہوں وہاں امن کا دعویٰ ایک تلخ مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔
ادھر، آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیائی ممالک کی تنظیم ’کانفرنس آن انٹرایکشن اینڈ کانفیڈنس بلڈنگ میٹرز ان ایشیا‘ کے سربراہی اجلاس میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے خطاب شروع کیا تو پاکستان، ترکیہ اور بنگلہ دیش کے وفود احتجاجاً ہال سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔ ترک وزیر خارجہ بھی اپنے وفد کے ہمراہ باہر نکل گئے۔ یہ واک آؤٹ بلاشبہ ایک باوقار اور اصولی ردعمل تھا جس نے بتایا کہ غزہ کے مظلوموں کے درد کو مسلم ممالک بھولے نہیں ہیں مگر اس منظر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک مسلم اکثریتی ملک کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں اس شخص کو خطاب کا موقع کیوں ملا جس کی ریاست پر غزہ میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کا الزام ہے؟ اور کیا چند وفود کا ہال سے نکل جانا اس بڑی تصویر کو بدل سکتا ہے جس میں ناجائز صہیونی ریاست کے لیے مسلم دنیا کے دروازے آہستہ آہستہ کھلتے جا رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں مسلم دنیا کے اندر اسرائیل کا سفارتی، معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ 2020ء میں ابراہیمی معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کیا، پھر مراکش اور سوڈان بھی اسی راستے پر چلے۔ مصر اور اردن پہلے ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھتے تھے۔ آذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں گہرے روابط کی خبریں برسوں سے سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب فلسطین کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ جس اصول پر مسلم دنیا کبھی متفق تھی کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں آئیں گے وہ اصول بتدریج کمزور پڑتا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بعض حکومتیں ناجائز صہیونی ریاست کو تنہا کرنے کی بجائے اس کے ساتھ کاروباری معاہدے کر رہی ہیں اور اس کے رہنماؤں کے لیے سرخ قالین بچھا رہی ہیں۔
یہ رجحان افسوس ناک اس لیے ہے کہ یہ ان لاکھوں فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو اس وقت ملبے، بھوک اور بیماری کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ جب غزہ میں اسپتال تباہ ہوں، خاندان کے خاندان مٹ جائیں اور بچے خیموں میں سردی سے ٹھٹھر رہے ہوں تو اس وقت غاصب صہیونیوں کے ساتھ تعلقات کی گرم جوشی اخلاقی طور پر ناقابلِ فہم ہے۔ مسلم عوام کے جذبات اس معاملے میں بالکل واضح ہیں۔ پاکستان سے انڈونیشیا اور مراکش سے ترکیہ تک عام لوگ سڑکوں پر نکلتے رہے ہیں مگر حکومتوں اور عوام کے درمیان یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ جب عوام کی آواز اور ریاستی پالیسی کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا ہو جائے تو اس کے نتائج صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ داخلی استحکام اور اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
اس صورتحال کے اسباب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ سب سے بڑا سبب مسلم دنیا کا باہمی انتشار ہے۔ ہر ملک اپنے معاشی مفادات، اپنی سلامتی کی فکر اور اپنے بڑے اتحادیوں کے دباؤ کے تحت فیصلے کر رہا ہے۔ کہیں امریکا کی خوشنودی پیشِ نظر ہے، کہیں دفاعی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے تو کہیں علاقائی حریف کے مقابلے میں نئے اتحادیوں کی تلاش ہے۔ صہیونیوں نے ہماری اس کمزوری کو خوب پہچانا ہے۔ وہ تعلقات کو زراعت، پانی، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی ایسی پیشکشوں کے ساتھ جوڑتا ہے جو ترقی پذیر ممالک کے لیے پرکشش ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) جیسا پلیٹ فارم جو مسلم دنیا کی اجتماعی آواز ہونا چاہیے تھا اکثر مذمتی بیانات سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ جب ایک پلیٹ فارم صرف قراردادیں منظور کرے اور عملی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نہ دکھائے تو مخالف اسے سنجیدگی سے کیوں لے گا؟
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ باکو میں ملاقات کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اسرائیلی صدر ہرزوگ سے کہا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے میں بستیوں کے ’جبری قیام‘ کا فیصلہ روکنا اور واپس لینا چاہیے۔ بیجنگ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسئلہ فلسطین اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو بات ایک غیر مسلم عالمی طاقت اسرائیلی صدر کے منہ پر کہہ رہی ہے وہ بات بعض مسلم ممالک اتنی صراحت سے کہنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع بذاتِ خود عالمی قانون کے تناظر میں ایک متنازع معاملہ ہے اور فلسطینی ریاست کے امکان کو عملاً ختم کرنے کی کوشش سمجھی جاتی ہے۔ اگر مسلم دنیا اس پر بھی یک آواز نہ ہو سکے تو پھر مسئلہ فلسطین کا حل کیسے ممکن ہو پائے گا؟
مسلم ممالک کو کم از کم چند بنیادی نکات پر ایک مشترکہ اور واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔ یہ ضروری نہیں کہ سب ملکوں کی خارجہ پالیسی یکساں ہو مگر یہ ضرور ہونا چاہیے کہ غزہ میں جاری نسل کشی، امداد کی بندش اور مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع جیسے معاملات پر کوئی ابہام نہ ہو۔ اگر تعلقات رکھنے والے ممالک بھی یہ واضح کر دیں کہ ان تعلقات کی قیمت فلسطینیوں کی خاموشی نہیں اور وہ اپنے سفارتی روابط کو جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کریں تو یہ ایک عملی پیش رفت ہوگی۔ سفارتی تعلقات اگر مؤثر ہوں تو وہ دباؤ کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ انھیں مظلوم کی حمایت کے لیے برتا جائے نہ کہ ظالم کی قابلِ قبول بنانے کے لیے۔
مسلم دنیا آج ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جس طرف انتشار، وقتی مفادات اور بڑھتی ہوئی خاموشی ہے جس کا انجام یہ ہوگا کہ فلسطین کا مسئلہ آہستہ آہستہ عالمی ایجنڈے سے غائب ہو جائے گا اور ناجائز صہیونی ریاست کا اثر و رسوخ مزید بڑھے گا۔ دوسرا راستہ اتحاد، اصول پسندی اور مشترکہ حکمتِ عملی کا ہے جو مشکل ضرور ہے مگر یہی عزت اور مؤثر کردار کا راستہ ہے۔ غزہ کے شہداء اور زخمی ہم سے صرف ہمدردی کے الفاظ نہیں مانگتے وہ عملی اقدام کا تقاضا بھی کرتے ہیں۔ باکو کے ہال سے اٹھ کر جانے والے وفود نے ایک پیغام تو دیا مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہی اصول مذاکرات کی میز، تجارتی معاہدوں اور سفارتی فیصلوں میں بھی نظر آئے گا؟ اگر مسلم ممالک نے اس حوالے سے آج اپنے معاملات درست نہ کیے تو صہیونی صرف فلسطین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ گریٹر اسرائیل کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ہر اس خطے تک پہنچیں گے جسے انھوں نے اپنے نقشے میں شامل کر رکھا ہے۔
واپس کریں